۔۔۔اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے! : روبنسن سیموئیل گل

بچپن میں ہم کہانیوں میں پڑھا کرتے تھے کہ پھر شہزادے کی شادی ہو گئی اور وہ دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔ تب بچگانہ ذہن یہ سوچتا تھا کہ ہنسی خوشی رہنے کی بنیادی شرط شادی ہی ہے۔ ویسے بھی لفظ شادی کے اندر ہی خوشی پنہاں ہے۔ کیوں کہ شاد کا مطلب ہے خوش ہونا یا خوشی منانا تاہم اکثریت کو شادی کے بعد شادی کے اصل مفہوم کی سمجھ آتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کئی جوڑے شادی کے بعد ہنسی خوشی رہنے لگتے ہیں۔ مگر حقیقتا” خود بخود خوش رہا نہیں جاتا بلکہ حکمت اور کوشش کے ساتھ خوش رہنا پڑتا ہے۔ زندگی کے دکھوں اور پریشانیوں میں سے ہی روز بروز خوشیاں کشید کرنا پڑتی ہیں۔ جس طرح زمین سے اناج حاصل کرنے کے لیے اس پر ہل چلانا پڑتا ہے اسے جوتنا پڑتا، اس میں بیج بونا اور اسے پانی دینا پڑتا ہے، اسی طرح خوشیوں بھری زندگی کے لیے بھی محنت کرنا پڑتی ہے۔ہمارے ہاں فلمیں بھی کچھ اس طرح پیش کی جاتی ہیں کہ آخر کار بہت زیادہ تگ و دو اور مخالفت کے بعد ہیرو اور ہیروئن کا ملاپ ہو جاتا ہے۔ ان کی اصل زندگی کی ابتدا تو یہاں سے ہوتی ہے مگر تب فلم ختم ہو جاتی ہے۔

اصل زندگی تو تمام طرح کے منفی و مثبت حالات میں جاری و ساری رہتی ہے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی ہمیں مشکلات اور کٹھنائیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔بعض اوقات خوشیوں کو اولاد سے مشروط کر دیا جاتا ہے کہ نا خوش جوڑا پہلا بچہ پیدا ہوتے ہی خوش و خرم ہو جائے گا۔ یہ تمام عناصر بلاشبہ انسان کو خوشی دیتے ہیں مگر ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ یہ شادمانی کے ساتھ ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔ خواہ شادی ہو یا اولاد کی پیدائش ہمیں اپنی ذمہ داری کو پہچاننا اور اس کو مل جل کر نبھانا ہوتا ہے ورنہ ہنسی خوشی سے رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ ہمارے خوش رہنے میں ہمارے حالات سے زیادہ ہمارے تعلقات کا عمل دخل ہوتا ہے۔ کبھی بھی آپ کہانیوں میں یوں نہیں پڑھیں گے کہ وہ سب کچھ چھوڑ کر جنگلوں میں چلا گیا اور وہاں وہ اکیلا ہنسی خوشی رہنے لگا۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ کسی تنہا شخص کو ہنستے مسکراتے ہوئے دیکھیں تو آپ کے ذہن میں پہلا خیال یہی آئے گا کہ شاید اس کی تنہائی نے اسے سدھائی بنا دیا اور اب یہ اکیلا ہی ہنستا رہتا ہے۔
خدا کو بھی آدم کی تنہائی پسند نہ آئی اور ایک مددگار اس کی پسلیوں میں سے ایک کو لے کر خلق کر دیا جو اس کی مانند تھا۔ خدا نے انسان کو ایسا بنایا ہے کہ وہ فطری طور پر اکیلا رہنا پسند نہیں کرتا۔ اکیلا انسان شاید خوش رہ سکتا ہے مگر اپنی خوشیاں نہ تو منا سکتا ہے اور نہ ہی بانٹ سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ فطرتی طور پر ہمیں خوش رہنے کے لیے کسی ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں تعلقات کی ضرورت ہوتی ہے۔ واقعی اپنوں کے بغیر دکھ بڑھ جاتے اور خوشیاں دور رہ جاتی ہیں۔ زبور نویس یوں فرماتا ہے کہ دیکھو کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم مل کر رہیں۔ زبور 133 کی پہلی آیت کی روشنی میں ہمارے سامنے ایک نکتہ تو یہ آیا کہ خوش رہا نہیں جاتا بلکہ خوش رہنا پڑتا ہے۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ خوش رہنے، خوشیاں منانے اور خوشیاں بانٹنے کے لیے ہمیں دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔

انسان وہ واحدجان دار ہے جو اپنی پیدائش پر سب جان داروں سے زیادہ بے بس ہوتا ہے۔ اسے اپنی بقا کے لیے دوسروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ تو وہ چل سکتا ہے، نہ بول سکتا ہے اور نہ ہی خود سے اپنی خوراک کا بندوبست کر سکتا ہے۔ گویا اس کے ارد گرد بسنے والے لوگ اس کی پیدائش سے ہی اس کا خیال نہ رکھیں تو وہ چند دنوں یا شاید چند گھنٹوں میں ہی زندگی کی بازی ہار جائے۔ یہ دوسرے انسان جو ہماری پیدائش سے ہی ہمیں سنبھالنے کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لیتے ہیں عموما” ہمارے والدین ہی ہوتے ہیں۔ خدا نے ان کے اندر بھی یہ جذبہ جبلی طور پر رکھا ہوتا ہے خاص طور پر ماں جو نو ماہ تک اپنے بچے کو اپنے رحم میں ہی اٹھائے رکھتی ہے، اس کی خاطر دکھ، تکلیف اور مصیبتیں برداشت کرتی ہے۔

غور کیجئے کہ شاید اس جوڑے کے ذہن میں وہی خیال گردش کر رہا ہو کہ اولاد ہوگی تو ہمیں خوشیاں ملیں گی اور اولاد جو پیدا ہوتی ہے اسے قطعا” اس بات کا ادراک نہیں ہوتا کہ وہ نہ صرف اپنے والدین بلکہ دادا دادی نانا نانی اور تمام قریبی عزیز رشتہ داروں کی خوشیوں کا ضامن بن جاتا ہے۔ حالاں کہ اپنی بھوک کے لیے بھی وہ سوائے رونے چلانے کے کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ ماں باپ عزیز رشتہ داروں پر منحصر ہے کہ وہ زندگی کے اس مرحلے پر اس کے لیے کس طرح معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

افسوس کہ جن تعلقات کے درمیان اور جن تعلقات کے نتیجے میں اس بچے نے جنم لیا ہوتا ہے ان میں اکثر اوقات پہلے سے کھنچا تانی، انا پرستی، نفرت و حسد، ناچاقیاں، کش مکش اور عداوتیں چل رہی ہوتی ہیں۔خواہ رنجشیں اور ناراضیاں شوہر اور بیوی میں ہوں، خواہ ساس بہو یا نند بھاوج میں ہوں ۔۔۔ ان ہی سلسلوں اور تعلقاتی کش مکش و تناؤ میں بچہ آنکھ کھولتا اور پھر ان سب کی آنکھوں کا تارا بن جاتا ہے جنہیں ایک دوسرے کی موجودگی ایک آنکھ نہیں بھارہی ہوتی۔بعض کہانیاں یہاں بھی ختم ہو جاتی ہیں،
“۔۔۔بادشاہ اور ملکہ کو خدا نے ایک چاند سا بیٹا دیا اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے۔”
یہ بعد کی بات ہے کہ اس چاند سے بیٹے نے بعد میں کیا چن چڑھائے اور کیا کیا گل کھلائے۔ ہم بھی بعض اوقات سمجھتے ہیں کہ فلاں جوڑے کی اولاد ہو جائے گی تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ وقتی طور پر سب کچھ اچھا لگتا اور ایسی خوشی محسوس ہوتی ہے جو بیان سے باہر ہوتی ہے مگر اولاد جوں جوں بڑی ہوتی اور ہوش سنبھالتی ہے تو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اسے محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس کی خوشیوں کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہی ہیں عموما” اب اس کی سوئی اس نکتے پر اٹکی ہوتی ہے کہ فلاں شخص مجھے مل جائے، میرا ہو جائے، میری اس سے شادی ہو جائے تو بس ہم بھی ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔ افسوس کے ہنسی خوشی رہنے کی یہ دوڑ دھوپ ایک نسل سے دوسری نسل میں اسی طرح جاری و ساری رہتی ہے اور ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں گھومتے ہوئے انسان خوشیوں کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہتا ہے۔ خوشیوں کے حصول کا یہ خواب، ایک سراب کی طرح کبھی بھی حقیقت کا روپ نہیں دھارتا۔

