آٹھ اکتوبر 2026 ء لاہور سے 74 کلومیٹر شمال مشرق کے فاصلے پر واقع نارنگ مندی کے علاقہ میں گاؤں گھڑیال کلاں میں ایک مسیحی کامران مسیح ولد منیر مسیح پر سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے کا الزام لگایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے شکایت درج کر کے ملزم کو فوری طور پر گرفتار کرنے کے علاوہ اُس کے خاندان کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ بعد ازاں 9 اکتوبر 2026 ء بروز جمعہ کو مشتعل ہجوم نے کامران مسیح کے کلینک کو نذر آتش کر دیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق شٹر کی چادر آگ کی شدت سے سُرخ ہو گئی تھی۔ دکان سے دس فٹ کے فاصلے تک تپش کے باعث کھڑا ہونا ممکن نہیں تھا۔ فیس بک پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیو میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ کامران مسیح کے گھر کو نہیں جلایا گیا۔ اُس کے مطابق چند شر پسندوں نے کامران مسیح کی دکان کو جلایا ہے۔ پولیس افسر کے مطابق دکان میں 10 سے 12 ہزار روپوں کا سامان تھا۔ اِس ویڈیو میں گاؤں کی امن کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے جس میں مسیحی کمیونٹی کے ایک فرد نے بتایا کہ حالات پر امن ہیں۔ اُس نے پولیس کی کارکردگی کی تحسین کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔
کم و بیش مسیحی سیاسی و مذہبی قیادت نے حسب توفیق پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس محمد اختر تبسم نے یو کین نیوز سے بات کرتے ہوئے پولیس کی کارکردگی کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بر وقت کارروائی کر کے صورت حال پر قابو پا لیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ سے بھاگ جانے والے مسیحی 10 اکتوبر کو واپس گھروں کو لوٹ آئے تھے۔ تبسم کے مطابق پولیس نے حملہ آوروں کے خلاف بھی انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ تا حال 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔
مذہبی اقلیتوں کی آبادیوں، گھروں اور عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور نذر آتش کیے جانے کے واقعات مذہبی اقلیتوں کی روز مرہ زندگیوں کی ایک معلوم حقیقت اور معمول ہے۔ چنانچہ ایسے واقعات کے بعد چند رٹے رٹائے جملے سنے جاتے ہیں ْ ہم صدیوں سے مل جل کر رہ رہے ہیں۔ پولیس نے بر وقت کارروائی کر کے زیادہ نقصان ہونے سے بچا لیا۔
حیرت کی بات ہے کہ حملہ آوروں، اُن کو اکسانے والوں، جمع کرنے والوں اور نذر آتش کرنے کا سامان مہیا کرنے والوں کے بارے میں بات کرنے سے نہایت چابکدستی سے گریز کیا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ چند شر پسند کے الفاظ بول کر اِس گروہ کو صاف بچا لیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ ایک درجن سے کم کو چند کہا جا سکتا ہے۔ اِس وقوعہ میں موجود لوگ کسی طور پر چند شر پسند نہیں بلکہ درجنوں دہشت گرد تھے۔ دوسری طرف ریاست سے لے کر پولیس اور انتظامیہ پُر اسرار طور پر عوام کی نظروں میں دھول جھونک کر گرفتار کردہ حملہ آور ملزمان کو مکھن میں سے بال کی طرح نکال لیتے ہیں۔
سانحہ جڑانوالہ میں 26 گرجا گھروں اور 9 مسیحی بستیوں کو جلا دیا گیا۔ کوئی 303 کے قریب حملہ آوروں کو گرفتار کیا گیا جن کو بعد ازاں ٹھوس شواہد نہ ہونے کے باعث رہا کر دیے گئے۔ 9 مارچ 2013 ء کو بادامی باغ لاہور میں مسیحیوں کی بستی جوزف کالونی میں 170 گھروں کو جلا دیا گیا ہزاروں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے۔ علاوہ ازیں پولیس نے 106 افراد کو نامزد کیا تھا۔ 28 جنوری 2017 ء کو 107 ملزمان کو شواہد نہ ہونے کی بنا پر رہا کر دیا گیا۔ یہ لوگ قبل ازیں ضمانت پر رہا تھے۔ نومبر 2005 ء میں سانگلہ ہل میں تقریباً 3000 مسلمانوں نے مسیحیوں کی آبادی پر حملہ کر دیا۔ 85 ملزمان میں سے 65 کو گرفتار کیا گیا۔ کسی ملزم کو سزا نہیں ملی۔ 31 جولائی 2009 ء کو کرسچن کالونی گوجرہ کو نذر آتش کر دیا گیا جس میں 80 گھروں کو جلا دیا گیا اور آٹھ افراد جل کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ 70 نامزد ملزمان میں سے 68 کی ضمانت قبل از گرفتاری ہو گئی تھی۔ گوجرہ کے سانحہ میں کسی ملزم کو سزا نہیں دی گئی۔ اِس سانحہ کی جوڈیشل انکوائری کی سفارشات پر عمل در آمد نہیں کیا گیا۔
ایسے واقعات میں ہجوم کو اکسانے، جمع کرنے اور آتش گیر مواد مہیا کرنے والوں کو کبھی قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا۔ پولیس ایسے واقعات میں کچھ اِس مہارت سے تفتیش کرتی ہے کہ ملزمان کو سزا دینا عدالت کے لئے ممکن ہی نہیں رہتا۔ سانحہ جڑانوالہ کے بعد مسیحی برادری کی سیاسی و مذہبی قیادت نے وقوعہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا تھا لیکن پنجاب کی نگران حکومت نے یہ کہہ کر مطالبہ مسترد کر دیا کہ پولیس تحقیق کر رہی ہے۔
تاہم 14 فروری 2024 ء کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل سہ رکنی عدالتی بینچ کے سامنے پنجاب کی نگران حکومت کی جانب سے سانحہ جڑانوالہ پر پیش کی گئی رپورٹ معیار، اپنی جُزیات اور حقائق کا کھوج لگانے کے معاملات میں اتنی ناقص تھی کہ چیف جسٹس نے اُسے ردی میں پھینکنے کے لائق قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ جب تک ایسے بلوے کروانے والوں پر سرکار کی نظر کرم رہے گی ہمارے معاشرے میں یہ چلن بلا رکاوٹ جاری رہے گا۔
مذہبی اقلیتوں میں پائے جانے والے خوف، بے بسی اور بے چارگی کا عالم یہ ہے کہ وہ مظلوم ہونے کے باوجود معذرت خواہانہ اور دبے ہوئے لہجے میں بات کر رہے ہیں۔ وہ حملہ آوروں اور انہیں جمع کرنے والوں کے خلاف ایک لفظ بھی ادا نہیں کر پا رہے۔
1990ء کی دہائی میں منو بھائی نے جنگ اخبار میں اپنے ایک کالم میں ایک غریب اور بے آسرا عورت کا تذکرہ کیا تھا۔ عورت کے گھر ڈاکا پڑا تھا۔ پولیس کی کارروائی کے دوران کسی صحافی نے عورت سے کہا بی بی آپ سے بہت زیادتی ہوئی ہے۔ تو عورت نے کہا، جی نہیں ظلم ہوا ہے زیادتی نہیں ہوئی۔ مظلوم عورت کو اپنے ساتھ ہونے وا لے ظلم کا ادراک تھا۔ ہم مذہبی اقلیتوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ ہمارے ساتھ ظلم ہوا ہے یا زیادتی۔
جڑانوالہ کا سانحہ ہوا تو آئی جی پنجاب کی زبان علماء اکرام کی تعریف و تحسین کرتی تھکتی نہیں تھی۔ فرمایا کہ علماء کی بر وقت مداخلت نے جڑانوالہ کو بچا لیا۔ ایسے تمام واقعات میں پولیس، سیاسی و مذہبی قیادت (مسیحی و مسلمان) نہایت چابکدستی سے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہوئے مسیحی املاک کو نذر آتش کرنے والے مومنین کی کارروائی پر سوال اٹھانے کی جرات نہیں کرتے۔ کوئی اِن جتھوں کو جمع کرنے والوں کے کردار کی مذمت نہیں کرتا۔ کوئی اِن مسلح گروہوں کو اعلان کر کے جمع کرنے والوں اور اُن کا خون گرم کر کے املاک کو نذر آتش کرنے والوں پر انگلی اٹھانے کی زحمت نہیں کرتا۔ شانتی نگر میں توہین کے جھوٹے الزام کے بعد شانتی نگر میں جانوروں کی ٹانگیں توڑ دی گئیں تھیں۔ ایکٹروں پر لگے ہوئے پھل دار باغ کاٹ دیے گئے تھے۔ کون نہیں جانتا کہ اِس کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔ مگر آج تلک کسی کو سزا نہیں ملی۔ دور کیا جائیں، گوجرہ میں، جڑانوالہ میں لڑکیوں کے جہیز جلا دیے گئے اور بہت سا سامان مال غنیمت بنا لیا گیا۔
شانتی نگر سے جڑانوالہ اور سرگودھا میں نذیر مسیح کو قتل کرنے والوں کے خلاف کسی فرد کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی۔ جڑانوالہ میں مسیحی برادری کا مطالبہ تھا کہ اِس واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کروانے کا مطالبہ کیا تھا تاہم پنجاب کی حکومت نے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ پولیس انکوائری کر رہی ہے۔ دوسری طرف پولیس کی انکوائری کو سپریم کورٹ نے مضحکہ خیز قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔
عدالت نے رپورٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ شر پسند عناصر کے خلاف مقدمات کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ علاوہ ازیں شناخت شدہ حملہ آوروں کے بارے میں یہ بتانے سے گریز کیا گیا ہے کہ وہ کس جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ عدالت نے مزید کہا کہ لگتا ہے کہ رپورٹ مرتب کرنے والے اِس سانحہ کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے سنجیدہ نہیں ہیں۔
*******

