ہیڈلائنز

ہم جُدا نہیں۔۔۔! : عطاالرحمٰن سمن

انڈیا ایکٹ 1935ءکے تحت 37-1936ءکے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو بُری طرح شکست ہوئی تھی۔ وہ 472مسلم سیٹوں میں سے صرف 109پر کامیابی حاصل کر پائی تھی۔ اِس کے بعد جناح نے عوام میں سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے مسلم شناخت کو استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا جس کا اظہار 1940ءکی قرارداد کی صورت میں کیا گیا۔ جناح نے ہندوستان میں صدیوں سے ساتھ ساتھ رہتے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ ہم جدا ہیں۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہ سکتے۔ ہم الگ قوم ہیں۔مسلم لیگ کے اپنائے گئے بیانیہ کے مطابق قومیت کی بنیاد مذہب تھی تودوسری طرف اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگانے والے کہہ رہے تھے کہ قومیت کی بنیاد زمین اور خطہ سے جڑی ہے ۔ ہمارے مذہب الگ ہیں مگر قومیت ایک ہی ہے۔شاعر مشرق علامہ اقبال بھی تو یہی فرما رہے تھے؛
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستاں ہمارا
(بانگِ درا (حصہ اوّل) 1905ءتک)

مسلم اکثریتی علاقہ جات میں مذہب کے نام پر الگ ہونے کا نعرہ اپنا جادو دکھا رہا تھا۔ چنانچہ جب پاکستان بننے کے امکان روشن ہو گئے تو تقریباًبہتر لاکھ افراد اِس پھیلائی گئی نفرت کی بھینٹ چڑھے۔ ” ہم جدا ہیں “ ” ہم جدا ہیں “ کے تحت ملک حاصل کر نے کے بعد گیارہ اگست 1947ءکو قوم کے باپ قائد اعظم محمد علی جناح نے نئی مملکت کے خدو خال بیان کرتے ہوئے کہا، ” ہم جدا نہیں“۔ ہم ایک قوم ہیں ۔ گویا پاکستان بننے کے بعد جناح نے دو قومی نظریہ ترک کرتے ہوئے قومیت کی بنیاد وطن قرار دے دی تھی گویا اب ہمیں اکھنڈ پاکستان کا نعرہ دیا گیا ۔ پاکستان کے قیام کے لئے مذہب کی بنیاد پر نفرت کا جو زہر بویا گیا تھا جناح کی ایک تقریر اُس کا تریاق نہیں ہو نے والی تھی ۔ چنانچہ اِس تقریر کو سنسر کر کے جناح کو ” ہم جدا ہیں“ کا ورد یاد دلایا گیا۔ پھر پنجاب اسمبلی کے مسیحی اسپیکر ایس پی سنگھا کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لا کر انہیں فارغ کر کے جناح کے ”ہم جدا ہیں “ کے بیانیہ کو تقویت دی گئی۔جناح سے چھٹکارا حاصل کر نے کے بعد 1949ءمیں منافرت ، تعصب اور امتیاز کی داغ بیل کو مزید مستحکم کرنے کے لئے ہم نے قرارداد ِ مقاصد منظور کر کے باہمی تفریق کے رنگ کو ریاستی سرپرستی عطا کر دی۔ بعد ازاں مئی 1953ءمیں احمدیوں کے خلاف ہونے والے فسادات کی بنیاد بھی ”ہم جدا ہیں “ کا الاپا ہوا راگ تھا۔

پاکستان کا وجود ایک تقسیم کے باعث ہوا تھا چنانچہ تقسیم کی ذہنیت ہماری میراث کا حصہ بن گئی۔1971ءمیں ہم نے اپنے اکثریتی حصہ مشرقی پاکستان کو کہا کہ ” ہم جدا ہیں“ یوں ”ہم جدا ہیں “ کے منافرانہ ریلے میں بہتے ہوئے دو قومی نظریہ بحیرہ بنگال کے پانیوں میں کہیں ڈوب گیا۔ اور پھر ستمبر1974ء میں احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینا اسی کا تسلسل ہوا۔ عوام کو الگ اور جدا کرنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ خطبوں ، ڈارموں فلموں اور نصابی کتب کے ذریعے ہم نے ’ اپنی نسلوں کی روحوں میں’ ہم جدا ہیں“ کا منترہ اتار دیا ہے۔ دنیا بھر میں رنگ نسل اور مذہب کے نام پر امتیاز کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔ انسانوں نے اِس درجہ تک بالیدگی ایک روز میں حاصل نہیں کی۔

یکم دسمبر1955ءکا دِن تھا جب امر یکہ (البامہ، منٹگمری) میں ایک سیاہ فام عورت روزا پارکس شہر کی ایک لوکل بس میں سفر کے دوران سفید فام افراد کے لئے مخصوص سیٹ پر بیٹھ گئی تھی۔جب سفید فام افراد کی نشستیں بھر گئیں تو بس ڈرائیور جیمز بلیک نے روزا پارکس اور تین دیگر سیاہ فام لوگوں کو سیٹیں خالی کرنے کے لئے کہا ۔ روز پارکس نے اٹھنے سے انکار کر دیا ۔ اُسے رنگت کی بنیاد پر الگ ہونے کے قانون کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا ۔عدالت نے اُس پرچودہ ڈالر جرمانے کے علاوہ عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم سنایا۔ اِس چھوٹے سے سانحہ نے امریکہ میں مساوی شہریت حاصل کرنے کی ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جس نے امریکہ میں نسلی امتیاز کو شکست دے کر انسانیت کو فتح دلائی۔پاکستان کے قیام کو پون صدی ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم سنٹر فار سوشل جسٹس نے ایک حرف انکار بلند کیا ہے۔ آج بھی مساوی شہریت کے حقوق کا معاملہ ہے ۔ سنٹر فار سوشل جسٹس نے ” ہم جدا نہیں “ کے عنوان سے ایک دستاویزی فلم اور گیت جاری کیا ہے۔ دستاویزی فلم میں پاکستان میں جدا گانہ انتخابات کے ذریعے مذہبی اقلیتوں کوقومی دھارے سے الگ کرنے کے جملہ اثرات اور اسباب پر پر بات کی گئی ہے۔ سنٹر فار سوشل جسٹس نے قیام پاکستان کے بعد قائد کے دئےے گئے نعرے ” ہم جدا نہیں “ کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہمارے ہاں چرچ کی قیادت میں مخلوط انتخابات بحال ہو چکے ہیں ۔ اِس کے ثمرات آہستہ آہستہ نظر آنے شروع ہو گئے ہیں ۔ دوسری طرف ہمارے قومی نصاب تعلیم اور دیگر ذرئع ابلاغ سے ہماری نسلوں کے خون میں اتارا گیا منترا ”ہم جدا ہیں “ اِس قدر گہرا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے مخلوط انتخابات قبول کرنے کے باوجود اپنی جماعتوں میں مذہبی اقلیتوں کو اقلیتی ونگ بنا کر ”جدا “ کر کے رکھا ہے۔ آج پاکستان میں ”مرکز برائے سماجی انصاف “(سنٹر فار سوشل جسٹس ) نے روزا پارکس کی مانند تفریق کو ماننے سے انکار کر تے ہوئے کہا ہے کہ ”ہم جدا نہیں “ کا نعرہ بلند کیا ہے۔ روزا پارکس کے ایک انکار کے پیچھے سیاہ اور سفید فام لوگ کھڑے ہو گئے تھے۔ جس کے باعث امریکہ سے نسلی امتیاز کے خاتمے کی شروعات ہوئی تھی ۔ 1955ءسے 2009ءکا سفر طے کر کے امریکی قوم نے تمدن کی معراج چھوتے ہوئے ایک سیاہ فام باراک اوبامہ کو اپنا صدر منتخب کیا تھا۔ آج پاکستان کی اکثریتی آبادی کو سنٹر فار سوشل جسٹس کے انکار کے ساتھ آواز ملا کر قائد اعظم کے نعرے ”ہم جدا نہیں “ کو پاکستان کا نعصب العین قرار دینا ہو گا ۔ یہ نعرہ پاکستان کے آئین ، قوانین اور پا لیسیوں کی اساس ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کی بقا اور استحکام صرف اور صرف ” ہم جدا نہیں “ کے نعرے کو اُس کی روح کے مطابق اپنانے میں ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading