نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا : جاوید ڈینی ایل

Views: 146 غزل نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن کسی سے بھی طبیعت کا کوئی…

مزید پڑھیے

کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے : جاوید ڈینی ایل

Views: 596 کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے مَیں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں تِری تصویر ہوتی جا رہی ہے کہانی اَن کہی تھی جو ہماری وہی تحریر ہوتی جا رہی ہے جو خوابوں میں رہی تصویر تیری وہی تعبیر ہوتی جا رہی ہے لبوں پر…

مزید پڑھیے