قومیں صرف آزادی حاصل کرکے آزاد نہیں ہوتیں؛ آزادی کی حفاظت، اس کی قدر اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا ہی حقیقی آزادی ہے۔ پاکستان بھی محض زمین کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک تاریخی جدوجہد، بے شمار قربانیوں اور کروڑوں انسانوں کی امیدوں کا حاصل ہے۔ ہر یومِ آزادی ہمیں جشن کے ساتھ ایک سوال بھی دیتا ہے: ہم نے وطن سے کیا لیا اور وطن کو کیا دیا؟ آزادی کی اصل روح صرف پرچم لہرانے، ملی نغمے گانے اور تقریبات منعقد کرنے میں نہیں بلکہ اس احساس میں ہے کہ وطن ہم سب کا ہے اور اس کی تعمیر و ترقی بھی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سرحدوں پر جوان اپنے لہو سے وطن کا قرض ادا کرتے ہیں، کسان زمین کو سنوارتا ہے، مزدور اپنی محنت سے پہیے کو رواں رکھتا ہے، استاد نسلوں کی تربیت کرتا ہے، قلم کار شعور بیدار کرتا ہے اور نوجوان اپنی صلاحیتوں کو ملک کے مستقبل کے لیے وقف کرتا ہے۔ یوں قرضِ وطن صرف جان دینے سے نہیں، کردار اور عمل سے بھی ادا ہوتا ہے۔
ہماری قومی گفتگو میں ایک جملہ بہت عام ہے کہ “اقلیتیں ہماری امانت ہیں۔” شاید یہ جملہ خیرخواہی کے جذبے سے کہا جاتا ہو، مگر وقت آ گیا ہے کہ ہم اس تصور پر سنجیدگی سے غور کریں۔ پاکستان کے غیر مسلم شہری کسی کی امانت نہیں ہیں۔ وہ پاکستان کے شہری ہیں، محبِ وطن پاکستانی ہیں اور سب سے بڑھ کر پاکستانی ہیں۔ ان کی مذہبی شناخت اپنی جگہ قابلِ احترام ہے، مگر ان کی شہریت کسی دوسرے شہری سے کم نہیں۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: مذہبی اقلیت اور قومی یا شہری اقلیت ایک ہی مفہوم نہیں۔ پاکستان میں مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے پیروکار مذہبی اعتبار سے اقلیت میں ہو سکتے ہیں، لیکن وہ پاکستان کے شہری ہونے کے اعتبار سے برابر کے پاکستانی ہیں۔ ان میں سے بہت سے خاندان اور برادریاں قیامِ پاکستان سے پہلے بھی اسی خطے میں آباد تھیں۔ اُن کی تاریخ، اُن کی محنت، اُن کے قبرستان، اُن کے ادارے، اُن کی یادیں اور اُن کا پسینہ اسی مٹی سے وابستہ ہے۔اِسی حقیقت کو قتیل شفائی کے خوب صورت الفاظ میں یوں محسوس کیا جا سکتا ہے؛
ایک یہی پہچان تھی اپنی، اس پہچان سے پہلے بھی
پاکستان کا شہری تھا میں، پاکستان سے پہلے بھی
پھر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی پاکستانی “امانت” ہے تو کس کی امانت ہے؟ کیا وہ برطانیہ کی امانت ہے؟ کیا وہ ہندوستان کی امانت ہے؟ کیا وہ کسی دوسرے ملک یا قوم کی امانت ہے؟ یقیناً نہیں۔ تو پھر اسے کسی کی امانت کہنے کے بجائے پاکستان کا برابر کا شہری کیوں نہ کہا جائے؟ امانت اُس شے کو کہتے ہیں جو کسی کے پاس عارضی طور پر رکھی جائے اور وقت آنے پر اُس کے اصل حقدار کو واپس کر دی جائے۔ پاکستان کے غیر مسلم شہری کسی دوسرے ملک کے سپرد کرنے کے لیے یہاں نہیں رہتے۔ اُن کا وطن پاکستان ہے۔ اُن کی وفاداری پاکستان سے ہے، اُن کی شناخت پاکستان سے ہے اور اُن کے مستقبل کا تعلق بھی اسی سرزمین سے ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری زبان بھی ہمارے آئینی اور قومی شعور کی ترجمان بنے۔ انہیں محض “اقلیت” کہنے کے بجائے پاکستانی، محبِ وطن پاکستانی اور برابر کے شہری کہا جائے۔
وطن سے وفا کا تقاضا یہی ہے کہ ہم شہریوں میں مذہب کی بنیاد پر فاصلے پیدا نہ کریں۔ ایک مضبوط پاکستان وہی ہوگا جہاں کسی شخص کی قدر اُس کے مذہب سے پہلے اُس کے کردار، قابلیت، دیانت اور انسانیت کی بنیاد پر کی جائے۔ اگر کوئی ڈاکٹر اپنی مہارت سے جان بچاتا ہے، استاد نسل سنوارتا ہے، سپاہی سرحد کی حفاظت کرتا ہے، کسان خوراک پیدا کرتا ہے یا صحافی سچ لکھنے کی کوشش کرتا ہے تو اُس کی خدمت کو مذہبی شناخت کے پیمانے سے نہیں، پاکستانی ہونے کے جذبے سے دیکھا جانا چاہیے۔ میری اپنی شاعری بھی ہمیں اَمن، محبت اور انسانی اخوت کا درس دیتی ہے؛
اپنے گھر سے وطن سے وفا کیجیے
اَمن ہو قریہ قریہ دعا کیجیے
درس دیتے ہیں اِنجیل و قرآں یہی
آدمی ہو تو سب بھلا کیجیے
یہی وہ فکری راستہ ہے جو یومِ آزادی کو محض ماضی کی یاد سے نکال کر مستقبل کے عہد میں تبدیل کر سکتا ہے۔ پاکستان کی ضرورت آج صرف معاشی ترقی کی نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور شہری ترقی کی بھی ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے، مذہبی شناخت دیوار نہ بنے، سیاسی وابستگی انسان کی قدر کا پیمانہ نہ بنے اور قانون سب کے لیے یکساں ہو۔
آج ہمارے سامنے سب سے بڑا قرض آنے والی نسلوں کا بھی ہے۔ ہم انہیں ایسا پاکستان دیں جس میں تعلیم معیار ہو، میرٹ راستہ ہو، محنت عزت ہو، دیانت طاقت ہو اور انسانیت ہماری مشترکہ شناخت۔ ایسا پاکستان جہاں نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہوں اور جہاں ہر شہری یہ کہہ سکے کہ یہ ملک صرف میرے لیے نہیں بلکہ میرا بھی ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ وطن سے محبت صرف جذباتی وابستگی نہیں بلکہ روزمرہ ذمہ داری کا نام ہے۔ سڑک پر قانون کی پابندی، سرکاری و قومی املاک کی حفاظت، ٹیکس اور فرائض کی ادائیگی، دیانت داری سے کام، کمزور کے حق کا احترام، اختلافِ رائے برداشت کرنا اور اپنے حصے کا کام بہتر انداز میں انجام دینا بھی حب الوطنی ہے۔
آزادی کی اگلی منزل دراصل برابری، انصاف، امن اور انسانی وقار ہے۔ اگر ہم نے یہ منزل حاصل کر لی تو یومِ آزادی کا جشن حقیقی معنوں میں کامیاب ہوگا۔ہماری نئی نسل کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کسی ایک طبقے، صوبے، زبان یا مذہبی گروہ کی ملکیت نہیں۔ یہ اُن تمام شہریوں کا وطن ہے جو اس کی مٹی سے وابستہ ہیں، اس کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور اس کے بہتر مستقبل کا خواب دیکھتے ہیں۔میری نئی نظم کے یہ اشعار بھی اِسی عہد کی ترجمانی کرتے ہیں؛
خون دے کر نکھاریں گے ارضِ وطن
یوں چکاتے رہیں گے یہ قرضِ وطن
خوں پسینے کو ہم ایک کرتے ہوئے
اب سنواریں گے مل کر یہ ارضِ وطن
سبز پرچم کے سائے تلے ہم سبھی
ایک ہو کر نبھائیں گے فرضِ وطن
یومِ آزادی ہمیں صرف یہ یاد نہ دلائے کہ پاکستان کیسے حاصل ہوا؛ یہ بھی یاد دلائے کہ پاکستان کو کیسا بنانا ہے۔ آزادی کا قرض نسل در نسل منتقل ہونے والی ذمہ داری ہے۔ اس قرض کی ادائیگی سرحدوں پر لہو دینے والوں کے ساتھ ساتھ اُن کروڑوں شہریوں کے کردار سے بھی ہوتی ہے جو اپنے اپنے میدان میں پاکستان کو بہتر بناتے ہیں۔وطن سے وفا کا مطلب یہ ہے کہ ہم پاکستان کو صرف اپنا گھر نہ سمجھیں بلکہ ہر پاکستانی کو اس گھر کا برابر کا مکین سمجھیں۔ نہ کوئی کسی کی امانت ہو، نہ کسی کی رعایا؛ سب اپنے وطن کے برابر کے شہری ہوں۔ یہی آزادی کی روح، یہی وفا کا تقاضا اور یہی ایک مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے۔میری نظم کا مقطع بھی ہمارا عزم ہونا چاہیے،
ہم پہ جاویدؔ ! واجب ہوا یا نہیں
مَر کے بھی ہم اُتاریں گے قرضِ وطن
*******

