افسانہ : ستائیس ستمبر- غبارے لے لو ۔۔۔! : ایورسٹ جان

ستائیس ستمبر کی شام تھی۔ شہر کی کشادہ سڑکیں روشنیوں میں نہائی ہوئی تھیں اور موسم خوشگوار تھا۔ میں اپنی عالیشان گاڑی میں بیوی اور بچوں کے ساتھ بڑی خوشی سے پارٹی ہال کی طرف جا رہا تھا۔ آج میری بیٹی کی سالگرہ تھی۔ گاڑی کے اندر بھی جیسے ایک چھوٹی سی جشن گاہ بنی ہوئی تھی۔ بچے ہنس رہے تھے، کوئی کیک کی بات کر رہا تھا، کوئی تحفوں کی، اور میری بیٹی بار بار اپنی نئی فراک کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ اچانک میرے بیٹے نے پوچھا، “ڈیڈ! غبارے کہاں ہیں؟ آپ نے تو کہا تھا بہت سارے غبارے ہوں گے۔” میں نے ہنس کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور کہا، “فکر نہ کرو، راستے میں مل جائیں گے۔ غباروں کے بغیر بھی کبھی برتھ ڈے ہوتا ہے”؟

گاڑی ایک بڑے چوراہے پر سرخ اشارے کے سامنے رکی تو شیشے کے باہر اچانک رنگوں کا ایک بادل سا نمودار ہوا۔ ایک ننھی سی بچی تھی، شاید نو دس برس کی۔ پرانے کپڑے، ننگے پاؤں، بکھرے ہوئے بال، اور ہاتھ میں بے شمار رنگ برنگے غباروں کی ڈوریاں۔ سرخ، نیلے، پیلے، سبز اور سفید غبارے اس کے چھوٹے سے وجود کے اوپر یوں تیر رہے تھے جیسے اس کے حصے کے سارے خواب زمین سے اوپر جا بسے ہوں۔ وہ بھاگ کر میری گاڑی کے قریب آئی اور بولی، “صاحب! غبارے لے لو… بہت اچھے ہیں… گیس والے ہیں… دیر تک نہیں بیٹھیں گے۔” میرے بچوں نے ایک ساتھ شور مچا دیا، “ڈیڈ! سارے لے لیں، سارے!” میں نے شیشہ نیچے کیا، قیمت پوچھی اور پورا گچھا خرید لیا۔ بچے خوشی سے اچھلنے لگے۔ میں نے رقم اس کے ہاتھ میں رکھتے ہوئے کچھ اضافی نوٹ بھی دے دیے اور بڑے فیاضانہ انداز میں کہا، “باقی تم رکھ لو۔” ایک لمحے کے لیے مجھے خود پر بڑا فخر محسوس ہوا جیسے میں نے کوئی بہت بڑا نیکی کا کام کر دیا ہو۔ بچی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے کہا، “شکریہ صاحب!” اشارہ سبز ہوا، میں نے شیشہ بند کیا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔ چند ہی لمحوں میں وہ بچی، وہ چوراہا اور اس کی آواز “غبارے لے لو” پیچھے رہ گئے۔

پارٹی ہال روشنیوں سے جگمگا رہا تھا۔ دیواروں پر رنگین ربن تھے، میزوں پر پھول تھے، موسیقی بج رہی تھی اور ہمارے خریدے ہوئے غبارے چھت کے قریب تیر رہے تھے۔ درمیان میں ایک بڑا سا کیک رکھا تھا جس پر میری بیٹی کا نام لکھا تھا۔ “ہیپی برتھ ڈے” کے گیت گونج رہے تھے۔ مہمان آ رہے تھے، تحفوں کے ڈبے بڑھتے جا رہے تھے، تصویریں بن رہی تھیں، ہنسی اور قہقہوں سے ہال بھرا ہوا تھا، مگر نہ جانے کیوں میرے ذہن میں بار بار وہی ننھی بچی آ رہی تھی۔ اس کے بکھرے بال، اس کے ننگے پاؤں، اور اس کی آواز—“صاحب! غبارے لے لو…” میں نے خود کو سمجھایا کہ تم نے اس کے سارے غبارے خرید لیے، پیسے بھی زیادہ دے دیے، اب وہ خوش ہوگی، شاید آج جلدی گھر چلی گئی ہوگی۔ مگر دل نہ مانا۔ جوں جوں پارٹی عروج پر پہنچ رہی تھی، میرے اندر ایک عجیب بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔

آخر میں نے بیوی سے کہا، “میں ابھی آتا ہوں۔ وہ بولی، “کہاں جا رہے ہیں؟ کیک کٹنے والا ہے!” میں نے کہا، “بس پانچ دس منٹ میں۔” میں تیزی سے گاڑی لے کر اسی چوراہے کی طرف روانہ ہوا۔ میرے ذہن میں ایک خیال تھا کہ میں اس بچی کو بھی پارٹی میں لے آؤں گا۔ وہ بھی کیک کھائے گی، میرے بچوں کے ساتھ تصویر بنوائے گی، شاید یہی اصل خوشی ہوگی۔ جب میں چوراہے پر پہنچا تو وہ وہاں نہیں تھی۔ ایک دوسری بچی کنارے پر پھول بیچ رہی تھی۔ میں نے گاڑی روک کر پوچھا، “بیٹا، یہاں ایک لڑکی غبارے بیچ رہی تھی، کہاں گئی؟” اس نے مجھے دیکھا اور پوچھا، “وہ غباروں والی؟” میں نے کہا، “ہاں، وہی۔” وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر بولی، “صاحب… اس کے سارے غبارے بک گئے تھے۔ بہت خوش تھی۔ پیسے لے کر جلدی جلدی سڑک پار کر رہی تھی… ایک گاڑی نے ٹکر مار دی۔ لوگ اسے ہسپتال لے گئے ہیں”۔

میرے ہاتھ کانپ گئے۔ میں نے گھبرا کر پوچھا، “کون سا ہسپتال؟” اس نے نام بتایا۔ میں نے فوراً گاڑی موڑی۔ اب نہ سرخ اشارہ دکھائی دے رہا تھا نہ سبز، صرف وہی آواز سنائی دے رہی تھی—“غبارے لے لو…” ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں عجیب خاموشی تھی۔ میں نے پوچھتے پوچھتے اس کا بستر ڈھونڈ لیا۔ وہ سفید چادر پر پڑی تھی۔ وہی چھوٹا سا چہرہ، مگر اب مسکراہٹ نہیں تھی۔ سانسیں بہت ہلکی تھیں۔ میں آہستہ سے اس کے قریب گیا۔ شاید اس نے مجھے پہچانا بھی نہیں۔ اس کے ہاتھ کے قریب چند نوٹ پڑے تھے۔ وہی نوٹ جو میں نے اسے دیے تھے۔ میرے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ میں ڈاکٹر سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر آواز نہیں نکلی۔

میری نظر بستر کے ساتھ لٹکے ہوئے چارٹ پر پڑی۔ نام، پتہ، عمر، پھر میری نگاہ ایک خانے پر رک گئی—تاریخِ پیدائش: ستائیس ستمبر۔ میں ساکت رہ گیا۔ آج بھی ستائیس ستمبر تھا۔ میرے گھر میں ایک بچی کی سالگرہ منائی جا رہی تھی اور یہاں ایک دوسری بچی اپنی سالگرہ کے دن غبارے بیچ رہی تھی۔ ایک کے لیے غبارے چھت پر اڑ رہے تھے اور دوسری کے ہاتھ سے غبارے ابھی ابھی چھوٹے تھے۔ ایک کے سامنے کیک پر موم بتیاں روشن تھیں اور دوسری کی زندگی کی لو بجھنے کے قریب تھی۔ میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ میں نے سوچا، شاید جو اضافی رقم دیتے ہوئے مجھے اپنی فیاضی پر اتنا فخر تھا، وہ اس کے لیے کوئی نذرانہ نہیں تھا۔ شاید اصل نذرانہ تو وہ بچی تھی، جو اپنی سالگرہ کے دن دوسروں کی خوشیوں کے لیے غبارے بیچ رہی تھی۔

چند لمحوں بعد مشینوں کی آواز بدل گئی۔ میں نے نگاہ نیچی کر لی۔ جب میں واپس پارٹی ہال پہنچا تو کیک کٹ چکا تھا۔ بچے ہنس رہے تھے۔ کچھ غبارے ابھی تک چھت پر تیر رہے تھے۔ ایک سرخ غبارہ میرے سر کے اوپر آہستہ آہستہ ہل رہا تھا۔ میری بیوی نے مجھے دیکھا اور پوچھا، “کیا ہوا؟ آپ اتنے اداس کیوں ہیں؟” میں نے جواب دینے کی کوشش کی مگر آواز گلے میں رک گئی۔ پھر میں نے چھت پر تیرتے ہوئے غباروں کی طرف دیکھا۔ میری آنکھوں سے ایک آنسو نکل آیا۔ میں نے آہستہ سے کہا، “آج… ستائیس ستمبر ہے۔” وہ بولی، “ہاں، ہماری بیٹی کا جنم دن۔” میں چند لمحے خاموش رہا، پھر کہا، “نہیں… آج صرف ہماری بیٹی کا جنم دن نہیں تھا۔ ایک اور بچی کا بھی تھا”…

میری بیوی مجھے دیکھتی رہی اور مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ہال کی ساری آوازوں کے درمیان کہیں بہت دور کسی چوراہے سے ایک ننھی سی آواز پھر سنائی دے رہی ہو، “غبارے لے لو… غبارے لے لو…” میں نے چھت کی طرف دیکھا۔ وہ سارے غبارے ابھی بھی اوپر جا رہے تھے، مگر اس رات پہلی بار مجھے محسوس ہوا کہ بعض غبارے خوشی کی علامت نہیں ہوتے۔ کچھ غبارے ہمیں یہ یاد دلانے آتے ہیں کہ ایک ہی تاریخ کسی کے گھر جشن ہوتی ہے اور کسی کی زندگی کی آخری شام۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading