آسمان و زمین ایک حقیقت ہے۔خُدا کے تجسم کی عمل داری ہے۔صدیوں کی دریافت ہے۔نہ اس کا شُروع نہ آخر بلکہ تا قیامت قائم و دائم رہنے والا ایک سلسلہ ہے۔دُنیا میں آنکھ کُھولتے ہی انسان پر مُکاشفے کُھلنے لگتے ہیں۔قدرت اپنے رازوں کو مُنکشف کرنا شروع کر دیتی ہے۔ انسان ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔ اُس کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا آسمان و زمین کا تجسم ۔ خدا کائنات اور انسان کا باہمی تعلق ہے جن پر کچھ لکھنا چراغ کو روشنی دکھانے کے مترادف ہے۔
تاہم پھر بھی تجسٙس عرفانی سرگوشی کر کے اہداف و مقاصد کا تعین کرلتا ہے۔کوئی انسان عقل کُل نہیں ہے بلکہ ہر انسان اپنی بساط کے مطابق زندگی کے باغیچے میں یادوں کے گُل اُگاتا ہے۔سبھی لوگ ایک جیسے ہی پیدا کیے گئے ہیں۔البتہ فرق اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی عام سے خاص بن جاتا ہے۔قوت ارادی مقاصد کے پٙر پھیلا کر اُڑان سکھا دیتی ہے۔جب عام سے لوگ اُونچی پرواز بھرتے ہیں۔عوام کی آنکھیں کُھلی کی کُھلی رہ جاتی ہیں۔ اِس پر عجیب و غریب کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔وہ سوچ کے ناخن سے اپنی قسمت کا دروازہ کُھرچنے لگتا ہے۔کبھی اپنی ذات سے شکوہ اور کبھی قانون قدرت سے۔مگر قسمت کے کھیل انوکھے ہوتے ہیں۔انھیں کون ہار جیت میں بدل سکتا ہے۔البتہ کائنات کی وسعتوں میں یہی ایک فرق ہے کہ یہاں کوئی بادشاہ ہے اور کوئی فقیر۔کوئی تخلیق کار ہے اور کوئی ان پڑھ۔وقت کی انوکھی داستان ہے جو حیرتوں کے جہان آباد کر کے دِل چسپ مناظر پیدا کر دیتی ہے۔
آسمان کے نیچے روئِ زمین پر اربوں لوگ بستے ہیں۔ ہر انسان خدا کی صُورت پر پیدا ہونے کے باوجود اپنی عادات ، کردار اور حاصلات میں ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قدرت نے کچھ لوگوں کو الگ پیدا کیا ہوتا ہے۔اُن کی شخصیت کے پٙرتو میں ایک خاص کشش ہوتی ہے جو اِنفرادیت کے لبادے میں پہچان کا ذریعہ بنتی ہے۔ شخص سے شخصیت بنتے بنتے عُمر گزر جاتی ہے۔پھر کہیں جا کر زندگی کامیابی کا پہاڑا گُنگناتی ہے۔لوگ رشک و تحسین بھرے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔تخلیق ، تحقیق اور تنقید انسانی فطرت کا خاصا ہے۔انسان نے روز اوٙل سے ہی قلم کی قوت کے بٙل بوتے تاریخِ ادب میں زندہ رہنا سیکھا ہے۔ہماری دُنیا میں اربوں کھربوں کتابیں لکھی جا چُکی ہیں۔اصناف ادب میں ہر کسی نے اپنے اپنے حصٙے کی شمع جلا کر تاریک راہوں کو روشن کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ عمل وقوع پذیر ہونے سے لے کر نفوذ ہونے تک کارآمد ہے۔
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات نے نہ صرف تخلیقی صلاحیتوں کو متاثر کیا ہے بلکہ قائرین کو بھی نظروں سے اوجھل کر دیا ہے۔پتہ نہیں یہ وقت کی سزا ہے یا غیر مہذب ہونے کا ثبوت۔خیر دُنیا میں اب بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اٙدب پروری کا جذبہ رکھتے ہیں۔خوابوں کی تعبیر کرتے ہیں۔اِنسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ناقابل فراموش کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ انہی چند لوگوں میں ایاز مورس کا نام بھی مشق پذیر ہے جس نے اپنی صلاحیتوں کے مرہون منت خاص مقام حاصل کیا ہے۔زندہ لوگ جیسی کتاب لکھ کر مصنٙف بننے کا جوہر دکھا دیا ہے۔ یہ اُس کی پہلی کامیابی ہے جو اُس نے خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے حاصل کر لی ہے۔کتاب میرے ہاتھوں میں ہے۔ورگردانی کے بعد اپنے احساسات ، تجربات اور مشاہدات کو زینتِ ایاز بنا دوں تاکہ پذیرائی کا عمل اُدھورا نہ رہ جائے۔ کُتب بینی میرا پسندیدہ مشغلہ ہے اور اِس سے بڑھ کر مصنف کی داد و تحسین کرنا میری اولین ذمہ داری میں شامل ہے۔میں فاضل دوست کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے مضمون کا سہارا لوں ، تمثیل نگاری کی روایت اُجاگر کروں ،انشائیہ پردازی کا تجسٙس پیدا کروں یا افسانوی کرداروں کو روح میں بیان کروں۔
حقائق تو وہی ہوتے اور زندہ رہتے ہیں لیکن فرق اور تجسٙس شگفتہ بیانی کی بدولت قائم رہتا ہے۔میں اپنے ہاتھوں میں ایک کتاب تھامتا ہوں جس کا عنوانی نوشتہ زندہ لوگ سچی کہانیوں پر مشتمل ہے۔اس کتاب کے مصنٙف روزنامہ ایکسپریس سنڈے میگزین کے لکھاری جناب ایاز مورس ہیں ۔وہ تواتر و تسلسل کے ساتھ روزنامہ ایکسپریس میں لکھ رہے ہیں۔وہ کئی دہائیوں سے ڈیجیٹل میڈیا کے سفیر ہیں۔اِس امر کے ساتھ ساتھ شخصیت نگاری پر قلم اُٹھانے کا تجربہ اور گہری قائلیت رکھتے ہیں۔ اُس نے زندہ لوگوں کو تاریخِ ادب کی لڑی میں جس خوب صورتی کے ساتھ پرویا ہے۔وہ عمل نہ صرف قابل تحسین ہے ، بلکہ مصنٙف کی فخریہ پیشکش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جن کا فن و شخصیت کتاب کے اوراق پر پھیلا ہوا ہے۔اُس نے جس محنت اور عرق ریزی سے زندہ لوگوں کی کہانیوں کو مشقِ بام تک پہنچایا ہے۔وہ ایک پچیدہ اور سنجیدہ نسخہ ہے جس کا دوسروں تک بانٹنا فراخ دلی کے زُمرے میں آتا ہے۔وہ ان ہیروں کی تلاش میں کبھی مٹی کی تہوں کو کھودتا ہے، کبھی ریت کے ذروں کو الگ کرتا ہے ، کبھی گم شدہ لوگوں کو ڈھونڈنے کے لیے شہر شہر سفری کوفتیں برداشت کرتا ہے۔حالات و واقعات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خود مٹی بن جاتا ہے۔مگر دوسروں کے فن و شخصیت پر سونے اور چاندی کے رنگ چڑھا دیتا ہے۔
میں قائرین پر اس بات کو بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ وہ رنگ چڑھانے کا عادی نہیں بلکہ حقیقت پسندی کی پرکار گھمانے کافن جانتا ہے۔اُس کی آنکھوں میں جن جن شخصیات کا عکس اُترا ان سب کی ایک ایک تصویر بنا ڈالتا ہے۔اُس نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ تاریخ کے جھووکوں میں جو لوگ گُمشدہ سٙکوں کی مانند تھے۔اُن کی تلاش کر کے قدر و قیمت بڑھا دی ہے۔وہ محض انوکھی داستان نہیں بلکہ زندگی کے نچوڑ کو قلم کی سیاہی سے اورق کی زینت بنا دیا ہے۔اُس کے ذاتی تجسٙس نے خزاں میں بہار کے پھول کھلا دئے ہیں۔وہ یوں رقم طرازہے؛
ایسے لوگوں کی کہانی جنھوں نے اپنی محنت لگن اور سچائی سے معاشرے میں خدمت کو زندگی کا مقصد بنایا۔
32 لوگوں کا انتخاب اِس حقیقت کا غماز ہے کہ مصنٙف اپنے آباؤ اجداد سے کس قدر محبت کرتا ہے۔ جہاں اُن کی اولاد انھیں پہچاننے سے قاصر ہے وہاں فاضل دوست کی محبت زندہ احساس میں بدل جاتی ہے۔یوں ایک ایسی کہانی معرضِ وجود میں آتی ہے ، جو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتی ہے۔جہاں دِل چسپی کے ایسے مناظر پیدا ہو جاتے ہیں۔جنھیں بار بار دیکھنے کو دِل کرتا ہے۔ ظاہر ہے جس تحریر میں تجسٙس کی رُوح پُھونک دی جائے۔ وہاں فن و شخصیت کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ فاضل دوست کی چھٹی حس انھیں کئی دہائیوں سے چراغ جلا کر ڈھونڈ رہی تھی۔آخر کار اُس کی محنت رنگ لے آئی ، جس نے گھر گھر ، گاؤں گاؤں، شہر شہر دُھوم مچا رکھی ہے۔تبصرے اور تجزیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے سے لے کر قومی اخبارات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔یہ کتاب کوئی فلسفیانہ خیالات کی عکاس تو نہیں ہے۔البتہ اُن شخصیات کی خدمات کے اعتراف کا ایک بنیادی جُز ہے جو حقیقت پسندی کا شاندار تجربہ ہے۔ ایاز نے زندگی کے جھوٹے اور مصنوعی راگ الاپوں کی بجائے اصلی چہروں کی پہچان کا رُخ متعارف کروایا ہے جو تاریخِ ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔اُس کا یہ عمل اُسے دیر تک زندہ رکھے گا۔اُس کے غُبار سے کئی خاکے جنم لیں گے۔اُس نے نہ ہموار راہوں پر سفر کر کے قوم کے ایسے لوگوں کو تلاش کیا ہے جنھیں خدا تو جانتا تھا لیکن لوگوں کے دلوں میں زندہ نہ تھے۔
اُس کی سچی لگن اور محنت نے اُسے ایک ایسے مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے جہاں اس کی ذاتی پہچان ہونے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کی پہچان بھی سامنے آئی ہے شاید وہ تاریخ کی دْھول میں گُم ہو گئے تھے۔ اُس کی فراخ دلی اور عظمت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس کی زندہ دلی نے زندہ لوگ جیسی کتاب کو تخلیق کیا۔ان تمام مشاہیر کی تاریخ پڑھنے کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کتنے گہرے، سچے ، محنتی ، دیانت دار اور عظیم لوگ تھے۔ایاز کی منطقی سوچ نے ہم سب کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے اِسلاف سے کتنی زیادہ محبت کرتا ہے۔یہ کتاب ایک تحریک بھی ہے اور سچائی کا انمول تحفہ بھی۔ہمیشہ خداداد صلاحیتیں اور خوبیاں پہچان کا ذریعہ بنتی ہیں۔اگرچہ دولت وقتی طاقت اور اختیار کا نشہ ضرور ہے لیکن تاریخ کے سنہری حُروف میں زندہ رہنا منفرد لوگوں کا شیوہ ہے۔دنیا میں ہمیشہ وہی لوگ سرخُرو ہوئے ہیں۔جنھوں نے محنت، لگن اور اور ایمانداری کا ہاتھ تھاما ہے۔پھر اس ہاتھ نے نہ تو انھیں گِرنے دیا ہے اور نہ بکھرنے دیا۔
مذکورہ کِتاب میں زندگی کی وہ تمام اِن مٹ داستانیں اور اور خدمات کا احاطہ کیا ہے ، جو تاریخی ، ثقافتی اور معاشرتی تہذیب کا حصٙہ رہی ہے۔اٙنفرادیت سے اِجتماعیت تک جن روشن پہلوؤں کو اُجاگر کیا گیا ہے وہ انسانیت ، بٙشریت اور آدمیت کی بہترین ترجمانی ہے۔ دلوں میں زندہ رہنے کا فن تو ہر کسی کو نہیں آتا کیونکہ ہر انسان کی طبیعت میں خدمت اور محبت کا جذبہ موجود نہیں ہوتا۔ اس لیے وہ زندگی کے میدان میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ شکست کھا کر بے دِل ہو جاتے ہیں۔ لیکن دُنیا کی تاریخ ایسے لوگوں سے بھرپور ہے جن کا فن و شخصیت ہر موسم میں ہرے بٙھرے درخت کی مانند رہا ہے۔وہ ایک ایسے موسم کی مانند ہوتے ہیں جن پر ہزار دفعہ خزاں گزرے۔ نہ تو وہ مُرجھاتے ہیں اور نہ ساتھ چھوڑتے ہیں۔بلکہ انھیں ہر دور اور تاریخ نے زندہ رکھا ہے۔ایاز مورس کی کوشش بھی کُچھ ایسے لمحات میں ڈھل گئی ہے ، جہاں فن و شخصیت سنہری حروف کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
*******



