اے۔ ندیم (اسٹونزآباد کی دستار کی ایک روشن کِرن) : عطا الرحمٰن سمن

 بارہ  فروری2024 کی صبح عزیزی جاوید ڈیوڈ کی زبانی معلوم ہوا کہ جناب اے ندیم صاحب اب اِس دنیا میں نہیں رہے تو جیسے ایک نشتر دل میں اُتر گیا ہو۔ کچھ برس قبل اُن کو فالج کا اٹیک ہوا تو اپنی قوت ارادی کے زور سے مرض کو شکست دے کر چلتے پھرتے اور فعال تھے۔ پچھلے سال9 جنوری کو اُن کے بڑے بیٹے لیاقت ندیم (لّکی)اچانک فوت ہو گئے تو ندیم صاحب کی ہمت جواب دے گئی۔ امسال لکّی کی برسی پر وہ بالکل ٹوٹ گئے۔ کھانا پینا چھوڑ دیا۔ اور پھر21 فروری 2024 کو اپنی شریک حیات وکٹوریا جبیں اور بیٹے لیاقت ندیم سے جا ملے۔
1974 کا زمانہ تھا۔ سٹونز آباد میں ایک خوش شکل نوجوان وارد ہوا جو ہر آنے جانے والی خاتون کو بہن جی اور مرد کو بھائی جی کہہ کر پکار کر بلاتے تھے۔ نام آ سٹن ندیم تھا مگر سب اے ندیم کے نام سے متعارف ہوئے۔ گاؤں کے بڑے خاندان چوہدری حزقی ایل نہال داس کے بھانجے تھے۔بعد ازاں اُن کی بیٹی وکٹوریا (آنٹی شیدی) کے ساتھ رشتہ ازدواج میں بندھ گئے تو مانو کہ گاؤں کے داماد کے رشتہ سے تمام گھروں تک رسائی ہو گئی۔اُن کے والد پریم سُکھ سابق فوجی تھے۔ پنجاب کے مشہور اور بڑے مسیحی گاؤں کلارک آباد میں اُن کی زرعی زمین تھی تا ہم انہوں نے سٹونزآباد میں مستقل قیام رکھنے کا قصد کیا۔
اے ندیم کی ابتدائی پہچان تو چوہدریوں کے داماد کی صورت ہوئی تھی تا ہم ایک آدھ سال کے اندر اُن کی پہچان کتاب دوست، شاعر، مقرر اور ایک ادبی شخصیت کے طور پر ہونے لگی۔ چرچ کی سرگرمیوں میں حصہ لینا، مبارک جمعہ کے موقع پر کلمہ پیش کرنا غرض سیاسی ومذ ہبی تقا ریب کی میزبانی جیسے تمام جبوتروں پر انہوں نے قبضہ جما لیا تھا۔ اُن دنوں ادب، ڈ رامہ، موسیقی، مشاعروں اور مباحثوں کے لحاظ سے سٹونز آباد میں عروج کا دَور تھا۔ چنانچہ ندیم صاحب ہر طرف فعا ل اور متحرک دکھائی دیتے۔ کرسمس کے قریب جب ڈرامے تیار ہو رہے تھے تو انہوں نے بھی ایک ڈرامہ لکھ کر پیش کیا۔ادب و شاعری سے لاب رکھنے والے نوجوان اُن کی طرف کھنچے چلے جاتے۔ ندیم صاحب کو ملتان ڈایوسیس کے رسالہ ”نقطہ نظر“ کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔ یہ ایک معیاری جریدہ تھا جس میں اعلیٰ پائے کے مضامین جگہ پاتے تھے۔ نہایت محترم اور بڑی قامت کے دانشور، ادیب اور وکیل جناب قیوم بھٹی صاحب ”نقطہ نظر“ کے مدیر رہے تھے جن کے متاثر کن اداریوں کو پڑھ کر ہماری تربیت ہوئی تھی۔ ندیم صاحب جب ”نقطہ نظر“ کا اداریہ لکھ لیتے تو گویا ہماری شامت آ جاتی۔ شائع ہونے سے قبل ہی ہمیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر باری باری پورا اداریہ پڑھ کر سناتے اور اُس میں اپنے تراشے ہوئے جملوں، تراکیب اور پنچ جملوں کی تفسیر و تشریح پر الگ سے داد وصول کرتے۔ اُنہیں اپنے اظہار پر کمال قدرت تھی۔
نقطہ نظر ملتان ڈایوسیس کا رسالہ تھا۔ ندیم صاحب بعض معاملات میں ڈایوسیس سے اختلاف کو اپنے اداریہ یا مضمون میں ایک آدھ جملوں میں کچھ ایسے قرینے سے بیان کر دیتے کہ اُن پر کبھی گرفت نہیں کی گئی۔ شائد اِس کا کریڈٹ اُس وقت کے وسیع القلب بشپ جان وکٹر سیموئیل کو بھی جاتا ہے جن کے باعث اے ندیم کو یہ گنجائش دی گئی تھی۔
ندیم صاحب کا مطالعہ اور حافظہ وسیع اور غیر معمولی تھا۔ اُن دِنوں ضلع ملتان میں مسیحی نوجوانوں کی سرگرمیوں کا محور مباحثوں، مشاعروں اور ادبی محافل کاانعقاد ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ لا سال ہائی اسکول میں ایک ادبی پروگرام میں ”صلیب اور اُردُو ادب“ کے موضوع پر ندیم صاحب نے ایک تحقیقی مقالہ پڑھا جس کا مواد اِس قدر جاندار اور موثر تھا کہ قیصر سرویا اور کامران (کامی بھائی)نے اِس مقالہ کو کتابی شکل دینے کا فیصلہ کر لیا۔ اُن کی مشورت کے بعد ندیم صاحب نے اِس میں مزید اضافہ کر کے دوبارہم سے مرتب کیا۔ کتاب کا پیش لفظ کامران بھائی نے لکھا تھا۔یہ چھوٹا سا کتابچہ درحقیقت حقائق، تاریخ اور معنویت سے بھری ایک دستاویز تھی جو تحقیقی کام کرنے والے طلباء کی رہنمائی کے لئے بہاؤالدین زکریایونیورسٹی ملتان کی لائبریری میں رکھ لی گئی۔ مسیحی چکوک کے بارے اُن کی جانکاری حیرت انگیز تھی۔ندیم صاحب کے ہاں بے شمار کتب تھیں۔ اُنہیں اپنے ہاں موجود کتابوں کا خزانہ دکھانے کا بہت شوق ہوا کرتا تھا۔ جب الماریوں میں پڑی کتابوں کے بارے بات ختم ہوتی تو چارپائی کے نیچے سے پرانی طرز کے سوٹ کیس نکال لیتے۔ شاعری، افسانے، ناول اور ادبی رسالے ”اوراق“ اور دیگر ادبی رسالوں کے ضخیم شمارے دیکھنے کو ملتے۔ ایک سے بڑھ کر ایک کتاب اور اُس کے مصنف کے انداز ِ تحریر کے بارے اچھی خاصی معلومات دے ڈالتے۔ اِتنا کچھ بتاتے کہ کتاب پڑھنے کی چنداں حاجت نہ رہتی۔ اتنی پھولا پھلائی کرتے تو ہمیں کوئی نہ کوئی کتاب پسند آ ہی جاتی۔ پسندیدگی کے خفیف سے اشارے پر ہی وہ خوشی خوشی ہمارے ہاتھ میں کتاب تھما دیتے۔ کبھی واپسی کی تاکید نہیں کرتے۔
ندیم صاحب کی لکھائی نہایت شکستہ تھی۔ ایسی کہ لکھنے کے بعد خود بھی نہیں پڑھ پاتے تھے۔ لکھنے کا تمام کام اُن کی شریک حیات وکٹوریہ جبیں (آنٹی شیدی) کرتی تھیں۔ موصوف بستر پر دراز آنکھیں موند کر بولتے جاتے اور وہ اُس خیال کو کاغذ پر منتقل کرتی جاتیں۔ دو بارہ پڑھ کر سناتیں تو اِس دوران ندیم صاحب تحریر کی اصلاح فرماتے۔ دو ایک مرتبہ اصلاح کرنے کے بعد تحریر کو حتمی شکل میں لکھ کر اُن کے حوالے کر دیا جاتا۔ گھریلو کام کاج، اسکول میں پڑھانے اور گھریلو کام کاج کی ذمہ داریوں کے ہمراہ یہ خدمت گویا اُن کے لئے بامشقت سزا جیسی ہوا کرتی تھی۔یہ خدمت آنٹی شیدی کے علاوہ اُن کے چھوٹے بھائی لیموئیل کلیم (مٹھو) بھی سرانجام دیتے رہے ہیں۔مجھے اشتیاق تھا کہ آنٹی شیدی بھی نہیں رہیں اور مٹھو بھی کویت میں قیام فرما ہیں تو ایسے میں یہ سزا کون بھگتتا ہے۔
سال2020 تھا۔ مَیں نے اور جاوید ڈیوڈ نے اُن سے ملاقات کرنے کی ٹھانی۔ بارہا ملاقات کی صورت نکالنے کی سعی کی مگر ملاقات نہ ہو سکی۔ آخر ِ کار ایک اتوار ہم نے اُنہیں جا لیا۔ اُن کے بیٹے لیاقت ندیم (لکی) شہر سے باہر تھے۔ فالج کے باعث ندیم صاحب کی آمدو رفت اور حرکت خاصی متاثر تھی۔ اِس خیال سے کہ ہمیں گھر تلاش کرنے میں مشکل نہ پیش آئے، ہمیں لینے کے لئے وہ تیسری منزل سے نیچے اتر آئے۔ پھر میں اور جاوید سہارا دے کر اُنہیں واپس لے کر گئے۔ہمارا احوال دریافت کیا۔ روائتی انداز میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے رہے۔ وہ بہت نحیف ہو چکے تھے تو بھی زندگی سے مطمئن دکھائی دے رہے تھے۔ پھر ایک رجسٹر اُٹھا کر لے آئے۔ رجسٹر میں اُنہوں نے سٹونزآباد کی تاریخ لکھنے کا آغاز کر رکھا تھا۔ کوئی تین چار ہوں گے جو انہوں نے پڑھ کر سنائے۔ کتاب کا انتساب اپنی شریک حیات ”وکٹوریا جبیں“ کے نام کیا تھا۔ باقی باتیں زبانی بتانے لگے۔ اُنہوں نے بتایا کہ یہ معلومات پادری خوب داس کی ڈائری سے حاصل کی گئی تھیں جو بشپ سمارٹ خوب داس نے اُن کے حوالے کی تھی۔ندیم صاحب اب آپ کو کون لکھ کر دیتا ہے؟ مَیں نے اپنے دِل میں چھپے تجسس کو سوال کی صورت اُن کے سامنے رکھ دیا۔ فرمایا کہ یہ چند صفحے اپنی بہو سے لکھوائے ہیں۔ اُس کو گھریلو ذمہ داریوں سے فرصت نہیں ملتی چنانچہ کتاب ادھوری ہے۔ جذبات سے عاری اِس جملہ کے اندر درد سے بھرا نشتر جاوید اور میری روح میں اُتر گیا۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading