ہم بہت عرصے سے یہ سنتے آ رہے ہیں کہ ہمیں اقلیت نہ کہا جائے۔ آج بھی بعض تنظیمیں اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی رہنما اِس بات پر زور دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہم بھی پاکستانی ہیں، ہمیں اقلیت کہہ کر نہ پکارا جائے۔ “میں بھی پاکستان ہوں” کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے۔بے شک ہم مسیحی لوگ شہریت اور شناخت کے لحاظ سے پاکستانی ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہمیں مسیحی سے زیادہ پاکستانی سمجھا جائے۔ تاہم آپ پاکستان سے باہر قدم رکھیں، پاکستانی شناخت اور پاکستانی پاسپورٹ کی ہر ائیر پورٹ پر خوب عزت افزائی ہوتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ہم میں سے بعض کسی مغربی و یورپی ملک میں کوئی کرسچن نام پڑھ کر یا اُس سٹاف کا بغور جائزہ لے کر، اُس کے گلے میں لٹکی صلیب یا کانوں میں کراس والے ٹاپس دیکھ کر یا پھر ہاتھ، بازو، گردن پر کوئی کرسچن قسم کا ٹیٹو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور فخر سے سینے پر ہاتھ رکھ کر اور باچھوں کو کانوں تک لے جا کر بناوٹی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “آئی ایم آلسو کرسچن!”
ایسی صورتِ حال میں وہ سٹاف ممبر پہلے ہمارا پاسپورٹ اور پھر شکل دیکھ کر کچھ یوں شکل بنا لیتی ہے گویا کہہ رہی ہو، “سو وٹ” ۔۔۔ شاید وہ لفظی طور پر بھی بلا جھجک کہہ دے، “سو وٹ” کیوں کہ وہاں آزادئ رائے پر کوئی پابندی نہیں۔ اور پھر یہ سن کریقینا” ہمارے پیٹ میں وٹ پڑتے ہیں کہ ہم پاکستان میں پاکستانی پہلے اور مسیحی بعد میں کہلانا چاہتے ہیں جب کہ ہمیں دوسرے درجے کا شہری اور پاکستانی سے پہلے اقلیتی برادری تصور کیا جاتا ہے۔ جب کہ بین الاقوامی سفر کرتے ہوئے ہم مسیحی پہلے اور پاکستانی بعد میں کہلوانا چاہتے ہیں مگر وہاں ہمیں بار بار یہ کہا جارہا ہوتا ہے، “آر یو پیکسٹینی!” ۔۔۔ اور ہم سبز پاسپورٹ چھپاتے پھر رہے ہوتے ہیں۔میں نے انٹرنیشنل ٹریول میں بعض پاکستانیوں کو پاسپورٹ پر سرخ کور چڑھائے بھی دیکھا ہے۔ دُور سے یہی گمان ہوتا ہے کہ گویا برٹش پاسپورٹ تھاما ہوا ہے۔میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم جو پاکستان میں اقلیت اور سیکنڈ کلاس سیٹیزن ہونے کا رونا روتے رہتے ہیں تو کیا اگر ہم پاکستان سے نکل کر کسی مغربی ملک میں سکونت اختیار کر لیں تو وہاں ہمیں دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھا جائے گا۔ یقین کیجیے وہاں رنگ و نسل یا قومیت کی بنیاد پر بعض لوگ آپ سے تعصب کر رہے ہوں گے۔ اگرچہ اُن ملکوں میں پاکستان جیسا سلوک نہیں کیا جائے گا اور سرکاری سطح پر ہمیں برابری کی بنیاد پر ہی سہولیات و مراعات فراہم کی جائیں گی۔ لیکن انسانی فطرت کے تحت کوئی نہ کوئی ایسا گروہ ہو گا جوہم سے فاصلہ رکھے گا یا امتیازی سلوک روا رکھے گا۔ تبھی جب لوگ انگلینڈ یا امریکہ جاتے ہیں تو پاکستانی کمیونٹی ایک علاقے میں اِسی طرح سکھ اور ہندو الگ کسی اور مخصوص علاقے میں سکونت اختیار کرتے ہیں کیوں کہ وہ اپنے جیسوں میں رہ کر زیادہ سکون اور آسانی محسوس کرتے ہیں۔اب چاہے پاکستانی کرسچن کمیونٹی کسی دوسرے ملک میں جا کر ایک ہی علاقے میں مل کر رہنے لگے تو بھی وہ وہاں اقلیت ہی کہلائے گی اور اُس کی ایک الگ پہچان ہوگی جیسے انگلستان میں بریڈ فورڈ، برمنگھم اور ساؤتھ ہال وغیرہ ہیں، یہ وہ علاقے ہیں جو پاکستانی مسلم کمیونٹی اور سکھ برداری کے حوالے سے ایک الگ پہچان رکھتے ہیں۔ہم دُنیا کے کسی خطے میں بھی چلے جائیں ، اقلیت ہی کہلائیں گے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقلیت میں ہونا بُری بات ہے؟
ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی مسیحی قوم نے ترقی نہ کرنے کا ایک مناسب اور سیدھا سادہ جواز نکال لیا ہے کہ ہم اقلیت میں ہیں، اِس لیے ہمارے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ہمیں ترقی نہیں کرنے دی جاتی، ہمارے لیے ملازمتیں نہیں ہیں، ہمیں کاروبار نہیں کرنے دیا جاتا۔اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقلیت کے پاس یہی حل ہے کہ وہ کسی طرح سے اکثریت میں ہوجائیں تو یہ سب کے سب مسائل حل ہو جائیں گے۔ بعض اِسی خیال سے اکثریت میں چلے جاتے ہیں۔ وہ بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں کہ اب اُنہیں کوئی اقلیت نہیں کہے گا مگر افسوس کہ اقلیت سے اکثریت کے دائرے میں داخل ہوکر وہ مسیحیت کے دائرے سے بھی باہر نکل چکے ہوتے ہیں؛ نہ وہ اقلیت میں رہتے ہیں اور نہ ہی مسیحیت میں رہتے ہیں۔ کیا یہ حل درست ہے؟
دوسری جانب مذہب بدل کر اکثریت میں شامل ہونے کی بجائے بطور مسیحی اپنی تعداد بڑھانے پر زور دیا جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ تو حکمِ الہی بھی ہے کہ بڑھو پھلو زمین کو معمور و محکوم کرو۔تو ہمیں بھی اِس دُنیا پر غالب آنے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنی تعداد کو بڑھانا ہے۔یاد رکھیں کہ خدا نے اُس پہلے جوڑے کو اِن الفاظ کی صورت میں حکم نہیں بلکہ برکت دی تھی۔ یہ تو ایسے ہی ہے کہ کوئی بزرگ کسی کو یہ الفاظ کہے کہ جا تیرا پیٹ ہمیشہ بھرا رہے اور تیرے گھر کبھی اناج کی کمی نہ ہو۔ جب کہ وہ شخص اِس برکت کو حکم سمجھ لے اور اِتنا کھائے، اِتنا کھائے کہ موٹاپے کا شکار ہوکر بے شمار بیماریوں کا شکار ہو جائے اور بعد ازاں اُس بزرگ کو کوستا رہے کہ مجھے کس ڈگر پر ڈال گیا تھا۔
ایک اور سوال یہ ہے کہ اگر ہم اکثریت میں ہوگئے تو کیا چیلنجز ختم ہوجائیں گے؟ ہر گز نہیں! اقلیت کے اپنے چیلنجز ہوتے ہیں اور اکثریت کے اپنے ۔۔۔زندگی تو نام ہی چیلنجز کا ہے۔ نسلِ انسانی کی تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ چیلنجز ہی تو تھے جو انسانوں کے لیے تحریک کا باعث بنے اور آج انسان ترقی کرتا کرتا کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا ہے۔اگر اکثریت میں ہو جانے سے ہمارے مسائل حل ہوجائیں گے تو پھر کرسچن کمیونٹی کو چاہیے کہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کریں۔ افزائشِ نسل کے ذریعے سے وہ غلبہ پاسکتے ہیں اور اِس طرح اقلیت ہونے کے روگ سے چھٹکارا پا سکتے ہیں۔ پادری صاحبان کو چاہیے کہ وہ اپنی کلیسیا میں اِس بات پر لیکچر دیں کہ مسیحی قوم کمرکس لے اور زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرے۔
لیکن ذرا ٹھہریے، اِن بچوں کی تربیت اور پرورش کون کرے گا، اِن کی ضروریات کون پوری کرے گا؟یاد رکھیں دُنیا پر فتح پانے کے لیے تعداد کی نہیں استعداد کی ضرورت ہے لیکن اگر والدین بے شمار بچے ہونے کی وجہ سے اُن کو پوری اور خالص غذا بھی مہیا نہ کرسکیں تو اُنہوں نے اُن کی استعداد کو کیا بڑھانا؟ ہمیں تعداد نہیں اپنی استعداد کو بڑھانا ہے۔ استعداد بڑھانے کے لیے اقلیت میں ہونا بھی اچھی بات ہے۔ آپ جو کچھ بھی کریں گے وہ فورا” لوگوں کے سامنے آئے گا، آپ نمایاں ہوں گے۔ مثلا” اگر کوئی مسیحی کوئی مقابلہ جیتے گا تو وہ ایک تو جیتنے کی وجہ سے جانا جائے گا اور دوسرا مسیحی یا اقلیت میں ہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ جانا پہچانا جائے گا۔ اِسی طرح اقلیت میں سے اگر کوئی بُرا کام کرے گا تو وہ بھی فورا” ایک بڑی خبر بن جائے گا کہ فلاں اقلیتی برادری کے رکن نے یہ کردیا۔
میرے خیال میں بطور پاکستانی مسیحی ہمیں اِس خیال کو خیر باد کہنا ہو گا کہ ہم اقلیت میں ہیں۔ اگر بالفرض ہمیں اکثریت، اقلیت کہنا چھوڑ بھی دے تو اِس حقیقت کو تو نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ ہم واقعی اقلیت میں ہیں۔
میں اپنی زندگی کا جائزہ لوں تو اقلیت میں ہی رہتے ہوئے میں نے اِس حقیقت سے خوب لطف اٹھایا ہے۔ مجھے ہمیشہ مسیحی ہونے پر فخر ہوتا ہے۔ آج پاکستان کے ادبِ اطفال میں میری بطور مسیحی لکھاری ایک پہچان ہے۔ شروع میں خیال آیا تھا کہ اپنا کوئی قلمی نام رکھوں لیکن شکر ہے کہ ایسا نہیں کیا۔ بچوں کے معروف رسالے ہمدرد نونہال کو ۱۹۹۵ میں پہلی کہانی بھیجتے ہوئے یہی خیال آیا کہ نہ جانے میرا مسیحی نام پڑھ کر وہ میری کہانی شائع بھی کریں گے یا نہیں۔ مگر تب سے لے کر آج تک پاکستان میں چھپنے والے بچوں کے تقریبا” سبھی رسائل میں میری کہانیاں شائع ہوتی ہیں اور میرے مکمل نام کے ساتھ ہی شائع کی جاتی ہیں۔۱۹۹۷ میں قائدِ اعظم یونیورسٹی میں میرا داخلہ مینارٹی سیٹ پر ہوا۔ یہ محترم ڈاکٹر کرسٹی منیر کی تمام تر جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ مسیحی طلبا کا سب سے پہلا بیچ اقلیتی سیٹ پر قائدِ اعظم یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات میں داخلہ لے سکا۔ ہر ڈیپارٹمنٹ میں مینارٹی سیٹ آج بھی مخصوص ہے۔
میں بین الاقوامی سفر کرتے ہوئے نام سے بھی پہچانا جاتا ہوں اور خود بھی فخرسے پاکستانی افسران کو بتا دیتا ہوں کہ میں پادری ہوں۔ نتیجتا” وہ انتہائی عزت سے پیش آتے اور متعدد بار تو سامان بھی کھولنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ میں نے اپنی زندگی میں مسیحی ہونے کو ہمیشہ قابلِ عزت اور قابلِ فخر پایا ہے۔اِس ملک میں رہتے ہوئے جہاں بعض اقلیتوں اور فرقوں کا نام لکھ کر دکان داروں نے سٹیکر لگا رکھے ہوتے ہیں کہ اُن کے ساتھ کسی قسم کا کوئی کاروبار یا لین دین نہیں کیا جاتا۔ بعض نے تو یہاں تک لگا رکھا ہوتا ہے کہ اُن کا داخلہ ہی ممنوع ہے۔ ہم تو بطور پاکستانی مسیحی اپنے تعلیمی اداروں ، مشن ہاسپٹلز اور نرسنگ کے شعبے میں خدمات اور دیانت داری کے باعث اب تک ایک اچھی شناخت رکھتے ہیں۔مجھے اپنے بچپن کا ایک واقعہ آج تک یاد ہے۔میں اپنی والدہ کے ساتھ ایک دکان میں تھا اور ساتھ والی دکان کے باہر دو افراد کرسیوں پر بیٹھے آپس بات کررہے تھے، وہ بے خبر تھے کہ کوئی بچہ اُن کی باتیں غور سے سن رہا ہے۔ وہ کسی لڑکے کو کام پر رکھنے کی بات کررہے تھے۔ مجھے وہ الفاظ آج بھی یاد ہیں جب ایک نے کہا، “اُس لڑکے کو رکھ لیں مگر وہ عیسائی ہے تو دوسرے نے کہا ہاں یار عیسائی ہے تو پھر رکھ لو۔یہ لوگ بے ایمان نہیں ہوتے۔”
ایسے تجربات و واقعات نے ہمیشہ میرے دل میں ایک عجیب خوشی اور تسکین پیدا کی ہے۔ خدا کرے کہ بطور مسیحی ہم سب کی یہ شناخت قائم رہ سکے اگرچہ ہم میں سے اکثر اب اکثریت کے رنگ میں بھی رنگتے جارہے ہیں۔
بطور اقلیت ہمیں حقوق سے زیادہ اپنے فرائض پر زور دینا ہے۔ اُن مواقعوں سے فائدہ اٹھانا ہے جو یہاں رہتے ہوئے میسر ہیں۔احتجاج کی بجائے اپنے مزاج پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ شہباز بھٹی شہید صاحب کی کاوش سے پاکستان میں اقلیتوں کے لیے ملازمتوں، بیوروکریسی اور اہم پوسٹس میں پانچ فیصد کوٹہ مختص کر دیا گیا ہے جس کے باعث ہمارے بے شمار بیٹے بیٹیاں آج اہم پوسٹوں پر ہیں۔جہاں تک گھٹیا اور کم تر ملازمتوں کی بات ہے تو بے شک اشتہار میں لکھ دیا جاتا ہے کہ صرف غیر مسلم اپلائی کریں تو اِس میں کوئی لازمی شرط نہیں ہوتی کہ صرف مسیحی ہی اپلائی کریں گے۔ ہم تو خود سرکاری، پینشن والی، سہل اور پکی نوکری سمجھ کر اِس جوئے میں اپنی گردن دے دیتے ہیں۔ ہمارے ساتھ یہ زیادتی اُس وقت ہو جب ہمیں صفائی والی نوکری کے سوا کوئی اور آپشن کی اجازت ہی نہ ہو۔ ایسا قانون پاس کردیا جائے کہ ہم صرف اور صرف وہی ملازمت کرسکتے ہیں۔ مگر ایسا نہیں ہے۔ جہاں اِس پکی نوکری کے لیے غیر مسلموں یا اقلیتوں کے لیے آسانی پیدا کی گئی ہے وہاں اعلی ملازمتوں میں بھی کوٹہ موجود ہے مگر افسوس کہ ہمارے بچے اور خصوصا” ہمارے لڑکے وہاں تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔ اُن کے لیے میٹرک کرنا ہی ایک چیلنج بنا ہوتا ہے۔اگر ملازمتوں میں کوٹہ ہے ، سی ایس ایس میں کوٹہ ہے تو کیا ہمارے مسیحی نوجوان خصوصا” لڑکے اُس مقام تک پہنچتے ہیں۔ افسوس کہ پڑھائی کرنا بھی اُنہیں مشکل محسوس ہوتا ہے۔ اگر وہ جو کام کریں جی سے کریں یہ جان کر کہ خداوند کے لیے کرتے ہیں نہ کہ آدمیوں کے لیے تو پڑھائی میں بھی آگے بڑھ سکتے ہیں۔ اچھی ملازمتوں اور کاروبار کے بھی دروازے اُن کے لیے کھل سکتے ہیں۔
اب وقت ہے کہ بطور اقلیت مطمئن اور خوش رہیں۔ خوشی سے اِس حقیقت کو تسلیم کریں کہ میں اور آپ اقلیت میں ہیں۔کیوں کہ داؤد بھی اقلیت میں بلکہ تنہا تھا مگر جاتی جولیت کے سامنے ڈٹ گیا۔ جدعون کے ساتھ مدیانیوں سے لڑنے کے لیے بتیس ہزار جنگ جُو مرد تھے مگر خدا نے کہا کہ میں اِتنی تعداد میں فتح نہیں دوں گا ورنہ یہ اپنے زورِ بازو پر فخر کریں گے۔ آخر کار صرف تین سو مرد رہ گئے جن کے ذریعے سے خدا نے فتح بخشی (قضاۃ باب ۷)۔
بطور اقلیت اپنے متعلق دوسروں کی سوچ کو نہیں بلکہ اپنی سوچ کو بدلنے کی کوشش کریں، دوسروں کی سوچ خود ہی بدل جائے گی۔ اگر آپ مسیحی ہوتے ہوئے واقعی زمین کے نمک ہیں تو نمک کی تھوڑی سی مقدار ہی ذائقے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اگر خداوند یسوع مسیح نے آپ کو دُنیا کا نور کہا ہے اور اگر آپ ایمان رکھتے ہیں کہ آپ ہیں تو پھر اندھیرے کو مات دینے کے لیے ایک شمع ہی کافی ہوتی ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ہم تعداد کی بجائے استعدادپر، مقدار کی بجائے معیار پر، احتجاج کی بجائے مزاج پر، اکثریت کی بجائے اہمیت پر اور اقلیت کی بجائے مسیحیت پر زور دیں تو تبھی بطور اقلیت ترقی وکامرانی حاصل کرسکیں گے اور واقعی اُس حقیقی نور خداوند یسوع مسیح کی روشنی کو بھی اِس تاریک دُنیا میں منعکس کرسکیں گے۔آئیے اقلیت میں ہونے اور اُس سے بڑھ کر مسیح میں ہونے پر فخر کریں۔ کیوں کہ “اَے بچّو! تُم خُدا سے ہو اور اُن پر غالِب آ گئے ہو کیونکہ جو تُم میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا میں ہے۔” (۱-یوحنا ۴:۴)
*******

