اَمن کے دعوے ، پوپ اور ٹرمپ کے بیانات : ڈاکٹر ایورسٹ جان

آج کی دنیا ایک گہرے تضاد کے درمیان کھڑی ہے۔ ایک طرف عالمی رہنما، مذہبی شخصیات، اور بین الاقوامی ادارے مسلسل “امن” کا درس دے رہے ہیں، اور دوسری طرف دنیا کے مختلف خطوں میں جنگ، تشدد، اور انسانی المیے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پوپ لیو چہار دہم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بیانات کا تبادلہ اسی تضاد کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک طرف پوپ امن، برداشت، اور جنگ کے خاتمے کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ٹرمپ جیسے سیاسی رہنما ان خیالات کو عملی دنیا سے کٹا ہوا اور بعض اوقات غیر حقیقت پسندانہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس بحث کو صرف ایک سیاسی یا شخصی اختلاف سمجھنا درست نہیں ہوگا، بلکہ یہ دراصل امن کے مفہوم، مذہب کے کردار، اور عالمی سیاست کی حقیقتوں کے درمیان ایک گہری کشمکش کی علامت ہے۔یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کہ صرف بیانات سے دنیا کے مسائل حل نہیں ہوتے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں صرف اخلاقی اپیلوں سے نہیں رکتی بلکہ ان کے پیچھے طاقت، مفادات، اور جغرافیائی سیاست کا ایک پیچیدہ نظام کارفرما ہوتا ہے۔ اگر الفاظ میں اتنی قوت ہوتی کہ وہ جنگوں کو روک سکتے تو نہ پہلی عالمی جنگ ہوتی، نہ دوسری، اور نہ ہی آج دنیا کے مختلف خطوں میں خون بہہ رہا ہوتا۔ پوپ کا کردار ایک اخلاقی اور روحانی رہنما کا ہے، اور اس حیثیت میں ان کی آواز اہم اور قابلِ احترام ہے، مگر جب یہ آواز عملی سیاسی عمل سے جڑی نہ ہو تو اس کا اثر محدود رہ جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والے بڑے فیصلوں میں ویٹیکن کو اکثر ایک مشاورتی یا علامتی حیثیت دی جاتی ہے، نہ کہ فیصلہ کن کردار۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ دنیا کے ان خطوں میں جہاں مسیحی اقلیتیں یا دیگر کمزور طبقات ظلم و ستم کا شکار ہیں، وہاں ویٹیکن کا کردار کیا رہا ہے؟ بلاشبہ ویٹیکن نے کئی مواقع پر انسانی حقوق کی حمایت میں بیانات دیے، مظلوم طبقات کے حق میں آواز اٹھائی، اور عالمی برادری کو متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ مگر عملی سطح پر یہ کوششیں اکثر محدود ثابت ہوئیں۔ چاہے مشرقِ وسطیٰ میں مسیحیوں کی حالت ہو، افریقہ کے بعض حصوں میں مذہبی تشدد ہو، یا جنوبی ایشیا میں اقلیتوں کے مسائل— ویٹیکن کی آواز سنائی تو دیتی ہے، مگر اس کے اثرات اکثر عالمی طاقتوں کی ترجیحات کے سامنے دب جاتے ہیں۔اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آج کی دنیا میں اخلاقی اپیلیں اس وقت تک مؤثر نہیں ہوتیں جب تک ان کے پیچھے سیاسی اور معاشی قوت موجود نہ ہو۔

اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تو کلیسیا کے کردار کا ایک اور رخ سامنے آتا ہے، جو اس بحث کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ جب ہم کا ذکر کرتے ہیں تو ہمیں وہ لمحہ یاد آتا ہے جب سن ایک ہزار پچانوے عیسوی میں پہلی صلیبی جنگ کا اعلان پوپ اربن کے ذریعے کیا گیا۔ یہ اعلان ایک ایسے سلسلے کی ابتدا تھا جس نے صدیوں تک جاری رہنے والی خونریزی کو جنم دیا۔ ان جنگوں میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ مشرقی مسیحیوں اور دیگر گروہوں کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اقدام یسوع مسیح کی تعلیمات کے مطابق تھا؟ یسوع نے تو محبت، معافی، اور عدم تشدد کی تعلیم دی تھی، مگر تاریخ میں ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں مذہب کو جنگ کے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا۔ یہ تضاد اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مذہبی ادارے بھی انسانی کمزوریوں سے مبرا نہیں رہے، اور ان کے فیصلے ہمیشہ مکمل طور پر روحانی اصولوں پر مبنی نہیں ہوتے۔

تاہم اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ وقت کے ساتھ کلیسیا نے اپنے ماضی کا جائزہ لیا ہے، کئی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے، اور امن و مفاہمت کے پیغام کو زیادہ مضبوطی سے اپنانے کی کوشش کی ہے۔ جدید دور میں ویٹیکن کی پالیسی عمومی طور پر جنگ کے خلاف اور انسانی حقوق کے حق میں رہی ہے۔ موجودہ پوپ کو بھی اکثر ایک “لبرل” یا معتدل مزاج رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مکالمے، بین المذاہب ہم آہنگی، اور عالمی امن کی بات کرتے ہیں۔ یہ نقطۂ نظر ایک حد تک قابلِ تعریف ہے، کیونکہ یہ دنیا کو تقسیم کے بجائے اتحاد کی طرف لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ کیا یہ بیانیہ عملی دنیا کی پیچیدگیوں کا سامنا کر سکتا ہے؟

اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم یسوع مسیح کے “امن” کو درست طور پر سمجھیں۔ یسوع کا امن سیاسی یا سفارتی نہیں تھا، بلکہ ایک گہری روحانی حقیقت تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ “میرا امن میں تمہیں دیتا ہوں، جیسا دنیا دیتی ہے ویسا نہیں دیتا۔” اس کا مطلب یہ ہے کہ یسوع کا امن انسانی نظاموں، ریاستی پالیسیوں، یا بین الاقوامی معاہدوں سے مختلف ہے۔ یہ امن انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے، اس کے دل کو بدلتا ہے، اس کے رویے کو تبدیل کرتا ہے، اور اسے محبت، معافی، اور قربانی کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ یہ امن نہ تو طاقت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، نہ ہی صرف قوانین کے ذریعے نافذ کیا جا سکتا ہے۔

آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم اس روحانی امن کو عالمی سیاست کے فریم ورک میں فٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عالمی سیاست میں امن کا مطلب اکثر طاقت کے توازن، مفادات کے تحفظ، اور وقتی سمجھوتوں سے ہوتا ہے۔ یہاں اخلاقیات سے زیادہ اہمیت اسٹریٹیجک مفادات کو دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب مذہبی رہنما عالمی سطح پر امن کی بات کرتے ہیں تو ان کی بات ایک اخلاقی اپیل بن کر رہ جاتی ہے، جو عملی سیاست کے میدان میں زیادہ اثر نہیں ڈال پاتی۔

مزید برآں، موجودہ عالمی نظام میں مذہبی رہنماؤں کا کردار محدود ہو چکا ہے۔ نہ صرف ویٹیکن بلکہ کسی بھی مذہب کے بڑے رہنما کو عالمی سطح پر ہونے والے اہم امن مذاکرات میں فیصلہ کن حیثیت حاصل نہیں۔ چاہے وہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات ہوں، یوکرین کی جنگ ہو، یا دیگر عالمی بحران—فیصلے سیاسی اور عسکری قیادت کرتی ہے، نہ کہ مذہبی شخصیات۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے تاکہ ہم مذہبی بیانات سے غیر حقیقی توقعات وابستہ نہ کریں۔

یہ تمام نکات ہمیں ایک اہم نتیجے تک لے جاتے ہیں۔ امن ایک پیچیدہ حقیقت ہے جسے نہ صرف الفاظ سے حاصل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی محض روحانی تعلیمات سے عالمی سطح پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ یسوع مسیحؑ کا امن ایک فرد کی اندرونی تبدیلی سے شروع ہوتا ہے، جبکہ عالمی امن ایک الگ میدان ہے جو طاقت، مفادات، اور سفارت کاری کے اصولوں کے تحت چلتا ہے۔ جب تک ہم ان دونوں حقیقتوں کے درمیان فرق کو نہیں سمجھیں گے، تب تک ہم بار بار اسی الجھن کا شکار ہوتے رہیں گے۔

آج دنیا کو صرف ایسے رہنماؤں کی ضرورت نہیں جو امن کی بات کریں، بلکہ ایسے انسانوں کی ضرورت ہے جو خود امن کا مظہر ہوں۔ ایسے انسان جو اپنے اندر نفرت کو ختم کریں، جو انصاف کو اپنائیں، اور جو محبت کو اپنی زندگی کا اصول بنائیں۔ کیونکہ تاریخ نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ امن کسی ایک بیان، کسی ایک معاہدے، یا کسی ایک ادارے سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ انسان کے اندر سے جنم لیتا ہے اور پھر معاشرے تک پھیلتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پوپ کی آواز ایک اہم اخلاقی یاد دہانی ہے، مگر دنیا کے مسائل اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں۔ جب تک عالمی نظام میں طاقت اور مفادات کا غلبہ رہے گا، تب تک امن ایک مشکل ہدف رہے گا۔ اور جب تک انسان اپنے اندر تبدیلی نہیں لاتا، تب تک کوئی بھی بیرونی نظام حقیقی امن قائم نہیں کر سکتا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں ہمیں یسوع مسیحؑ کے پیغام کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے—ایک ایسے پیغام کے طور پر جو دنیا کو نہیں بلکہ پہلے انسان کے دل کو بدلنے کے لیے دیا گیا تھا۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading