چنگنّاسری، کیرالہ (تادیب): بھارت کی ریاست کیرالہ میں ایک غیر معمولی کیتھولک شادی نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی، جہاں جڑواں بھائیوں نے جڑواں بہنوں کو شریکِ حیات بنایا، جبکہ شادی کی مذہبی دعائیہ رسومات بھی جڑواں پادریوں نے ادا کیں۔یہ منفرد تقریب چنگنّاسری کے تاریخی سینٹ میری سائیرو مالابار میٹروپولیٹن کیتھیڈرل میں منعقد ہوئی، جہاں اکھیل کے تھامس اور نکھل کے تھامس نے جڑواں بہنوں میگی میری تھامس اور ماریا میری تھامس سے شادی کی۔ تقریب میں دونوں خاندانوں کے عزیز و اقارب اور دوستوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔اس شادی کو مزید منفرد بنانے والی بات یہ تھی کہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لیے بھی جڑواں پادری موجود تھے۔ فادر اینٹو پیزھم کٹّل اور فادر اجو پیزھم کٹّل، جو دونوں ڈائوسس آف کانجیرپلی سے وابستہ ہیں، نے شادی کی دعائیہ تقریب ادا کی۔
تقریب میں جڑواں افراد کی موجودگی یہیں تک محدود نہیں رہی۔ پادریوں کے معاونین بھی جڑواں بھائی جیرون جیمز اور جوہون جیمز تھے۔ یوں ایک ہی شادی کی تقریب میں دولہا، دلہنیں، پادری اور معاونین—سبھی جڑواں جوڑوں کی صورت میں نظر آئے۔مقامی میڈیا کے مطابق میگی اور ماریا بچپن ہی سے یہ خواہش رکھتی تھیں کہ ان کی شادی کے موقع پر ان کے اردگرد متعدد جڑواں افراد موجود ہوں۔ جب شادی کی تیاریاں شروع ہوئیں تو دونوں بہنوں اور ان کے اہلِ خانہ نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے ایسے جڑواں پادریوں کی تلاش بھی شروع کردی جو اس مذہبی تقریب کی ادائیگی کرسکیں۔شادی کی تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے اس غیر معمولی اتفاق کو خاصی دلچسپی سے دیکھا۔ ایک ہی تقریب میں جڑواں دولہوں، جڑواں دلہنوں اور جڑواں پادریوں کی موجودگی نے اس تقریب کو یادگار بنا دیا۔
کیرالہ میں جڑواں افراد پر مشتمل اس نوعیت کی شادی کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ 2015ء میں تھریسور ضلع کے سینٹ فرانسس زیویئر چرچ میں بھی جڑواں بھائی دلراج اور دلکر نے جڑواں بہنوں ریما اور رینا سے شادی کی تھی۔کیرالہ کی اس حالیہ شادی نے ایک بار پھر یہ ثابت کردیا کہ بعض خاندانی اور ازدواجی تقریبات محض دو افراد کے ملاپ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان میں ایسے منفرد لمحات بھی جنم لیتے ہیں جو طویل عرصے تک لوگوں کی یادوں اور تصاویر میں محفوظ رہتے ہیں۔
*******

