کتاب سے رشتہ : جاوید ڈینی ایل

ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں دنیا ہماری انگلیوں کی پور پر سمٹ آئی ہے۔ ایک چھوٹی سی سکرین پر دنیا بھر کی خبریں، تصاویر، خیالات اور معلومات لمحوں میں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں۔ گلوبل ورلڈ نے فاصلے مٹا دیے ہیں، سوشل میڈیا نے ابلاغ کو غیر معمولی رفتار دی ہے اور مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ بظاہر علم کبھی انسان کے اتنا قریب نہیں تھا جتنا آج ہے، مگر ایک سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود ہے؛ کیا معلومات کی فراوانی نے ہمارے اندر علم کی گہرائی بھی پیدا کی ہے؟

ہم بہت کچھ دیکھ اور سن رہے ہیں، مگر کیا ہم ٹھہر کر پڑھ بھی رہے ہیں؟ کیا ہمارے پاس کسی ایک خیال کے ساتھ کچھ دیر بیٹھنے، کسی کتاب کے ایک باب پر غور کرنے یا کسی کردار کے دکھ میں شریک ہونے کا وقت باقی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں کتاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ کتاب محض کاغذ، سیاہی اور الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی تجربے، دانش، مشاہدے اور احساس کا محفوظ خزانہ ہے۔ ایک کتاب اپنے مصنف کی برسوں کی سوچ کو چند گھنٹوں کے مطالعے میں ہمارے سامنے رکھ دیتی ہے۔ ہم اُن لوگوں سے مکالمہ کر سکتے ہیں جنہیں شاید کبھی دیکھا نہ ہو، اُن زمانوں میں سفر کر سکتے ہیں جنہیں کبھی جیا نہ ہو اور اُن تجربات سے سیکھ سکتے ہیں جن کے لیے شاید ایک پوری زندگی بھی کم پڑ جائے۔

مقدس کتب بھی تحریر، علم اور محفوظ شدہ دانش کی قدر کا احساس دلاتی ہیں۔ اُن کی تعلیم کا ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ اہم پیغام کو لکھ کر محفوظ کیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسے پڑھ سکیں۔ یہی تصور آج بھی ہمارے لیے معنی رکھتا ہے کہ جو علم تحریر میں محفوظ ہو جاتا ہے، وہ وقت کی گردش سے گزر کر نسلوں تک پہنچتا ہے۔ انسانی تہذیب کی تاریخ بھی بڑی حد تک کتابوں کے صفحات میں محفوظ ہے۔ قوموں کی جدوجہد، فلسفے، ادبی تحریکیں، سائنسی دریافتیں، مذہبی افکار اور معاشرتی تبدیلیاں کتابوں کے ذریعے ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوئی ہیں۔ کتاب انسان کو محض معلومات نہیں دیتی بلکہ اپنے آپ، اپنے معاشرے اور دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت بھی عطا کرتی ہے۔اِسی احساس کو راقم (جاوید ڈینی ایل) اپنی شاعری میں یوں بیان کرتے ہیں؛
کتابوں کی خوشبو سہانی رہے
نئی فکر میں بھی روانی رہے
کتابوں سے رشتہ بھی باقی رہے
قلم کی صدا جاودانی رہے
واقعی کتاب صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ نئی فکر کی بنیاد بھی ہے۔ قلم کی آواز تبھی زندہ رہتی ہے جب اس کے پیچھے مطالعے، مشاہدے اور فکر کی روشنی موجود ہو۔

آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ ہے۔ا اس نے اظہار، رابطے اور معلومات کے دروازے عام کر دیے ہیں۔ کتابوں، رسائل اور علمی مواد کو بھی سوشل میڈیا کے ذریعے وسیع حلقۂ قارئین تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کی سب سے بڑی خوبی رفتار ہے، جبکہ کتاب کی سب سے بڑی خوبی گہرائی۔ سوشل میڈیا ہمیں ایک خبر سے دوسری خبر، ایک ویڈیو سے دوسری ویڈیو اور ایک خیال سے دوسرے خیال تک تیزی سے لے جاتا ہے۔ اس دوران ہماری توجہ مسلسل تقسیم ہوتی رہتی ہے۔ ہم بہت کچھ دیکھ لیتے ہیں، مگر ضروری نہیں کہ بہت کچھ سمجھ بھی پائیں۔ کتاب اس کے برعکس ہمیں ٹھہرنا سکھاتی ہے۔ وہ کہتی ہے؛ ذرا رک جاؤ، اس جملے کو دوبارہ پڑھو، اس خیال پر غور کرو اور اسے اپنے اندر اترنے دو۔ یہی مطالعے کی تربیت ہے۔

مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ چند لمحوں میں کسی موضوع کا خلاصہ، ترجمہ، تشریح یا ابتدائی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ طلبہ، اساتذہ، محققین، صحافی اور لکھاری اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ مگر یہ فرق ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ مصنوعی ذہانت معلومات تک پہنچنے میں مدد کر سکتی ہے، مطالعے کا انسانی تجربہ فراہم نہیں کر سکتی۔ اے آئی کسی کتاب کا خلاصہ بتا سکتی ہے، مگر پوری کتاب پڑھنے کا تجربہ نہیں دے سکتی۔ وہ کسی شاعر کے کلام کی تشریح کر سکتی ہے، مگر اس شاعری کو دل سے گزرنے کا احساس پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ کسی ناول کے کردار کا تعارف کرا سکتی ہے، مگر کئی دن تک اس کردار کے ساتھ جینے کی کیفیت نہیں دے سکتی۔ اس لیے اے آئی کو کتاب کا متبادل بنانے کے بجائے کتاب تک پہنچنے کا وسیلہ بنانا چاہیے۔اِسی خیال کو راقم (جاویدؔ ڈینی ایل) اپنی غزل میں جدید عہد کے تناظر میں یوں سمیٹتے ہیں؛
نیا عہد ہے، علم کی راہ پر
مگر فکر میں بھی جوانی رہے
مشینوں سے حاصل ہو دانش مگر
دلوں میں محبت سہانی رہے
یہی دراصل ہمارے عہد کا اصل توازن ہے۔ مشین اور انسان، معلومات اور فکر، رفتار اور گہرائی —- ہمیں ان سب کے درمیان ایک مثبت اور بامعنی تعلق قائم کرنا ہے۔

ڈیجیٹل دنیا کا ایک اور مسئلہ غیر مصدقہ معلومات، افواہوں اور سطحی مطالعے کا پھیلاؤ ہے۔ ایک مختصر پوسٹ یا وائرل ویڈیو کو حقیقت سمجھ لینا آسان ہو گیا ہے۔ معتبر کتاب ہمیں کسی موضوع کے پس منظر، تسلسل اور مختلف پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع دیتی ہے۔ آج کے نوجوان کے لیے صرف پڑھنا کافی نہیں؛ صحیح چیز پڑھنا اور تنقیدی انداز میں پڑھنا بھی ضروری ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ نسلِ نو کو کتاب کی طرف کیسے مائل کیا جائے؟ اس کا جواب صرف نصیحت میں نہیں بلکہ ماحول کی تبدیلی میں ہے۔ ہم نوجوانوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ موبائل چھوڑ دو اور کتاب پڑھو، کیونکہ اُن کی تعلیم، رابطہ اور معلومات کا بڑا حصہ اسی ٹیکنالوجی سے وابستہ ہے۔ ہمیں موبائل اور کتاب کو ایک دوسرے کا دشمن بنانے کے بجائے دونوں میں مثبت تعلق پیدا کرنا ہوگا۔

نوجوان کی دلچسپی سے مطالعے کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ جسے تاریخ پسند ہے، اسے تاریخ کی کتاب دی جائے؛ جسے شاعری پسند ہے، اسے شعری مجموعہ؛ جسے سائنس میں دلچسپی ہے، اسے سائنسی کتاب اور جسے کہانیاں پسند ہیں، اسے معیاری افسانہ یا ناول دیا جائے۔ کتاب کا درست انتخاب خود مطالعے کی طرف ایک دعوت ہے۔

والدین بچوں کو کتابیں تحفے میں دیں اور گھر میں مطالعے کا ماحول پیدا کریں۔ تعلیمی ادارے ریڈنگ کلب، کتابی نشستیں، مصنف سے ملاقاتیں، کتاب پر گفتگو اور مطالعاتی سرگرمیاں شروع کریں۔ گھر میں والدین صرف یہ نہ پوچھیں کہ کتنے صفحات پڑھے بلکہ یہ بھی پوچھیں: “اس کتاب نے تمہیں کیا سوچنے پر مجبور کیا؟” اس طرح کتاب محض مطالعے کی چیز نہیں رہتی بلکہ فکر اور مکالمے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ایک نوجوان اگر ہر ماہ صرف ایک اچھی کتاب مکمل پڑھ لے تو سال میں بارہ کتابیں اس کے فکری سرمائے کا حصہ بن سکتی ہیں۔ دس برس میں یہی تعداد ایک سو بیس تک پہنچ سکتی ہے۔ سوچیے، ایک سو بیس سنجیدہ کتابیں کسی نوجوان کے ذہنی اور فکری سفر کو کس قدر بدل سکتی ہیں!۔

گھر کی لائبریری بھی اسی سفر کا اہم حصہ ہے۔ بڑی لائبریری ضروری نہیں؛ چند درجن اچھی کتابیں بھی ایک مضبوط آغاز ہو سکتی ہیں۔ اصل اہمیت کتابوں کی تعداد سے زیادہ اُن کے ساتھ تعلق کی ہے۔ جب بچے والدین کو مطالعہ کرتے دیکھتے ہیں تو کتاب ایک اضافی سرگرمی نہیں رہتی بلکہ زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔راقم (جاوید ڈینی ایل) بھی کتاب کو زندگی کے سفر کا ایک لازمی ساتھی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں؛
کتابوں کو رکھ لیں شریکِ سفر
یہ تہذیب اپنی نشانی رہے
کھُلے علم کا دَر، بڑھے آگہی
دلوں میں سدا ضوفشانی رہے

واقعی کتاب انسان کے ہاتھ میں صرف چند صفحات نہیں رکھتی بلکہ اس کے ذہن میں آگہی کا چراغ روشن کرتی ہے۔ اچھی کتاب انسان کے تجربے کو وسیع کرتی ہے۔ ادب ہمیں دوسروں کے دکھ سمجھنا سکھاتا ہے، شاعری اُن احساسات کو زبان دیتی ہے جنہیں ہم خود بیان نہیں کر پاتے، تاریخ ہمیں قوموں کے عروج و زوال سے آگاہ کرتی ہے اور سوانح ہمیں کامیابی کے پیچھے چھپی جدوجہد دکھاتی ہے۔ یوں کتاب انسان کو اپنے محدود تجربے سے نکال کر انسانی تجربے کی وسیع دنیا میں لے جاتی ہے۔

یہ بھی ضروری نہیں کہ کتاب ہمیشہ کاغذی صورت میں ہو۔ ای بکس، آڈیو بکس، آن لائن لائبریریاں اور ڈیجیٹل اشاعت نے کتاب کو نئی شکلیں دے دی ہیں۔ اصل مسئلہ کتاب کی شکل نہیں بلکہ مطالعے کی عادت ہے۔ نوجوان ڈیجیٹل دنیا سے فائدہ اٹھائیں، مصنوعی ذہانت سے مدد لیں اور سوشل میڈیا کو مثبت اظہار کے لیے استعمال کریں، مگر اپنے ذہن کو مسلسل مختصر اور تیز رفتار مواد کا عادی نہ بنائیں۔

اسی فکر کو عملی تحریک میں ڈھالنے کی ایک قابلِ قدر کوشش ریڈنگ ریوائیول پروجیکٹ (ٹی۔ آر۔ آر۔ پی)، کتاب دوستی کی ایک نئی تحریک ہے، جس کے روحِ رواں ڈاکٹر ایورسٹ جان ہیں۔ اس تحریک کا مقصد نوجوان نسل میں مطالعے کی عادت کو زندہ کرنا اور کتاب سے ٹوٹا ہوا رشتہ بحال کرنا ہے۔ اس کا نصب العین ”قارئین کو مفکرین اور مفکرین کو رہنماؤں میں بدلنا“ اس یقین کی ترجمانی کرتا ہے کہ قوموں کا مستقبل سوچنے، سوال کرنے اور تحقیق کو عمل میں ڈھالنے والوں سے بنتا ہے۔اس تحریک کے پانچ بنیادی ستون — پڑھیں، غور کریں، تحقیق کریں، لکھیں اور بانٹیں — مطالعے کو ایک مکمل فکری سفر بناتے ہیں۔ ٹی۔ آر۔ آر۔ پی دراصل کتاب، فکر اور روشن مستقبل سے رشتہ جوڑنے کی ایک بامعنی دعوت ہے۔

ہمیں کتاب اور ٹیکنالوجی میں سے کسی ایک کا انتخاب نہیں کرنا؛ ہمیں ٹیکنالوجی کے ساتھ کتاب کا سفر جاری رکھنا ہے۔ مصنوعی ذہانت معلومات تک پہنچا سکتی ہے، سوشل میڈیا دنیا سے جوڑ سکتا ہے، مگر گہرا مطالعہ ہی ہمارے اندر سوال، شعور، تخیل، تنقیدی فکر اور انسانی احساس پیدا کرتا ہے۔کتاب سے رشتہ دراصل ماضی سے جڑنے کا نام نہیں بلکہ مستقبل کی تعمیر کا وسیلہ ہے۔ جس نسل کے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے، اُس کے پاس صرف چند صفحات نہیں ہوتے؛ اُس کے ہاتھ میں سوال کرنے، سوچنے، سمجھنے اور بہتر مستقبل تعمیر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔سکرین ہمیں دنیا دکھاتی ہے، مصنوعی ذہانت معلومات تک پہنچاتی ہے، مگر کتاب ہمیں دنیا کو سمجھنے، انسان کو پڑھنے اور خود کو دریافت کرنے کا ہنر دیتی ہے۔اور اِسی احساس کے ساتھ راقم (جاوید ڈینی ایل) اپنی غزل کے مقطع میں کہتے ہیں؛
جہاں بھی ہو جاویدؔ علم و ہنر
نہ کوئی لگن رائیگانی رہے
آئیے، اس برق رفتار عہد میں کچھ دیر ٹھہریں، ایک کتاب کھولیں اور اپنی نسلِ نو کے ہاتھ میں بھی کتاب رکھیں۔ کیونکہ کتاب سے رشتہ صرف مطالعے کا رشتہ نہیں؛ یہ شعور، تہذیب، انسانیت اور روشن مستقبل سے رشتہ ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading