پاکستان میں تیزاب گردی کا ذکر آتے ہی عموماً ہمارے ذہن میں خواتین اور لڑکیوں پر ہونے والے وحشیانہ حملوں کی تصویریں ابھرتی ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ درست ہے کہ پاکستان میں تیزاب حملوں کی بڑی تعداد خواتین کے خلاف ہوتی ہے، جن کے پیچھے شادی سے انکار، گھریلو تشدد، جہیز، غیرت کے نام پر انتقام، اور پدر سری سماجی رویے جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ مگر اس سنگین مسئلے کا ایک نسبتاً کم زیرِ بحث پہلو یہ بھی ہے کہ لڑکے اور مرد بھی تیزاب گردی کا نشانہ بنتے ہیں۔ ان کی کہانیاں اکثر خبر کی چند سطروں میں دفن ہو جاتی ہیں، مگر ان کے زخم بھی اتنے ہی گہرے، ان کی تکلیف بھی اتنی ہی حقیقی، اور ان کی بحالی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
تیزاب حملہ صرف جسم پر حملہ نہیں ہوتا؛ یہ انسان کی شناخت، چہرے، عزتِ نفس، روزگار، رشتوں، سماجی زندگی اور مستقبل پر حملہ ہوتا ہے۔ جس شخص پر تیزاب پھینکا جاتا ہے، وہ ایک ہی لمحے میں کئی سطحوں پر متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کا جسم جلتا ہے، آنکھیں متاثر ہو سکتی ہیں، چہرہ بگڑ سکتا ہے، مسلسل سرجریوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے، اور سب سے بڑھ کر وہ نفسیاتی طور پر ایک ایسے صدمے سے گزرتا ہے جس کا علاج صرف دوائی یا آپریشن سے ممکن نہیں ہوتا۔ معاشرہ اگر اس کے زخموں کو ہمدردی کے بجائے تماشے کی نگاہ سے دیکھے تو یہ تکلیف اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان میں دستیاب رپورٹس اور مطالعات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تیزاب گردی صرف صنفی تشدد کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک وسیع تر سماجی، قانونی اور اخلاقی بحران بھی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1999 سے 2022 تک پاکستان میں تیزاب حملوں کے ہزاروں رپورٹڈ کیسز سامنے آئے، جن میں خواتین کے ساتھ مرد اور بچے بھی شامل تھے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اگرچہ خواتین سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ ہیں، لیکن مردوں اور لڑکوں کو مکمل طور پر اس بحث سے خارج کرنا درست نہیں۔ جب کسی معاشرے میں تیزاب جیسا خطرناک کیمیکل آسانی سے دستیاب ہو، قانون کا خوف کمزور ہو، جھگڑوں کو عدالت اور مکالمے کے بجائے انتقام سے حل کرنے کا رجحان موجود ہو، تو پھر کوئی بھی کمزور یا غیر محفوظ شخص اس درندگی کا نشانہ بن سکتا ہے۔
مردوں اور لڑکیوں پر تیزاب حملوں کی وجوہات اکثر ذاتی دشمنی، جائیداد کے تنازعات، کاروباری رقابت، خاندانی جھگڑے، لین دین کے مسائل، انتقام، یا مقامی طاقت کے غلط استعمال سے جڑی ہوتی ہیں۔ بعض واقعات میں متاثرہ شخص کسی جھگڑے کا براہِ راست فریق ہوتا ہے، جبکہ بعض اوقات وہ صرف خاندان یا برادری کے تنازع کا نشانہ بن جاتا ہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ مرد متاثرین اکثر اپنے درد کا اظہار کم کرتے ہیں، کیونکہ معاشرہ مرد سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ “مضبوط” رہے، روئے نہیں، خوف ظاہر نہ کرے، اور اپنے زخموں کو خاموشی سے برداشت کرے۔ اس سماجی دباؤ کی وجہ سے مرد متاثرین کی نفسیاتی تکلیف مزید گہری ہو جاتی ہے۔
تیزاب حملے کا سب سے تباہ کن پہلو یہ ہے کہ یہ سزا نہیں بلکہ زندگی بھر کی اذیت بن جاتا ہے۔ متاثرہ شخص کو بار بار ہسپتال جانا پڑتا ہے، پلاسٹک سرجری، آنکھوں کے علاج، جلد کی بحالی، درد کی دوا، اور طویل نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ غریب خاندانوں کے لیے یہ علاج تقریباً ناممکن حد تک مہنگا ہوتا ہے۔ اگر متاثرہ شخص گھر کا کمانے والا مرد ہو تو پورا خاندان معاشی بحران میں چلا جاتا ہے۔ اگر متاثرہ لڑکا طالب علم ہو تو اس کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، وہ دوستوں سے کٹ جاتا ہے، لوگوں کی نگاہوں سے ڈرنے لگتا ہے، اور کبھی کبھی گھر سے باہر نکلنا بھی اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔
قانونی سطح پر پاکستان نے تیزاب گردی کے خلاف اہم اقدامات کیے ہیں۔ 2011 کی قانونی ترامیم کے ذریعے پاکستان پینل کوڈ میں تیزاب حملوں سے متعلق دفعات شامل کی گئیں، جن کے تحت مجرم کو سخت سزا، حتیٰ کہ عمر قید، اور بھاری جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تیزاب اور دیگر چہررہسیطع سئبستانچعس کی غیر قانونی فروخت کے خلاف بھی قانونی پابندیاں موجود ہیں۔ مگر اصل مسئلہ قانون کی کتاب میں نہیں، اس کے نفاذ میں ہے۔ جب تیزاب کھلے عام یا معمولی نگرانی کے ساتھ دستیاب ہو، جب متاثرین کو پولیس اسٹیشن اور عدالتوں میں بار بار ذلت کا سامنا کرنا پڑے، جب گواہ دباؤ میں آ جائیں، اور جب مقدمات برسوں تک چلتے رہیں، تو قانون کا خوف کمزور پڑ جاتا ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف سزا میں نہیں، بلکہ روک تھام، آگاہی، سماجی تربیت، متاثرین کی بحالی، اور کیمیکل کی فروخت کے سخت کنٹرول میں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تیزاب کی خرید و فروخت کے لیے لائسنس، شناختی ریکارڈ، مقدار کی نگرانی، اور دکانوں کی باقاعدہ چیکنگ کو یقینی بنائے۔ اسکولوں، کالجوں، گرجا گھروں، مساجد، میڈیا، اور سول سوسائٹی کو چاہیے کہ وہ انتقام، تشدد، اور غیر انسانی رویوں کے خلاف مسلسل شعور پیدا کریں۔ تیزاب حملہ کوئی “غصے کا لمحہ” نہیں بلکہ ایک سنگین جرم ہے جو انسان کی پوری زندگی تباہ کر دیتا ہے۔متاثرین کی بحالی کے لیے بھی ایک جامع نظام کی ضرورت ہے۔ علاج، سرجری، نفسیاتی مشاورت، قانونی امداد، روزگار کی بحالی، تعلیم، اور سماجی قبولیت کو ایک ہی پالیسی کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ عورت ہو یا مرد، بچہ ہو یا بالغ، ہر متاثرہ شخص کو عزت، تحفظ، انصاف، اور دوبارہ زندگی شروع کرنے کا حق حاصل ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ متاثرہ شخص کا چہرہ بدل سکتا ہے، مگر اس کی انسانی قدر، عزت، روح، اور زندگی کا مقصد کبھی ختم نہیں ہوتا۔
میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ بعض اوقات متاثرین کی تصویریں یا کہانیاں اس انداز سے پیش کی جاتی ہیں کہ ان کی تکلیف خبر تو بن جاتی ہے مگر ان کی عزت مجروح ہو جاتی ہے۔ صحافت کا تقاضا ہے کہ ایسے واقعات کو سنسنی خیزی کے بجائے انسانی وقار، قانونی شعور، اور اصلاحی مقصد کے ساتھ پیش کیا جائے۔ متاثرین کو صرف “زخمی چہروں” کے طور پر نہیں بلکہ زندہ، باہمت، باوقار انسانوں کے طور پر دکھایا جانا چاہیے۔پاکستانی معاشرے کو اس مسئلے پر ایک نئی اخلاقی بیداری کی ضرورت ہے۔ تیزاب پھینکنے والا شخص صرف ایک جسم کو نہیں جلاتا؛ وہ قانون، انسانیت، خاندان، معاشرتی امن، اور خدا کی دی ہوئی انسانی حرمت پر حملہ کرتا ہے۔ مذہبی، سماجی، تعلیمی، اور قانونی قیادت کو مل کر یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ کسی بھی اختلاف، رشتے، جائیداد، کاروبار، غیرت، یا انتقام کے نام پر انسان کے جسم کو برباد کرنا ناقابلِ معافی جرم ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ تیزاب گردی کے خلاف جدوجہد صرف خواتین کے تحفظ کی جدوجہد نہیں، بلکہ ہر انسان کی حرمت کی جدوجہد ہے۔ خواتین اس جرم کا سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں، اس لیے ان کے تحفظ کو مرکزی حیثیت ملنی چاہیے؛ لیکن ساتھ ہی مردوں، لڑکوں، اور بچوں کے متاثر ہونے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ ہر متاثرہ انسان کی آواز سنی جائے۔ معاشرے کی اصل ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کمزور، زخمی، خاموش اور نظر انداز کیے گئے لوگوں کو بھی عزت اور انصاف ملے۔تیزاب کے زخم جسم پر لگتے ہیں، مگر ان کا علاج پورے معاشرے کے ضمیر سے شروع ہوتا ہے۔
*******

