قلم ادب کی سخن کی کتاب بزمِ ضیا
ہوا فروغِ سخن جلوہ گر قلم کا دیا
اٹھان اِس کی عجب ہے کہ کر گئی حیران
ہے سال بارہواں پر لطیف اس کی ادا
سخن کی محفلوں پر جب خزاں کی شورش تھی
بہار تازہ فروغِ سخن کا پھول کھلا
لگایا جس نے یہ پودا ہے افضل اکرم وہ
نہال نو کی رگوں میں لہو جنوں نے بھرا
ظہور الیشع ہوئے ہم نوا رفیق سفر
جلایا جن کی وفا نے سخن وری کا دیا
خیال و فکر میں ہوں رہروانِ فن ہم دم
تو بزمِ ذوق جنوں میں وہ پائیں داد و دعا
جنون بزم کی شہرت نے کر دی نیند اچاٹ
کہ وقت ہو گیا وقفِ قلم رواں ہر جا
ہے ساحل اب تو ترے ہاتھ میں کمان اس کی
ہے ساتھ کارواں تیرے یہ تیری عہد سرا
عصیم راہِ فروغ سخن کو خوں سے نکھار
ہے تیرے ذوق کی قیمت ترا خرام وفا
*******