موجودہ دور کی معاشی و معاشرتی مشکلات اور چیلنجز میں رہتے ہوئے جب ہم کسی خاندان کو ایک ملک سے دوسرے ملک میں نقل مکانی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ امریکہ، کینیڈا یا انگلینڈ منتقل ہو گئے اور اس طرح ہنسی خوشی رہنے لگے لیکن ذرا ان سے پوچھ کر دیکھئے کہ کیا ان مغربی ممالک میں تعلقات نبھانا، ایک دوسرے کی توقعات پر پورا اترنا اور مل جل کر ہنسی خوشی رہنا آسان ہوجاتاہے؟ ہنسی خوشی تو کیا وہاں کی مشینی زندگی میں خاندان کے لیے اکٹھے مل بیٹھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ ہم جب سوشل میڈیا کی دنیا دیکھتے ہیں اور لوگ اپنی سرگرمیوں، خاندانی دعوتوں، سیر و تفریح اور ریستورانوں میں مل کر لذیذ اور مہنگے کھانے کھاتے ہوئے تصاویر لگاتے ہیں تو عموما” وہ مسکراہٹ تصویر کے لیے چند لمحوں کی اور عارضی ہوتی ہے۔ بس سب کے ہاتھوں میں موبائل ہوتا ہے سب اپنے اپنے دائرے میں اپنی اپنی دھاک بٹھانے یا اپنی خوشیاں دکھانے کے چکر میں ہوتے ہیں مگر دل پھر اسی طرح بوجھوں، فکروں اور عموما” ایک دوسرے کے ساتھ ناچاقیوں اور رنجشوں سے ہی بھرا ہوتا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حقیقتا” خوش کیسے رہا جائے؟ جیسے میں نے پہلے بیان کیا کہ خوشی کا تعلق ایک دوسرے سے ہے۔ اکیلا شخص تو مسکراتا ہوا بھی نارمل نہیں لگتا تو اگر وہ خوشی سے قہقہہ لگائے گا تو لوگ تو واقعی اسے ذہنی مریض سمجھیں گے۔ خوشیوں کا تعلق ہمارے تعلقات سے ہے اور دل چسپ بات یہ ہے کہ مشرقی معاشرے میں تعلقات ہونے کی وجہ سے انسان خوش نہیں رہ پاتا اور پھر توقعات بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں اور مغربی معاشرے میں تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے انسان تنہائی کا شکار ہو کر خوش نہیں رہ پاتا۔ بعض لوگ خوشی کو مادہ پرستی، اشیاء یا روپے پیسے کی بہتات سے مشروط کرتے ہیں کہ ڈھیر سارا پیسہ ہو تو خوشیاں بھی ڈھیر ساری ہوں گی مگر یہ بھی حقیقت کے برعکس ہے۔ پیسہ وقتی خوشی عطا کر سکتا ہے۔ آپ پیسے کے ذریعے کوئی ایسی سرگرمی کریں جو آپ کو خوش کر سکے مگر اس سرگرمی کے بعد خوشی بھی جاتی رہتی ہے گویا وہ خوشی بھی عارضی ہوتی ہے۔

کلام الہی ہمیں سکھاتا ہے کہ خوش رہا نہیں جاتا بلکہ خود خوش رہنا پڑتا ہے پھر نہ صرف خود خوش رہنا ہے بلکہ خداوند میں خوش رہنا ہے فلپیوں چوتھا باب چوتھی آیت میں مقدس پولس رسول یوں لکھتے ہیں، “خداوند میں ہر وقت خوش رہو پھر کہتا ہوں کہ خوش رہو۔”
یہ نصیحت بھی ہے اور حکم بھی اور اگلی ہی تاکید یہ بھی کی گئی کہ تمھاری نرم مزاجی سب آدمیوں پر ظاہر ہو۔
زبور 37 اور اس کی چوتھی آیت میں لکھا ہے؛
“خداوند میں مسرور رہ اور وہ تیرے دل کی مرادیں پوری کرے گا۔”
ہمیں کسی گاؤں، شہر، پہاڑ، جنگل، جزیرے، سمندر کے کنارے یا کسی ترقی یافتہ ملک میں خوش نہیں رہنا بلکہ پہلی بات یہ یاد رکھنی ہے کہ ہم خداوند میں خوش رہنا سیکھیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کی مرضی میں خوش رہنا اس کے تابع رہنا سیکھیں اسی طرح دوسروں کے ساتھ تعلقات کو قائم رکھنے اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے بھی ہمیں کوشش کرنا ہوگی۔

“دیکھو کیسی اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم مل کر رہیں۔” گویا تعلقات میں باہم مل کر رہنا بھی ہمارے لیے ایک نصیحت بلکہ حکم ہے۔ جب ہم خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے خدا کو جان جاتے اور اس کے ساتھ اپنے تعلق کو سچائی کے ساتھ قائم کر لیتے ہیں تو یقینا” باقی تعلقات بھی اپنی اپنی جگہ پر آجاتے ہیں اور ہم مسیح یسوع کا مزاج رکھتے ہوئے؛ معاف کرنے والے، درگزر کرنے والے بن جاتے ہیں، پاک روح کا پھل محبت اور پھر خوشی ہمارے اندر پیدا ہوتا اور دوسروں کو بھی سرشار کرتا ہے۔

یاد رکھیں، خوشی پاک روح کا پھل ہے(گلتیوں باب 5 آیت 22) اور یہ محبت کا نتیجہ ہے خدا کی اس محبت کا نتیجہ جو اس نے خداوند یسوع مسیح کے وسیلے سے ظاہر کی۔ خدا نے اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کی کہ جب ہم گناہ گار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا۔(رومیوں باب 5 آیت 8)۔ اب ہمیں اسی کی محبت کے جواب میں اپنے سارے دل، جان، طاقت اور عقل سے اس سے محبت رکھنا ہے اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھنا ہے۔اسی محبت کا نتیجہ خوشی ہوگا، وہ حقیقی و باطنی خوشی جو دنیاوی چیزوں سے مشروط نہیں ہوگی بلکہ اس کا منبع و سرچشمہ صرف اور صرف خدا کی ذات ہوگی۔

موجودہ دنیا کی بگڑی حالت کی وجہ ہمیں بائبل مقدس کی پہلی کتاب، پیدائش کے پہلے تین ابواب میں ہی مل جاتی ہے اور سب چیزوں کا انجام اور ایک نئی شروعات بائبل مقدس کی آخری کتاب مکاشفہ کے آخری باب میں ملتی ہے جہاں خدا اور اس کے لوگ ابدیت میں ہمیشہ ہنسی خوشی رہیں گے۔
خداوند میں ہر وقت خوش رہیں اور دوسروں میں خوشیاں بانٹتے رہیں۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading