آج کل سوشل میڈیا پر ایک پادری صاحب کے بیٹے کے مسیحیت چھوڑ کر اسلام قبول کرنے کی خبر زیرِ بحث ہے۔ اس واقعے کے بعد لوگوں نے کمنٹس میں طرح طرح کے تبصرے شروع کر دیے ہیں۔ کوئی پادری صاحب کی تربیت پر سوال اٹھا رہا ہے، کوئی ان کی گھریلو زندگی کو موضوعِ تنقید بنا رہا ہے اور کوئی انٹرنیٹ اور جدید دور کو اس کا ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان تبصروں میں ہمدردی کم اور پادری صاحب پر الزام تراشی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
میں ایسے لوگوں سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ کسی کے گھر کے حالات اور اندرونی آزمائشوں کو جانے بغیر اس پر انگلی اٹھانا بہت آسان ہے، مگر اس کے دکھ کو سمجھنا اور اس کے ساتھ کھڑا ہونا بہت مشکل!
میرے والد صاحب بھی ایک پادری تھے۔ وہ نہایت ایماندار، خدا کے وفادار خادم اور عالمِ دین تھے۔ اپنی پوری زندگی خدا کی خدمت میں گزاری اور کئی اہم عہدوں پر فائز بھی رہے۔ لیکن ہمارے گھر کے حالات ہمیشہ مثالی نہیں رہے۔ خاندان بڑا تھا، زندگی نے کئی امتحان لیے۔ ہم نے بہت سے دکھ اور آزمائشیں دیکھی ہیں۔
ایک مرتبہ میں نے اپنے والد صاحب سے پوچھا؛ “پاپا جی! آپ نے ساری زندگی اتنی ایمانداری، وفاداری اور وقار کے ساتھ خدا کی خدمت کی، پھر ہمارے خاندان پر اتنی مصیبتیں اور مشکلات کیوں آئیں؟” وہ ذرا سا مسکرائے اور بڑے اطمینان سے جواب دیا؛ “بیٹا! اس طرح نہیں سوچنا چاہئے۔ خدا کے خادم وہ بندے ہوتے ہیں جو اگلے مورچوں پر لڑتے ہیں۔ اور ہمیشہ جنگ کے اگلے مورچوں پر لڑنےوالے سپاہیوں پر ہی زیادہ تکلیفیں، زخم اور اذیتیں آتی ہیں۔ ابلیس خدا کے لوگوں کو خوش، مطمئن اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتا۔ اس لیے ان آزمائشوں میں ثابت قدم اور جان تک دینے میں وفادار رہنا ہی ہماری ذمہ داری ہے۔”
والد صاحب کی یہ بات آج بھی میرے دل میں زندہ ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ خدا کے خادموں سے کوئی غلطی نہیں ہوتی، نہ ہی یہ کہ ان کے گھریلو معاملات پر کبھی بات نہیں ہونی چاہیے۔ وہ بھی انسان ہیں، ان سے بھی کوتاہیاں ہو سکتی ہیں، مگر کسی کے ایک خاندانی مسئلے یا اولاد کے کسی فیصلے کو بنیاد بنا کر اس کی ساری عمر کی خدمت کو مشکوک بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟
ہمیں یہ حقیقت سمجھنی چاہیے کہ پادری بھی ایک انسان، ایک شوہر، ایک باپ اور ایک خاندان کا سربراہ ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کے دکھوں میں شریک ہوتا ہے، لوگوں کے لیے دعائیں کرتا ہے، بیماروں کی عیادت کرتا ہے، ٹوٹے ہوئے دلوں کو تسلی دیتا ہے اور دوسروں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس کے اپنے گھر میں بھی مسائل ہو سکتے ہیں، اس کے اپنے بچے بھی زندگی کے مشکل فیصلے کر سکتے ہیں اور اس کا اپنا دل بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
اولاد اپنی زندگی میں کیا راستہ اختیار کرتی ہے، اس پر والدین کا ہمیشہ مکمل اختیار نہیں ہوتا۔ آج کل تو اولاد کا اپنا شعور، اپنی سوچ اور اپنی مرضی ہوتی ہے۔ اس لیے کسی بچے کے فیصلے کا سارا بوجھ والدین، خصوصاً اس کے پادری باپ کے کندھوں پر ڈال دینا درست نہیں۔ ہمیں خدا کے خادموں کو تنقید کا نشانہ بنانے سے پہلے ان کی انسانیت، ان کی قربانیوں اور ان کی آزمائشوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔ اگر وہ ہماری خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے غم میں شریک ہونا چاہیے۔ اگر وہ ہماری مشکلات میں ہمارے لیے دعا کرتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے لیے دعا کرنی چاہیے۔
خدا کے خادموں کو ہر وقت کٹہرے میں کھڑا کرنے کے بجائے کبھی ان کے ساتھ کھڑے ہو کر بھی دیکھیے۔ شاید انہیں اس وقت کسی تنقید سے زیادہ ایک ہمدرد لفظ، ایک دعا اور ایک محبت بھرے ہاتھ کی ضرورت ہو۔
یاد رکھیے، کسی گرے ہوئے کمزور انسان پر انگلی اٹھانا آسان ہے، لیکن اسے سہارا دینا مسیحی محبت کا تقاضا ہے۔
آئیے! خدا کے خادموں کے خلاف فیصلہ سنانے میں جلدی نہ کریں۔ ان کے لیے دعا کریں، ان کے دکھ کو سمجھیں اور مشکل وقت میں انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔کیونکہ خدا کی خدمت کرنے والے بھی ہمارے جیسے انسان ہیں، انہیں بھی محبت، احترام، دعا اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔خدا کے خادموں کو کٹہرے میں نہیں، محبت کے حصار میں رکھیے کیونکہ یہ خدمت کے چراغ،دکھوں کے مسافر ہیں۔
*******

