آئینی عدالت کا غیر مسلموں کے خلاف فتویٰ : خالد شہزاد

پاکستان کا آئین (آرٹیکل بیس، پچیس اور چھتیس) تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور اقلیتوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ جب تک قانونِ شہادت حکم اُنیس سو چوراسی  اور اس سے جڑے ضابطہ فوجداری کے طریقہ کار میں بنیادی تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں، تب تک ماریا شہباز جیسے کیسز میں “بیانِ حلفی” کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا رہے گا۔جبری بیانات کی گنجائش ختم کرنے اور اقلیتی بچیوں کے تحفظ کے لیے درج ذیل ترامیم اور اصلاحات ناگزیر محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں “مذہبی جذبات” کو انسانی جان اور قانون سے اوپر رکھا جا رہا ہے؟ جب وفاقی آئینی عدالت جیسے ادارے نادرا کے ریکارڈ کو نظر انداز کرتے ہیں، تو وہ دراصل ریاست کے اپنے بنائے ہوئے ڈیٹا بیس پر سے عوام کا اعتماد ختم کر دیتے ہیں۔

ماریا شہباز کیس اور اس جیسے دیگر کیسز میں قانونی اور شرعی پیچیدگیاں اس وقت پیدا ہوتی ہیں جب ریاست کا قانون اور روایتی مذہبی تشریحات آمنے سامنے آ جاتی ہیں۔ خاص طور پر سوال “عورت کی گواہی” اور “بیانِ حلفی” کی شرعی و قانونی حیثیت پر مرکوز ہے۔ شرعی طور پر عورت کی گواہی میں احتیاط برتی جاتی ہے، تو یہاں ایک نابالغ غیر مسلم بچی کے مزہب کو راتوں رات تبدیل کرکے اسکے بیان کو “حرفِ آخر” کیوں مانا گیا؟ قانون کے رکھوالے ہی قانون کی روح کو نظر انداز کر کے صرف لفظی تشریحات کا سہارا لیں، تو عدل کا نظام مفلوج نظر آتا ہے۔ ماریا شہباز کیس میں جس “جدید قانونی ضوابط” کا تذکرہ دیکھنے میں آیا ہے ، وہ دراصل اس طریقہ کار کی طرف اشارہ تھا جو ہمارے مجسٹریٹ اپنا تو رہے ہیں، لیکن اس کا غلط استعمال کر کے انصاف کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ ماریا شہباز یا اس جیسے کیسوں میں زیادہ تر عدالتیں یا جج قانونی طور پر تو یہ ایک “عدالتی حکم”  دیتے ہیں، لیکن عملی طور پر جب عدالتیں ملکی قانون  اور نادرا کے ریکارڈ کو مسترد کر کے صرف “شرعی بلوغت” کا سہارا لیتی ہیں، تو وہ جج کے بجائے ایک مفتی کا کردار ادا کرنے لگتی ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت کا کام آئین کی تشریح کرنا ہے، نہ کہ ایسے فیصلے دینا جو بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہوں۔جب عدالت عمر کے مستند ثبوت (برتھ سرٹیفکیٹ) کے بجائے ایک خوفزدہ لڑکی کے بیان کو ترجیح دیتی ہے، تو وہ دراصل جبری تبدیلیِ مذہب اور کم عمری کی شادی کو ایک “قانونی کور” فراہم کر دیتی ہے۔ اسے “فیصلہ” کہنا انصاف کی توہین محسوس ہوتا ہے۔جبکہ اگر کسی کے بیان میں ذرہ برابر بھی شک ہو کہ وہ دباؤ میں ہے، تو اس کی قانونی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔ ماریا کے کیس میں اسے اغوا کاروں کے چنگل سے نکال کر براہِ راست عدالت لایا گیا، جہاں اس کے گرد وہی لوگ موجود تھے۔ ایسی حالت میں لیا گیا بیانِ حلفی کسی بھی صورت “آزادانہ رضامندی” نہیں کہلا سکتا۔ یہ مجسٹریٹ کی سب سے بڑی قانونی کوتاہی تھی کہ اس نے میڈیکل بورڈ کے ذریعے عمر کا تعین کیوں نہیں کروایا۔ ماریا شہباز کیس میں جو ہوا، وہ “جدید قانون” نہیں بلکہ قانونی سقم کا فائدہ اٹھانا تھا۔ جب عدالتیں نادرا کے چودہ سالہ ریکارڈ کو جھٹلا کر اٹھارہ  سالہ بلوغت کے دعوے کو مان لیں، تو وہاں قانون ختم ہو جاتا ہے اور “طاقتور کا بیانیہ” شروع ہوتا ہے۔اس فیصلے نے واقعی پاکستان کے آئین میں موجود اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت کو ایک سوالیہ نشان بنا دیا ہے، کیونکہ اگر ریاست کی سب سے بڑی عدالت ہی بچیوں کو تحفظ نہیں دے گی، تو پھر اقلیتیں خود کو غیر محفوظ تصور کرنے میں حق بجانب ہیں۔ جبری تبدیلی مزہب اور کم عمر شادی پاکستان کے پاس اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ادارے تو موجود ہیں، لیکن اصل رکاوٹ ان کی “سفارشات” کو “قانون” کی شکل دینے میں حائل سیاسی مصلحتیں اور مخصوص مذہبی گروہوں کا دباؤ ہے۔ خواتین ارکانِ پارلیمنٹ کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ “ویمن پارلیمنٹری کاکس”  کے ذریعے متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ ماضی میں ‘کم عمری کی شادی’ پر کئی بل پیش کیے گئے، لیکن اکثر کو یا تو ووٹنگ تک نہیں لایا گیا یا قائمہ کمیٹیوں میں التواء کا شکار کر دیا گیا۔

خواتین ارکان اکثر اپنی پارٹی پالیسی کی پابند ہوتی ہیں۔ جب کسی پارٹی کو خدشہ ہو کہ سخت قانون سازی سے مخصوص ووٹ بینک ناراض ہوگا، تو وہ اپنی خواتین ارکان کو پیچھے ہٹنے کا اشارہ دے دیتی ہے۔ نیشنل کمیشن برائے حقوقِ اطفال، یہ کمیشن وفاقی حکومت کے ماتحت ایک خود مختار ادارہ ہے جس کا کام ہی بچوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ کمیشن قانونِ شہادت میں ترمیم اور جبری تبدیلیِ مذہب کے خلاف تفصیلی سفارشات مرتب کر چکا ہے۔ یہ حکومت کو مشورہ دے سکتے ہیں کہ ماریا شہباز جیسے کیسز میں نادرا (نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی)   کارڈ کو ہی حتمی ثبوت مانا جائے۔کمیشن کے پاس صرف “سفارش” کرنے کی طاقت ہے۔ وہ خود قانون نہیں بنا سکتے۔ جب تک پارلیمنٹ ان کی سفارشات کو بل کی صورت میں منظور نہ کرے، ان کی قانونی حیثیت محض ایک رپورٹ کی سی رہتی ہے۔

جب بھی پارلیمنٹ میں اٹھارہ سالہ عمر کی حد کا بل آتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل اسے “غیر شرعی” قرار دے کر مسترد کر دیتی ہے، جس کے بعد حکومتیں پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔سیاسی جماعتیں ڈرتی ہیں کہ اگر انہوں نے “عمر کے تعین” یا “گواہی کے معیار” پر سخت قانون بنایا تو مذہبی جماعتیں سڑکوں پر نکل آئیں گی۔اگر پارلیمنٹ قانون بنا بھی دے (جیسے سندھ میں اٹھارہ سال حد ہے)، تو وفاقی عدالتیں اسے وفاقی قانون یا مخصوص شرعی تشریحات کی بنیاد پر پسِ پشت ڈال دیتی ہیں۔خواتین ارکان اور این سی آر سی  واقعی سنجیدہ ہوں تو وہ مندرجہ ذیل “کمبائنڈ ایکشن” لے سکتے ہیں:
نادرا ایکٹ کو برتری دینا: قانونِ شہادت میں ترمیم کی جائے کہ کسی بھی فوجداری یا خاندانی معاملے میں جہاں “عمر” زیرِ بحث ہو، وہاں نادرا کا ڈیٹا بیس ناقابلِ تردید ثبوت مانا جائے گا، کسی جج کو اس سے ہٹنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ ایسی سفارش کی جائے کہ جبری تبدیلیِ مذہب کے ہر الزام میں بچی کا بیان لینے سے پہلے اسے بیس دن تک والدین اور اغوا کار دونوں سے دور رکھا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی خواتین ارکان سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہیں کہ وہ ماریا شہباز جیسے کیسز میں پائے جانے والے تضادات کو ختم کرنے کے لیے ایک “فیصلہ کن گائیڈ لائن” جاری کرے۔”جوڈیشل ریفارم موومنٹ” یاعدالتی اصلاحات کی تحریک ہی وہ واحد راستہ ہے جو اس نظام کو جڑ سے ہلا سکتی ہے۔ جب تک قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کے درمیان موجود خلیج کو پُر نہیں کیا جاتا، انصاف صرف ایک خواب رہے گا۔اس تحریک کے بنیادی ستون یہ ہو سکتے ہیں: دستاویزی ثبوت کی بالادستی ،عدالتوں کو پابند کیا جائے کہ وہ سائنسی اور دستاویزی ثبوت (نادرا ریکارڈ، اسکول سرٹیفکیٹ، میڈیکل بورڈ رپورٹ) کو زبانی بیانات پر فوقیت دیں۔ اگر ریاست کا اپنا جاری کردہ برتھ سرٹیفکیٹ عدالت میں جھٹلا دیا جائے گا، تو پھر ریاست کے وجود پر ہی سوال کھڑا ہو جاتا ہے۔

ججوں کی حساسیت :نچلی عدالتوں کے ججوں کو خاص طور پر تربیت دینے کی ضرورت ہے کہ وہ “جذباتی یا روایتی” فیصلوں کے بجائے انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھیں۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک چودہ سالہ بچی کا “بیان” آزادانہ نہیں بلکہ خوف اور برین واشنگ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ پارلیمانی اور عدالتی اشتراک خواتین ارکانِ پارلیمنٹ اور نیشنل کمیشن برائے حقوقِ اطفال  کو مل کر ایک ایسی “اسٹینڈنگ کمیٹی” بنانی چاہیے جو براہِ راست اعلیٰ عدالتوں کے ان فیصلوں کا جائزہ لے سکے جو مروجہ قوانین سے    متصادم ہوں۔ عوامی دباؤ اور آگاہی۔ پاکستان کی سول سوسائٹی اور قانونی ماہرین کو مل کر یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ:عورت کی گواہی اور بیان کے معاملے میں پائے جانے والے ابہام کو ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ کا ایک لارجر بینچ تشکیل دیا جائے۔کم عمری کی شادی اور جبری تبدیلیِ مذہب کو ایک ناقابلِ ضمانت جرم کے طور پر سختی سے نافذ کیا جائے۔

ماریا شہباز کا کیس محض ایک فرد کا کیس نہیں بلکہ یہ پاکستان کے سوشل کنٹریکٹ  کا امتحان ہے۔ اگر ریاست اپنی اقلیتوں اور بچوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے، تو آئین کی بالادستی کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ “بیانِ حلفی” کو مظلوموں کے خلاف ہتھیار بنانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔قانون موجود ہے، ادارے بھی موجود ہیں، لیکن “سیاسی ارادہ” غائب ہے۔ جب تک ریاست ان بچیوں کو “ووٹ بینک” کے بجائے “پاکستان کی بیٹیاں” سمجھ کر تحفظ نہیں دے گی، تب تک یہ سفارشات فائلوں میں ہی دبی رہیں گی۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading