بدعت کی نشانیاں : ریورنڈ سیموئیل گِل

آج کل جو ہی ہم اپنا موبائل آن کرتے ہیں تو ہمیں مختلف قسم کی ویڈیوز دیکھنے کو ملتی ہیں ۔مذہب کی منڈی یا مارکیٹ میں لوگ مختلف قسم کے
سودے یا پراڈکٹس بیچ رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر اِس قدر تعلیمات کی بھرمار ہے کہ ایک عام اِنسان کو یہ سمجھنا اور قبول کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سی تعلیم ٹھیک ہے؟ کون سا پادری درست تعلیم دے رہا ہے؟ جب تک کوئی مسیحی ایمان دار باقاعدہ اتوار کو عبادت پر نہ جائے یہ ناکافی ہے۔ اِس کے علاوہ گرجا گھر میں باقاعدہ بائبل سٹڈی کی کلاس میں جا کر سیکھنا ، تبادلہ خیال کرنا، انٹریکشن کرنا، سوال و جواب کرنا ،پاسٹر صاحب سے علیحدگی میں سوال کرنا ، اُس کے ساتھ گھر میں کلامِ مقدس کا مطالعہ کرنا اور امدادی کتب کا مطالعہ کرنا۔ یہ سب کچھ درست ہے مگر یہ بھی ناکافی ہے؛
دیکھنا یہ بھی ہے کہ آپ کس قسم کی کلیسیا کے ممبر ہیں؟
کلیسیا کا اقرار الایمان یعنی سٹیٹمنٹ آف فیتھ کیا ہے؟
کیا کلامِ مقدس کے اندر ہے یا کلام مقدس سے باہر ہے؟
تعلیم دینے والی شخصیت کیسی ہے؟

یاد رہے کہ ہم سب اِنسان ہیں ۔سب کمزور ہیں۔ لیکن جتنا بھی ہم اپنی روحانی دَوڑ کے لیے کر سکتے ہیں وہ ضرور کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم سب کچھ غلط کر کے سارا بوجھ خدا پر یا پاسبان یا کسی دوسرے شخص پر ڈال دیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدعت کیا ہے؟
دین یا مذہب میں سے کوئی نئی چیز نکالنا۔

اگر آپ مندرجہ ذیل نشانات یا علامات کسی تعلیم کے اندر دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ یہ غلط تعلیم ہے یہ بدعت ہے۔
۔()۔ کلام مقدس کے اختیار کو نہ ماننا ۔
کلام مقدس کے اختیار کو رَد کرنا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کلامِ مقدس کے اندر لکھا ہے اُس کو مکمل طور پر نہ ماننا۔ ضروری ہے کہ کلامِ مقدس کو ویسا ہی مانا جائے جیسا اُس کے اندر لکھا ہے۔ چاہے آپ کو سمجھ آئے یا نہ آئے۔ اگر آپ کو اِس وقت سمجھ نہیں آرہی تو خدا مستقبل میں آپ کو سمجھا دے گا۔ اگر مرنے تک بھی سمجھ نہ آئے تو آسمان پر جا کر خدا ضرور اِس بات کو آپ کے لیے کھول دے گا۔

نومبر 1977 میں بلی گرام سکول آف ایونجلزم، میٹرو منیلا میں منعقد ہوا ۔ مجھے بھی اُس میں جانے کا موقع ملا۔ رات کو بشارتی عبادات اور لوننیتا پارک کے وسیع و عریض پارک میں جو کہ سمندر سے ملحق تھا عبادات ہوتی تھیں۔ مَیں وہاں پر کونسلر کی خدمت سرانجام دیتا تھا۔کلام سنانے کے دوران ڈاکٹر بلی گرام نے بتایا؛
’’ایک رات میں کتابِ مقدس کامطالعہ کررہا تھا۔ مجھے اِس حوالہ کی سمجھ نہیں آرہی تھی۔ مَیں کافی پریشان بھی ہوا۔ اُسی دوران میں اپنے کمرے سے باہر نکل آیا۔ مَیں کسی دوسرے شہر میں تھا، چاندنی رات تھی، صحرائی علاقہ تھا، ریت کے بڑے بڑے ٹیلے تھےاوربائبل مقدس میرے ہاتھ میں تھی۔ رات کے وقت چاند اپنے جوبن پر تھا، چاند پورا تھا یعنی چودھویں کا چاند تھا، مَیں نے دُعا کی۔ اے خداوند مجھے اِس حوالے کی سمجھ عطا کر۔ مگر مجھےسمجھ نہ آئی۔

مَیں نے پھر دُعا کی اور کہا کہ’’ اے خداوند اگر مجھے اِس کی سمجھ آئے یا نہ آئے میرا ایمان ہے کہ یہ تیرا کلام ہے اور اِ سے بطور تیرا کلام مَیں قبول کرتا ہوں‘‘، مَیں اپنے کمرے میں واپس آگیا اور مجھے پوری تصدیق ہو گئی ایک دفعہ ایک پادری صاحب سے ملاقات ہوئی یہ آزاد پادری صاحب تھے باتوں باتوں میں اُن کے خاندان کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ’’ مَیں نے شادی کر لی ہے‘‘، پوچھا کہ’’ آپ کی پہلی بیوی کیا فوت ہو گئی ہے؟‘‘ کہنے لگے کہ’’ وہ زندہ ہے اور وہ پاگل ہے‘‘ مَیں نے پوچھا’’ آپ نے یہ شادی کیسے کر لی؟‘‘ فرمانے لگے ’’مَیں نے اپنے ایلڈرصاحبان سے بات کی تو اُنہوں نے مجھے اجازت دے دی۔‘‘ مَیں نے کہا کہ’’ کلامِ مقدس تو منع کرتا ہے‘‘، کہنے لگے ’’مَیں بعد مَیں آپ کو بتاؤں گا، آپ روحانی لوگ ہیں، آپ تو یہ باتیں سمجھتے ہیں اور ہم بھی خادم ہیں اور روحانی لوگ ہیں۔‘‘ اِس طرح اُنہوں نے جلدی جلدی جان چھڑائی اور رفو چکر ہو گے۔۔۔!۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading