مسیحی رکن پنجاب اسمبلی کا اقلیتوں کے لئے جد اگانہ انتخاب کا مطالبہ : عطا الرحمٰن سمن

اِن دِنوں سوشل میڈیا پر مسیحی برادری کی جانب سے اقلیتوں کے لئے جدا گانہ طرزِ انتخاب کی بحالی کی وکالت پر مبنی پوسٹیں ارزاں کی جا رہی ہیں۔اِس بیانیہ کا ایک جذباتی نعرہ ہے ”سلیکشن نہیں الیکشن“۔ ممکنہ طور پر ایسے بیانیہ سے متاثر ہوکر پنجاب اسمبلی میں انسانی حقوق و اقلیتی امور کی سٹینڈ نگ کمیٹی کے چیرمین جناب فیلبوس کرسٹوفر صاحب نے جنوری 2026ءمیں ایک قرارداد جمع کروائی ہے جس میں مذہبی اقلیتوں کے لئے جداگانہ یا دہرے ووٹ کی سفارش کی گئی ہے۔ قرارداد میں اِس عمل کو جمہو ری حق ، اقلیتوں کی آواز کو مضبوط بنانے سے جوڑا گیا ہے۔ اِس قرار داد میں مجوزہ اقدام کو بانی ِ پاکستان قائداعظم کی جانب سے اقلیتوں کی مذہبی و سماجی حقوق کے تحفظ کی دی گئی ضمانت سے جوڑا گیا ہے ۔ قرارداد میںمزید کہا گیا ہے کہ وفاقی و صوبائی حکو متیں اپنا آ ئینی فریضہ ادا کرتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کو اپنے نمائندے براہ راست منتخب کرنے کے طریق اپنائیں (آئین میں ایسا کچھ درج ہی نہیں ہے)۔ اب جب کہ پنجاب اسمبلی کے ایک معزز اقلیتی رُکن نے جداگانہ انتخابات کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے تو اِس مطالبہ کے جمہوری اور آئینی ہونے کا جائزہ لیتے ہیں

جدا گانہ انتخابات کو جمہوری حق قرار دینے والے شائد کسی بھی جمہوری ملک میں اِس طرزِ انتخاب کے نافذ العمل ہونے کی مثال نہیں دے پائیں گے کیونکہ یہ طرزِ انتخاب معروف جمہوری اصولوں سے میل ہی نہیں کھاتا ۔ عام تراشے گئے بیانیہ میں کہا جاتا ہے ” ہمارے نمائندے“(یعنی ہمارے ہم مذہب )۔ ہمیں سیکھ لینا چاہئے کہ ہمارے نمائندے ہمارے حلقے کے نمائندے ہیں۔ شفیق محمد کا نمائندہ ہی لیاقت مسیح کا نمائندہ ہے ۔ مت بھولیں کہ یہ مذہبی نہیں سیاسی نمائندگی ہے۔

یاد رہے 5اور6 فروری 1997ءکو ضلع خانیوال کے ایک مسیحی گاو¿ں شانتی نگر کو نذر آتش کئے جانے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے قائم کئے گئے انکوائری ٹربیونل کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے بشپ جان جوزف نے یہ الفاط فرمائے تھے ”ایسے واقعات کا سبب تکفیر کے قوانین اور مذہبی اقلیتوں کے لئے جدا گانہ انتخابات ہیں جن کے باعث معاشرے میں مذہبی عدم برداشت اور انتہاپسندی کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے ۔
گمان غالب ہے کہ مذکورہ قرار داد محترم رکن اسمبلی فیلبوس کرسٹوفر صاحب نے اپنی ذاتی حیثیت سے جمع کروائی ہو گی۔ مسلم لیگ (نواز) اِس قرارداد کی حمایت نہیں کر سکتی کیونکہ 2006ءمیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز ) کے مابین طے پانے والے میثاق ِ جمہوریت میں ملک میں جمہوریت کے استحکام اور جمہوری کلچر کے فروغ کے لئے تجویز کردہ اقدامات میں مخلوط طرز ِانتخا ب اپنانے کا عہد کیا گیاتھا۔

پاکستان میں 1951تا 1954ءدو انتخابات جدا گانہ بنیادوں پر منعقد کروائے گئے۔ بعد ازاں 1962، 1965، اور1970اور 1977کے انتخابات میں مخلوط انتخابات کا طریق اپنایا گیا۔ 1973ءکے آئین کے تحت مخلوط انتخابات کروائے جانے پر اتفاق رائے پایا گیا تھا۔تاہم 1977ءمیں جنرل ضیاالحق نے اقتدار پر قبضہ کیا تو اُس نے ترقی پسند جماعتوں کو اقلیتوں کے ووٹ سے محروم کرنے کے لئے جد اگانہ انتخابات مسلط کئے جس کے لئے مذہبی اقلیتوں کی رائے نہیں لی گئی تھی۔

22سال کے عرصہ میں پانچ عام اور تین بلدیاتی انتخابات جداگانہ طرز پر منعقد کئے گئے ۔ مذہب کی بنیاد پر انتخابی فہرستیں الگ الگ تھیںتو ووٹ ڈالنے کے لئے قطاریں بھی جدا۔ حلقے جدا ، اور پولنگ بوتھ بھی جدا غرض جداگانہ ا نتخا بات مذہب کی بنیاد پر ہر پہلو سے الگ دکھائی دینے کا ایک سلسلہ تھا۔ 1990ءکی دہائی کے اواخر تک جداگانہ انتخابات کے بھیانک اثرات کے بارے مذہبی اقلیتوں ں کو ادراک ہو چکا تھا چنانچہ 1999ءتا 2000ءکے دوران کاتھولک چرچ نے جب جدا گانہ انتخابات کے بائیکا ٹ کی کال دی تو پاکستان بھر میں مذہبی اقلیتوں نے اِس پر بھر پور عمل درآمد کیا ۔ قومی کمیشن برائے امن و انصاف کی قیادت میں دو سال تک جاری رہنے والی اِس مہم میں گراس روٹ سطح ، پالیسی ساز افراد ، اداروں اور بین الاقوامی فورم تک رسائی حاصل کی گئی۔ 27فروری2002ءکو مخلوط انتخابات بحال ہوئے تو اقلیتوں کی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لئے عارضی طور پر مخصوص نشستوں کا بندوبست کیا گیا جو نظام ریاست اور قانون میں موجود مذہبی امتیازات کے دور ہونے تک جاری رہے گا۔

ملک میں سال 2002ءسے مخلوط انتخابات نافذ العمل ہیں۔ مخلوط انتخابات کی اساس شہریوں کا بلا امتیاز بالغ حق ِ رائے دہی اور نمائندگی کے حق کا استعمال اور اُس کی منطقی طاقت ہے۔ چنانچہ مخلوط انتخابات کے خاتمے یا تحلیل کی ہر تجویز غیر جمہوری اور غیر منطقی ہے۔

مت بھولیں کہ مہنگائی ، بیروزگاری ، غربت ، اقربا پروری ، زرعی اصلاحات، ظلم ، جبر ، استحصال ، ناانصافی اور دیگر انسانی مسائل کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ مسلمان کی غربت اور ہندو کی غربت میں کوئی فرق نہیں ہے۔ چنانچہ اگر مسائل کا مذہب نہیں ہے تو اُن کے حل تلاش کرنے والوں کو مذہب کے دائروں میں تقسیم کرنا لوگوں کو جدا کرنا ہے اور مختلف برادریوں کے باہمی تعلق کے امکان کو محدود کر کے معاشرتی تنوع کو نقصان پہنچانا ہے۔
گزشتہ دو دہائیوں سے مخلوط انتخابات کے باعث ایک حوصلہ افزا پیش رفت دیکھی گئی جب پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبائی سطح پر اپنے حلقے کی نمائندگی کے لئے پہلی بار ایک اقلیتی شہری کو ٹکٹ دیااور وہ رکن بھاری اکثریت سے اپنی سیٹ پر کامیاب ہوا ۔ 2018ءمیں اُسی ہندو شہری نے قومی سطح پر اپنی جماعت کی نمائندگی کی ہے۔ گویا صوبائی کے بعد قومی اسمبلی کے حلقہ نے بھی اقلیتی شہری کو اپنے اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔ 2018ءمیں ایک ہندو خاتون کو بھی پیپلز پارٹی نے سینٹ کی جنرل سیٹ کا ٹکٹ دیا تھا۔ معاشرے میں بلا امتیاز مذہب شہریوں کے لئے گنجائش اور قبولیت کا یہ مظاہرہ مخلوط انتخابات کے باعث ہی ممکن ہوا ہے ۔ امید کی جا سکتی ہے کہ آئندہ مزید حلقوں سے پیپلز پارٹی کی مانند دیگر سیاسی جماعتیں بھی اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے مشمولاتی طرز ِ عمل اپنائیں گی۔

مخلوط انتخابات کے باعث ہمارے معاشرے میں برداشت، تنوع کا احترام اور جمہوری روایات کے ارتقاءکا عمل سطح سے نیچے سُست روی سے جاری ہے۔     اُس کے اثرات ایک مدت تک اوجھل ر ہے ہیں تاہم اب یہ دکھائی دینے لگے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ سالوں میں اِس عمل کی مزید روش مثالیں دیکھنے کو ملیں گی۔

*******

One thought on “مسیحی رکن پنجاب اسمبلی کا اقلیتوں کے لئے جد اگانہ انتخاب کا مطالبہ : عطا الرحمٰن سمن

  1. بہت خوب سمن صاحب۔ کاش کہ ان خود ساختہ سیاسی پندتوں کو آپ کی بات سمجھ میں آجائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading