یورپ چند برسوں بالخصوص پچھلے تین چاربرسوں سے تو انتہا پسندی کا شکار ہو رہاہے۔ اِس کی کئی وجوہات ہیں پہلی تو ہر عروج کو زوال ہے پھر چاہے وہ ملک ہو،سلطنت یا پھر انفرادی شخصیت ہی کیوں نہ ہو۔ بابل سے لے کر سلطنت ِعثمانیہ تک ،زوال سے کوئی نہیں بچ سکا۔ وجوہات کچھ بھی ہوں عروج کے وقت اپنے زوال کا ادراک نہ ہونا ایک عام بات ہے اور ویسے بھی انڈیا والے اس کو ”کرما“ بولتے ہیں جب یورپ نے اپنے سفید فام ہونے کا ایک فائدہ اُٹھایااور دنیا کے مختلف جگہوں پر سازشوں اور جنگوں کے ذریعے ملکوں پر قبضے کیا اور اس کو اپنی فتح قرار دیا۔ آج بالخصوص پاکستان میں لکھی جانے والی تواریخ میں مسلم جنگجوﺅں کو فاتحین ہی لکھا جاتا ہے قابضین نہیں۔ کئی دفعہ ہماری تحریریں ہماری ذاتی پسند نا پسند پر بھی منحصر ہوتی ہے۔ جب جنگجو مسلمان ہیں تو وہ فاتحین اور جب غیرمسلم ہیں تو قابضین،دوہرا معیار کیوں؟ مگر یہاں تو ایسا ہی چلتا ہے۔ یورپ آج آگ کی لپیٹ میں ہے اوراس کی چند وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے اس نے ان کو دودھ پلایا جو اپنی بلوں سے صرف آئے ہی انہیں ڈسنے کے لیے تھے۔ یورپ کا خیال تھا کہ یہ تھکے ماندے جنگوں کی تباہ کاریوں کے ڈنگے ہوئے لوگ ہیں جنہیں ان کے سہارے کی ضرورت ہے۔ حضرت علی کا فرمان ہے؛
جس پر احسان کرو اُس کے شر بھی خبردار رہو۔
پہلے یورپ اور امریکہ نے ان مسلم ممالک کی دولت حاصل کرنے کے لیے ان ممالک میں خانہ جنگی جیسے سرگرمیاں کروائیں اور جب وہاں پر سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گیا اور لوگ اپنے ممالک چھوڑ کر اپنے لیے محفوظ مقامات کی جانب بھاگے تو ان کو کھلے بازوﺅں ۔ جب ان پناہ گزینوں کی وہ نسل جو اُن یورپی ممالک میں آمد کے وقت دس یا بارہ سال کی تھی جوان ہوئی اور مزید بچے پیدا ہوئے اور آبادی بڑی اور ذرائع جو یورپ کے تھوڑی آبادی کے لحاظ سے پورے تھے ان میں کمی واقع ہوئی تو کرائم بڑھنے لگا ،ہرطرف برقعے ،نقاب، سڑکوں پر بلکہ سڑکوں کے درمیان نماز ادا ہونے لگیں۔( نماز ادا کرنا اچھی بات ہے لیکن مساجد یا پھر کسی صاف اور اچھی جگہ پر) تومقامی لوگ کو محسوس ہوا کہ یہ پناہ گزین ان کے کلچر کو خراب کر رہے ہیں۔ حالاں کہ صاحب ِ علم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جب کسی ملک میں کسی خاص اُمت، یا قوم کی آبادی بڑھنے لگے تو اُس کے ساتھ مسائل بھی جنم لیتے ہیں یہی کچھ یورپ میں ہوا۔ شام، مڈل ایسٹ ، افغانستان میں ہونے والی جنگوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی اور معاشی عدمِ استحصام نے امریکہ بالخصوص یورپی ممالک میں اب نئی طرز کے مسائل پیدا کر دئیے۔
پچھلے دنوں فرانس میں ہونے والے ہنگامے بظاہر تو تعلیمی سہولیات میں کمی کی وجہ سے پھوٹ پڑے لیکن وہ لوگ جوپہلے ہی کسی حسد اور تنگ نظری کا شکارہوں وہ اِس انتظار میں ہوتے ہیں کسی طرح چھوٹی سے جنگاری پھوٹے اور ہم اُس پر تیل ڈال کر اُس آگ کو بھڑکائیں ، بالکل ایسا ہی کچھ یورپ بالخصوص فرانس میں بھی ہوا۔ اگر سوشل میڈیا یا میڈیا پر فوٹیج کوغور سے دیکھیں تو اندازہ ہو جائے گا کہ اس احتجاج میں طالب علم کم اور پیشہ ورانہ اور ٹریننگ یافتہ انتہاپسند زیادہ دِکھائی دئیے۔ بات تو تعلیمی سہولیات کی ہورہی تھی، مہنگائی اور ناانصافی کی ہو رہی تھی پھر یہ فلسطین کے جھنڈے کہاں سے آگئے۔ ان املاک ،جن میں عام کاروبار،اے ٹی ایم مشینیں ،چرچز اور تاریخی عمارتوں کا کیا قصور تھا؟ بات تو صاف ظاہر ہے ضرور اِن دھنگوں کو ہنڈل کہیں اور سے کیا جارہا ہے جہاں سے یورپ کی گلیوں میں دہشت پھیلانا، اُن کی بچیوں کا ریپ کرنا ۔ چھوٹے بچوں کو اغوا کرنا وغیرہ۔ کون لوگ ہیں جو یورپ میں آگ اور خون کی ہولی کھیلنا چاہتے ہیں؟ یقینا وہ جو دن رات اِس کی تباہی کی دُعائیں مانگتے ہیں جو وہاں گئے ہیں اس کو فتح کر نے، قبضہ کرنے اور یورپ کے لوگوں کو لونڈیا ں اور غلام بنانے ۔ اگر ایسا عملی طور پر شروع ہو گیا تو یورپ ایک بار پھر سیاہ دور ( ڈارک ایجز) میں چلا جائے گا۔ جوکہ لگ رہا ہے ۔ وہ جو مہربان تھے، خدا ترس تھے ، اپنا ماضی بھلا کر اب انصاف اور امن کی راہ پر گامزن تھے ایک بار پھر تین سو سال پرانے دور میں چلیں جائیں گے۔ اس میں سب سے زیادہ ان لوگوں کو نقصان ہوگا جو ان ممالک میں روزی روٹی اور اچھے مستقبل کی تلاش میں گئے تھے تاکہ زندگی کے چار دن اچھے سے گزار لیں۔ اب اُنہیں یا تو وہاں مرنا ہوگا یا ان ممالک کو چھوڑ کر واپس آنا ہوگا۔ یورپ یہ بات کہہ کہہ کر تھک گیا کہ مذہب ہر کسی کا ذاتی عمل ہے اس پر عمل پیرا ہونا ہر کسی کا ذاتی اور بنیادی حق ،اس کو جبراً دوسروں پر نافذ کر نا درست بات نہیں لیکن ہم لوگ یہ بات ماننے کے لیے تیا ر ہی نہیں۔
ہم وہاں شریعت نافذ کرنا چا ہتے ہیںہم اپنے ممالک بلکہ اپنی زندگیوں پر شریعت نافذ کیوں نہیں کرتے؟ اپنے اپنے اسلامی ملک چھوڑ کر ہمیں یورپ میں اسلامی سکول چاہیے ، اسلامی ماحول چاہیے جبکہ ہم واپس اس ماحول میں نہیں آنا چاہتے جہاں یہ سب کچھ میسر ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے وڈیوز بھی موجود ہےں جن میں لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ اب یورپ اور امریکہ کے ہر گھر میں اسلام پہنچے گا۔ حالانکہ اسلام تو پہنچ چکا اب آپ نے کیا لینا ہے۔ اب ان پر چھوڑ دیں وہ قبول کرتے ہیں یا نہیں ۔ آپ نے مساجد میںاذانیں دینی شروع کردیں ، بازاروں میں حلال بکنا شروع ہوگیا ۔ اب آپ کیا چاہتے ہیں؟ اب چاہتے ہیں یورپ اور امریکہ کو فتح کرنا ۔ ہم چیخ چیخ کر کہتے ہیں اسلام دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن چکا ہے(اس پر بحث ہوسکتی ہے) پھر بھی اگر اس بات کو سچ مان بھی لیا جائے تو پھرآپ کیا چاہتے ہیں؟
ایسی باتوں کے نتیجے میں اب یورپ اور امریکہ میں انتہائی دائیں بازو کی سیاست نے اب زور پکڑنا شروع کر دیا ہے۔ گورے بھی اب اپنے مذہبی عقائد کی طرف لوٹنا شروع گئے ہیں اور ان میں بھی جوشر پسند عناصر ہیں جو کہ ہر مذہب اور معاشرے میں ہوتے ہیںوہ ہر وقت موقع کی تلاش میں ہوتے ہیں کہ کوئی ہنگامہ آرائی کریں جو اب شروع ہو رہا ہے ۔ یوکے میں نائجل فراج جیسے لوگ اب غیر قانونی ہجرت اور مسلمان مخالف تقریریں کر رہا ہے۔ یورپ میں اسلام مخالف بل پاس ہونے شروع ہوگئے۔دونوں اطراف انتہاپسندی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ایسی شنید بھی ہے کہ اگلے تین برسوں میں ریورس مائیگریشن شروع ہو جائے گی۔یعنی آنے والے برسوں میں جہاز بھر بھر کر لوگ واپس اپنے وطن واپس آئیں گے۔ لہٰذا اِن تما م معاملات کے ذمہ دار ہم خود ہی ہیں ،ہمیں ٹھنڈی کھیر ہضم نہیں ہوسکی۔ یورپ میں شامی اور افغانی ، کینیڈا میں سکھ برادری، یوکے میں مسلمان اور ہندو ، آسٹریلیا میں ہندو کمیونٹی اور امریکہ میں مسلمان اورمیکسیکن برادری نے خود ہی اپنی روزی روٹی پر لات ماری ہے۔
*******

