“نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے”
موت ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی کو مفر نہیں، لیکن جب کوئی بشیر بدر جیسا شخص دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے لفظوں کے نگر میں اندھیرا چھا گیا ہو۔ آج دل اس خبر سے شدید رنجیدہ اور اداس ہے کہ اردو غزل کا وہ درخشندہ ستارہ، جس نے محبت کو ایک نیا لہجہ دیا، اب ہمارے درمیان میں نہیں رہا۔انسانی وجود مٹی کا ہے اور مٹی میں مل جاتا ہے، موت بڑے سے بڑے جابروں، مفکروں اور شاعروں پر غالب آ جاتی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ بشیر بدر جیسے لوگ کبھی مرتے نہیں۔ وہ اپنے اشعار، اپنی محبت اور اپنے قارئین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ جب تک دنیا میں محبت باقی ہے، جب تک اداسی باقی ہے، اور جب تک کوئی عاشق اپنے محبوب کے لیے لفظ تلاش کرے گا، بشیر بدر کا نام زندہ رہے گا۔
ڈاکٹر بشیر بدر جدید اردو غزل کے وہ معمار ہیں جنہوں نے غزل کو درباری پن اور روایتی ثقالت سے نکال کر عام انسان کے دل کی دھڑکن بنا دیا۔ ان کی شاعری کا اسلوب انتہائی سادہ، عام فہم مگر گہرا ہے۔ ان کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ جہاں عام قاری ان کی کتابیں سرہانے رکھ کر سوتا تھا، وہاں موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ جگجیت سنگھ نے ان کی غزلوں کو اپنی آواز دے کر امر کر دیا۔
آنکھوں میں رہا دل میں اتر کر نہیں دیکھا
کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا
پرکھنا مت پرکھنے میں کوئی اپنا نہیں رہتا
کسی بھی آئنے میں دیر تک چہرہ نہیں رہتا
چراغوں کی لو سے ستاروں کی ضو تک
تمہیں میں ملوں گا جہاں رات ہوگی
یہاں لباس کی قیمت ہے آدمی کی نہیں
مجھے گلاس بڑے دے شراب کم کر دے
کبھی یوں بھی آ مری آنکھ میں کہ مری نظر کو خبر نہ ہو
مجھے ایک رات نواز دے مگر اس کے بعد سحر نہ ہو
پتھر کے جگر والو غم میں وہ روانی ہے
خود راہ بنا لے گا بہتا ہوا پانی ہے
جگجیت سنگھ کی دل گداز آواز اور بشیر بدر کے جادوئی لفظوں نے مل کر برصغیر کی فضاؤں میں جو سحر پھونکا، وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ میں خود ان کی شاعری کا ہر درجہ دیوانہ ہوں ان کا ہر شعر دل میں یوں اترتا ہے جیسے وہ میری روح کی آواز ہو۔
ڈاکٹر بشیر بدر سے میرا تعلق محض ایک قاری اور شاعر کا ہی نہیں تھا، بلکہ یہ تیس برسوں پر محیط ایک مخلصانہ، ادبی اور دوستانہ رشتہ تھا، جو سرحدوں کی قید سے آزاد تھا۔نوے (1990) کا دور یادوں کا ایک مکتوباتی خزانہ ہے۔ وہ دور جب وائٹس ایپ یا ای میل نہیں ہوا کرتے تھے، بلکہ جذبوں کی تپش کاغذ پر بکھرتی تھی اور ڈاک کا انتظار دل کی دھڑکنیں بڑھا دیتا تھا۔ بشیر بدر صاحب سے میری خط و کتابت اور مراسلات کا سلسلہ نوے کی دہائی میں عروج پر تھا۔ ان کے خطوط محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں تھے، بلکہ علم و ادب کے وہ پارے تھے جن میں غزل کی تنقید، زندگی کا فلسفہ اور ایک بڑے استاد جیسی شفقت رچی بسی ہوتی تھی۔ میں پاکستان سے لکھتا، وہ بھارت سے جواب دیتے تھے، اور یوں خطوط کا یہ تبادلہ ہماری روحوں کو جوڑے رکھتا تھا۔
میری شعری تخلیق “ہاتھوں میں آسمان” میرے ادبی سفر کا ایک انتہائی اہم موڑ ہے، اور اس موڑ کو یادگار بنانے والی شخصیت ڈاکٹر بشیر بدر کی تھی۔ جب میں نے اپنے اس مجموعے پر ان سے رائے کی درخواست کی، تو انہوں نے کمالِ مہربانی اور فراخ دلی سے میری کتاب کا فلیپ لکھا۔ ان کا وہ تحریر کردہ تراشہ میرے لیے کسی اعزاز اور سند سے کم نہیں ہے؛ ان کا لکھا وہ تراشہ یہاں درج کررہاہوں ہر تاکہ سند رہے؛
“مجھے بہت خوشی ہوئی کہ سرفراز تبسم کا شعری مجموعہ ‘ہاتھوں میں آسمان’
اپنی اچھی شاعری کے ساتھ منظر عام پر آنے کو تیار ہے۔
سرفراز تبسم جدید اردو غزل میں منفرد لہجہ ہے،
جو ان شاء اللہ ترقی کی راہ پر بہت دور تک ان کو لے جائے گا۔
اللہ نے چاہا تو وہ اسی طرح بہتر سے بہترین راہ پر گامزن رہیں گے
اور ان کے قاری ان کے آگے آنے والی شاعری کے منتظر رہیں گے۔
تبسم قائم رہے۔” ڈاکٹر بشیر بدر (انڈیا)

اُن کی دُعا “تبسم قائم رہے” میرے نام کا حصہ بھی تھی اور میری زندگی کا سرمایہ بھی۔ ایک اتنے بڑے قد آور شاعر کا مجھ جیسے ادنیٰ قلم کار کے لیے “منفرد لہجہ” کا لفظ استعمال کرنا ان کی بزلہ سنجی، شفقت اور جوہر شناسی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
آج ڈاکٹر بشیر بدر جسمانی طور پر ہم میں نہیں ہیں، لیکن ان کی یادیں، ان کے خطوط، اور میری کتاب پر لکھی ان کی یہ گراں قدر رائے ہمیشہ میرے پاس محفوظ رہے گی۔ وہ نوے کی دہائی کے دن، وہ کاغذ کی خوشبو اور وہ ادبی رسائل و جرائد کا بیش قیمت دور اب کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گی، مگر ان کا فیض جاری رہے گا۔
بشیر بدر صاحب! آپ کہا تھا ۔۔۔۔۔؛
اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو
نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہو جائے
شام کا کیا ہے ہر روز شام ہوتی ہے ، لیکن آپ کی یادوں کے اجالے ہمارے ساتھ رہیں گے اور جب تک اردو زبان زندہ ہے، آپ کا نام اور آپ کا فن ہمیشہ چمکتا رہے گا۔ خدا آپ کے درجات بلند کرے اور آپ کو جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔
*******


