مسلمان مرد شرعی طور پر اہل کتاب خواتین کےساتھ نکاح کر سکتے ہیں؛ وفاقی آئینی عدالت نے اٹھارہ سال سے کم عمر اقلیتی لڑکیوں کی مسلمان لڑکوں سے شادی پر اہم فیصلہ جاری کردیا۔ عدالت نے ماریہ بی بی کا قبول اسلام اور شہریار نامی لڑکے سے نکاح درست تسلیم کرلیا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مسلمان مرد شرعی طور پر اہل کتاب خواتین کےساتھ نکاح کر سکتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ چائلڈ میرج ایکٹ کے تحت کم عمری کی شادی پر سزا ہو سکتی ہے نکاح ختم نہیں ہو سکتا،چائلڈ میری ایکٹ میں کم عمری کا نکاح ختم ہونے کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ پاکستان میں کم عمری کی شادی اور مذہب کی تبدیلی سے متعلق قوانین کافی پیچیدہ ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ یہاں صوبائی اور وفاقی قوانین میں فرق پایا جاتا ہے۔
وفاقی آئینی عدالت کے اس حالیہ فیصلے کے بعد جو اہم قانونی اور معاشرتی سوالات اٹھتے ہیں، ان کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
صوبائی قوانین میں تضاد (سندھ بمقابلہ دیگر صوبے؛
پاکستان میں شادی کی قانونی عمر کے حوالے سے یکسانیت نہیں ہے۔سندھ اسمبلی نے ’’سندھ چائلڈ میرجز ریسٹرینٹ ایکٹ 2013‘‘ منظور کیا تھا، جس کے تحت لڑکا اور لڑکی دونوں کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازمی ہے۔ وہاں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادی کو “کالعدم” قرار دینے کی قانونی گنجائش زیادہ سخت ہے۔
پنجاب اور وفاق یہاں ابھی بھی برطانوی دور کا قانون (ترامیم کے ساتھ) رائج ہے جس میں لڑکی کی کم از کم عمر سولہ سال ہے (اگرچہ اسے اٹھارہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں)۔ وفاقی عدالت کا موجودہ فیصلہ اسی نکتے پر ہے کہ قانون سزا تو دیتا ہے مگر نکاح ختم نہیں کرتا اور نکاح اور جرم کا ساتھ ساتھ چلنا بادی النظر میں عدالتی فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک سترہ سالہ لڑکی نکاح کرتی ہے، تو وہ نکاح شرعی طور پر درست مانا جائے گا اور میاں بیوی کے طور پر ان کا ساتھ رہنا “زنا” کے زمرے
میں نہیں آئے گا، لیکن لڑکی کے والد، دولہا، اور نکاح خواں کو چائلڈ میرج ایکٹ کی خلاف ورزی پر جیل یا جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
اقلیتوں کے تحفظ کے تحفظات؛
مسیحی اور دیگر اقلیتی برادریوں کی جانب سے اکثر یہ تشویش ظاہر کی جاتی ہے کہ کم عمری کی شادی کے قانون میں “نکاح برقرار رہنے” کی گنجائش کو جبری تبدیلیِ مذہب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور پولیس، عدالتی اہلکار اور وکلاء تنظیمیں بھی ایسے کیسوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔اب انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ جب تک لڑکی اٹھارہ سال کی نہ ہو، اس کی مذہب کی تبدیلی اور نکاح دونوں کو قانونی طور پر تسلیم نہیں کیا جانا چاہیے، تاہم وفاقی شرعی عدالت نے ’ بلوغت‘کو شرعی معیار مانتے ہوئے نکاح کو ترجیح دی ہے۔
اس فیصلے کے بعد ہماری اقلیتوں پر دور رس اثرات ہو سکتے ہیں؛
یہ فیصلہ واضح کرتا ہے کہ پارلیمنٹ کو قانون میں ایسی تبدیلی لانی ہوگی جو واضح کرے کہ آیا کم عمری کی شادی “سرے سے ختم” تصور ہوگی یا نہیں۔ جب تک قانون خاموش ہے، عدالتیں نکاح کو برقرار رکھیں گی جسکا فائدہ ملزم پارٹی اور نکاح خواں اور گواہان کو ہوگا۔جبکہ طبی ماہرین اس فیصلے پر تنقید کرتے ہیں کیونکہ کم عمری کی شادی لڑکیوں کی صحت اور تعلیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔اس فیصلہ کے بعد اب گیند مقننہ پارلیمنٹ کے کورٹ میں ہے کہ وہ “چائلڈ میرج ایکٹ” میں ایسی ترمیم کرے جو یا تو شرعی تشریح کے مطابق ہو یا پھر اسے سماجی ضرورت کے تحت مزید سخت بنائے۔
وفاقی آئینی عدالت کا حالیہ فیصلہ قانون اور شریعت کے باہمی تعلق کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس فیصلے نے دو اہم پہلوؤں کو واضح کیا ہے؛
اہلِ کتاب سے نکاح اور چائلڈ میرج ایکٹ کی قانونی حیثیت۔اہل کتاب خواتین سے نکاح کی شرعی حیثیت؟عدالت نے اس دیرینہ شرعی اصول کی توثیق کی ہے کہ ایک مسلمان مرد کے لیے مسیحی یا یہودی (اہلِ کتاب) خاتون سے نکاح کرنا جائز ہے۔ اسلامی فقہ کے مطابق، اگر خاتون اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بھی کسی مسلمان سے نکاح کرنا چاہے، تو یہ عقد شرعاً درست تسلیم کیا جاتا ہے۔
۔۱۔نکاح کی درستی بمقابلہ سزا (چائلڈ میرج ایکٹ)
اس فیصلے کا سب سے حساس نکتہ “کم عمری کی شادی” ہے۔ عدالت نے دو چیزوں میں واضح فرق کیا ہے، اگر نکاح کے بنیادی ارکان (ایجاب و قبول، گواہان وغیرہ) پورے ہوں، تو نکاح منعقد ہو جاتا ہے اور اسے صرف “کم عمری” کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا جبکہ یہ قانونی جرم ہے اور چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کی خلاف ورزی ہے اور مقررہ عمر سے کم شادی کرنا ایک جرم ہے جس پر سزا (جرمانہ یا قید) ہو سکتی ہے، لیکن یہ قانون اس نکاح کو خود بخود ختم نہیں کرتا۔
۔۲۔ ماریہ بی بی کیس کا پس منظر
اس مخصوص کیس میں عدالت نے ماریہ بی بی کے قبولِ اسلام اور شہریار سے نکاح کو برقرار رکھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ؛
ماریہ بی بی کا اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنا ان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیااور عمر کی کمی کی وجہ سے متعلقہ فریقین کو قانونی کارروائی کا سامنا تو کرنا پڑ سکتا ہے، لیکن ان کا ازدواجی رشتہ برقرار رہے گا۔عدالت کا یہ فیصلہ اس نکتے پر مبنی ہے کہ “سزا ہونا الگ بات ہے اور نکاح کا ٹوٹ جانا الگ”۔ پاکستانی قانون (موجودہ صورتحال میں) کم عمری کی شادی کو ایک انتظامی جرم تو مانتا ہے، مگر اسے نکاحِ باطل قرار دینے کی گنجائش نہیں رکھتا جب تک کہ پارلیمنٹ اس قانون میں واضح تبدیلی نہ کرے۔
*******


