حب الوطنی اور مذہبی وابستگی : نبیلہ فیروز بھٹی

روزنامہ جنگ میں 5 جولائی 2026 کو پاک فوج میں سپاہیوں کی بھرتی سے متعلق ایک اشتہار شائع ہوا، جس میں اہلیت صرف مسلمان مرد امیدواروں تک محدود رکھی گئی ۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اس معاملے کی نشاندہی پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ون مین کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل کے سامنے کی، جنہوں نے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا۔ انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ یہ اشتہار واپس لے لیا جائے گا۔ توقع ہے کہ اس غلطی کی اصلاح کا وعدہ پورا کیا جائے گا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اشتہار تیار کرنے والوں اور اس کی منظوری دینے والوں کے ذہن میں یہ خیال کیوں آیا کہ یہ ادارہ صرف مسلمانوں کے لیے ہے۔ اس سے قبل جولائی 2020 میں ایک اخباری اشتہار میں پاکستان نیوی میں خاکروبوں کی آسامیوں کو صرف مسیحیوں کے لیے مخصوص کیا گیا تھا۔ ان دونوں واقعات سے جھلکنے والی ذہنیت اس ادارے کی تاریخ سے مطابقت نہیں رکھتی، جو غیر مسلم اہلکاروں اور افسران کی بہادری کی گواہ ہے۔ لہٰذا پاکستان کے عسکری اداروں کو مذہبی بنیادوں پر جانبدار یا مذہبی اقلیتوں کے لیے محدود سمجھنا حقائق کے منافی یا محض لاعلمی کا اظہار ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج کے اثر و رسوخ اورعوامی احترام کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اشتہارات نہ صرف حیران کن ہیں بلکہ ایسی غلطی بھی ہیں جن کی فوری اصلاح ناگزیر ہے۔

2009 سے حکومت کی جانب سے ملازمتوں میں مخصوص کوٹے کی پالیسی کا مقصد مذہبی اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ اس لیے اس نوعیت کے امتیازی اشتہارات، خواہ شاذ و نادر ہی سامنے آئیں، حکومتی پالیسی سے متصادم ہیں۔شہریوں نے سرکاری اور نجی اداروں میں امتیازی طرزِ عمل کے خلاف عدالتوں سے بھی رجوع کیا ، جس کے نتیجے میں عدالتوں نے بھرتیوں اور ملازمتوں میں مخصوص کوٹے کے نفاذ کے دوران مذہبی امتیاز کے خلاف فیصلے صادر کیے۔ مثال کے طورپر سپریم کورٹ آف پاکستان نے2023 میں مبارک علی بابر بنام پنجاب پبلک سروس کمیشن کیس میں ہدایت دی کہ اقلیتوں کے لیے مختص ملازمتی کوٹے پر تمام گریڈز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، امتیازی اشتہارات کی اشاعت روکی جائے اور بھرتیوں کے عمل کو زیادہ شفاف بنایا جائے۔ اس طرح عدالتِ عظمیٰ نے نہ صرف اقلیتی کوٹے کے تحفظ کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر اختیار کیا بلکہ مذہبی اقلیتوں کو مخصوص پیشوں تک محدود رکھنے کے منظم رجحان کو بھی غیر قانونی قرار دیا۔

اقلیتوں کا کردار؛
زیرِ بحث واقعات میں مذہبی امتیازکے برعکس، تاریخ کے اوراق اس حقیقت کے شاہد ہیں کہ مذہبی اقلیتوں نے پاکستان کے قیام اور ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ 1947 کی تقسیم کے بعد پاکستان ریلوے، کسٹمز، ڈاک اور تار، پولیس، وزارتِ خارجہ، اسکول، کالج، عدالتیں، اسپتال، صحت اور صفائی کے شعبے پاکستانی مسیحیوں، ہندوؤں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کی بھرپور خدمات سے ہی اپنے قدم جما سکے۔ ان تمام شعبوں میں مذہبی اقلیتوں نے صفِ اول میں رہ کر ملک کی تعمیر میں حصہ لیا۔2024میں کرم کے علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی کے دوران مسیحی سپاہی ہارون ولیم نے وطن کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ ہندو سپاہی سچن کمار 28 مئی 2026 کو کوئٹہ میں ایک خودکش حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ ہارون اور سچن اُن سینکڑوں مسیحی، سکھ اور ہندو فوجیوں اور افسروں میں شامل ہیں جنہوں نے وطن پر اپنی جانیں نچھاور کیں، جبکہ ہزاروں دیگر نے اپنی غیر معمولی کارکردگی اور اعلیٰ درجے کی خدمات سے ملک کا نام روشن کیا۔پاکستان نے جتنی بھی بڑی جنگیں لڑی ہیں، ان میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افسران نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت اور حب الوطنی کا شاندار مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے بعد مذہبی اقلیتوں نے نہ صرف اس ملک کے قیام میں اپنا کردار ادا کیا بلکہ اس کے دفاع، فلاح اور ترقی میں بھی مسلسل اپنا حصہ ڈالتی رہی ہیں۔

آئین کی خلاف ورزی؛
اشتہار تیار کرنے والوں، اسے شائع کرنے والوں اور ان تمام افراد کو، جن کی ذمہ داری اشتہارات کے متن کی نگرانی کرنا ہے، اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ پاکستان کا آئین مذہبی بنیادوں پر امتیاز کے خلاف واضح تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 25 شہریوں کی برابری کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 27(1) سرکاری ملازمتوں میں امتیاز کے خلاف تحفظ فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 27میں کہا گیا ہے؛
“پاکستان کی ملازمت میں تقرری کے لیے دوسری تمام شرائط پوری کرنے والے کسی بھی شہری کے ساتھ صرف نسل، مذہب، ذات، جنس، رہائش یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز نہیں برتا جائے گا۔”
لہٰذا اس نوعیت کے اشتہارات کی اشاعت، جو پاکستان کے آئین کی صریحاً خلاف ورزی ہے، نہ صرف مذہبی اقلیتوں کے آئینی حقوق کو مجروح کرتی ہے بلکہ اس کے ریاستی اداروں اور پاکستان کے سماجی تانے بانے پر بھی گہرے اور دیرپا منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

لائحہ عمل؛
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس بات کی مؤثر اور مسلسل نگرانی کریں کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو کس نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں ان کی خدمات کو باقاعدگی سے تسلیم کیا جائے اور مذہبی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی رویوں اور اقدامات کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے۔قومی انسانی حقوق کے اداروں، خصوصاً قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، کو چاہیے کہ وہ شہریوں کے اندر پائے جانے والے اس قسم کے مذہبی تعصب اور امتیازی رویوں کا نوٹس لیں۔قومی کمیشن برائے اقلیتی حقوق ایکٹ منظور ہو چکا ہے۔ لہٰذا کمیشن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ آئین اور قانون کے تحت مذہبی اقلیتوں کو حاصل حقوق کے عملی نفاذ کی نگرانی کی جا سکے اور ان کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ 19 جون 2014 کو جسٹس تصدق حسین جیلانی کی جانب سے دیا گیا سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ اس کی حقیقی روح اور مکمل تقاضوں کے مطابق نافذ کیا جانا چاہیے

مزید برآں، قومی نصاب میں ممتاز غیر مسلم پاکستانیوں کے کردار کو نمایاں مقام دیا جانا چاہیے تاکہ برداشت، باہمی احترام اور ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، سسٹر میری ایملی گونسالویس، سسٹر رتھ لیوس، جسٹس ڈوراب پٹیل، جسٹس اے۔ آر۔ کارنیلیس اور جسٹس بھگوان داس جیسی شخصیات کی خدمات کو نصاب کا مستقل حصہ بنایا جانا چاہیے۔

علاوہ ازیں، ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایسے امتیازی اشتہارات شائع کرنے سے انکار کر دینا چاہیے جو محروم اور کمزور طبقات کی تضحیک اور دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ اس کے برعکس، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں تمام مذہبی و سماجی برادریوں کی خدمات کو اجاگر کرے تاکہ عوام ملک میں موجود ثقافتی، نسلی اور مذہبی تنوع کو پہچان سکیں، اس کا احترام کریں اور اسے اپنی مشترکہ قومی شناخت کا حصہ سمجھیں۔ تمام پاکستانیوں کو مذہبی اقلیتوں کی قومی خدمات سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اسی شعور کے ذریعے ہم اپنی اجتماعی سماجی اور ثقافتی شناخت کو زیادہ جامع انداز میں سمجھ سکتے ہیں۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading