ہیڈلائنز

شہزاد نیرؔ کے شعری مجموعے ’’نمک‘‘ کی تقریبِ پذیرائی

لاہور (نیاتادیب) — نظم و غزل کے معروف شاعر میجر (ر) شہزاد نیرؔ کے پانچویں شعری مجموعے ’’نمک‘‘ کی تقریبِ پذیرائی مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی۔ تقریب کا اہتمام معتبر ادبی تنظیم ’’کارواں‘‘ نے کیا تھا، جس کی صدارت معروف شاعر غلام حسین ساجد نے کی۔ ڈاکٹر شاہد اشرف، ڈاکٹر افتخار الحق اور دیگر اہلِ قلم نے مقالے پیش کیے۔

مقالہ نگاروں نے شہزاد نیرؔ کے فکر و فن کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ وہ عصرِ حاضر میں نظم و غزل کا ایک معتبر حوالہ ہیں۔ اپنی مسلسل تخلیقی ریاضت کے ذریعے انہوں نے اردو شاعری کو نئے موضوعات اور فکری جہات سے روشناس کرایا ہے۔ ان کا اسلوب روایت سے جڑا ہونے کے باوجود جدید حسیت کا حامل ہے۔ میرا جی، ن۔ م۔ راشد، مجید امجد، منیر نیازی اور اختر حسین جعفری جیسے بڑے نظم نگاروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ شہزاد نیرؔ کی شاعری فکر کے نئے دریچے وا کرتی اور جدید انسان کے فکری سوالات کو جرأت مندی سے موضوع بناتی ہے۔ ان کے ہاں فن اور فکر کا متوازن امتزاج نمایاں ہے۔

شہزاد نیرؔ نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے بتایا کہ تیرہ برس کے وقفے کے بعد ان کا یہ نظمیہ مجموعہ شائع ہوا ہے، جس میں بے باکی اور صدقِ بیانی سے عبارت نظمیں شامل ہیں۔ بعض موضوعات ایسے ہیں جن پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ ان کے بقول حریتِ فکر اور جرأتِ اظہار نسلِ انسانی کے قیمتی اثاثے ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں یہ اثاثے مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔ جبر کی مختلف صورتیں اظہار کی راہ میں حائل ہیں، تاہم سچا فنکار مزاحمت کا راستہ ترک نہیں کرتا بلکہ فنی تقاضوں کی پاسداری کرتے ہوئے علامت اور ایہام کے ذریعے اپنے عہد کی تصویر کشی کرتا رہتا ہے۔ انہوں نے تقریب کے انعقاد پر کارواں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

صدرِ محفل غلام حسین ساجد نے کہا کہ وہ شہزاد نیرؔ کی نظم اور غزل کو طویل عرصے سے پڑھ رہے ہیں۔ ان کے اسلوب اور فکر میں ایسی پختگی ہے جو انہیں ہم عصروں میں ممتاز کرتی ہے۔ وہ ان کے فنی و فکری سفر کے ناظر اور مشاہد ہیں۔

مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر شاہد اشرف، انصر منیر، نوید صادق، ڈاکٹر افتخار الحق اور منظر اعجاز شامل تھے۔ تقریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہلِ ذوق نے بھرپور شرکت کی۔ اختتام پر کتاب پر دستخط کا اہتمام کیا گیا، جہاں حاضرین نے شاعر کے دستخط شدہ نسخے بھی حاصل کیے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading