(نومولود بچوں کی ہلاکت قومی سانحہ ہے، آزاد عدالتی انکوائری کرائی جائے!۔)
پمز اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ وارڈ کی نرسری میں آتش زدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی المناک ہلاکت گہرے دکھ اور صدمے کا باعث ہے جس پر سوگوار والدین اور خاندانوں سے دلی تعزیت ہی کی جا سکتی ہے۔یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک ایسا قومی سانحہ ہے جس میں وہ معصوم بچے جان سے گئے جن کا اپنی حفاظت کے لیے مکمل طور پر اسپتال کے نظام، عملے اور ریاستی انتظامات پر انحصار تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نرسری میں موجود بچوں میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا۔ آگ کے اسباب، ایمرجنسی رسپانس، فائر سیفٹی انتظامات، عملے کی موجودگی اور انخلا کے طریقۂ کار کے بارے میں جو سوالات سامنےآرہےہیں، ان کا شفاف اور غیر جانب دارانہ جواب قوم کو ملنا چاہیے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں انتظامی انکوائری کمیٹی اس سانحے کی سنگینی اور اس میں موجود ممکنہ انتظامی و فوجداری ذمہ داریوں کے تعین کے لیے کافی نہیں۔ جب ایک سرکاری اسپتال میں اتنی بڑی تعداد میں نومولود بچے جان سے چلے جائیں اور ساتھ ہی اسپتال کی فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور عملے کی موجودگی سے متعلق سوالات اٹھیں تو تحقیقات ایسے ادارے کے ذریعے ہونی چاہئیں جو انتظامیہ سے مکمل طور پر آزاد ہو۔
حکومت کو فوری طور پر درج ذیل اقدامات لینے کی ضرورت ہے؛
۔1۔پمز نرسری سانحے کی فوری عدالتی انکوائری کرائی جائے اور اس کے لیے ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔
۔2۔انکوائری میں صرف آگ لگنے کی وجہ ہی نہیں بلکہ فائر سیفٹی سسٹم، بجلی اور اے سی تنصیبات، ایمرجنسی ایگزٹ، فائر فائٹنگ آلات، عملے کی موجودگی، نرسری کی نگرانی، ریسکیو رسپانس اور اسپتال کے انتظامی فیصلوں کا بھی جائزہ لیا جائے۔
۔3۔والدین کی جانب سے عملے کی عدم موجودگی، ایمرجنسی راستوں اور دیگر انتظامی کوتاہیوں سے متعلق الزامات کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں۔ یہ الزامات فی الحال محض الزامات ہیں، لیکن ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
۔4۔جاں بحق بچوں کی شناخت کے لیے فوری اور شفاف ڈی این اے ٹیسٹنگ کرائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو مکمل معلومات اور ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے۔
۔5۔تحقیقات مکمل ہونے تک کسی بھی ممکنہ ثبوت، ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیج، فائر سیفٹی لاگز، بجلی کے معائنے اور ڈیوٹی روسٹرز کو محفوظ کیا جائے تاکہ شواہد ضائع یا تبدیل نہ ہو سکیں۔
۔6۔تحقیقات میں یہ بھی دیکھا جائے کہ ماضی میں پاکستان کے مختلف سرکاری اسپتالوں میں ہونے والے ایسے واقعات سے کیا سبق حاصل کیا گیا اور ان کے بعد جاری ہونے والی سفارشات پر کتنا عمل ہوا۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کے کسی اسپتال کی نرسری میں آگ نے نومولود بچوں کی جان لی ہو۔ اس سے پہلے بھی جون دوہزار بارہ میں لاہور کے سروسز ہسپتال، جنوری دوہزار بیس میں کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ ،جون دوہزار چوبیس میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی نرسری میں آتش زدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی ا موات ہوئیں۔ اس واقعے کے بعد بھی ذمہ داروں کے تعین اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ سامنے آیا۔ہر ایسی موت کو محض ایک “حادثہ” قرار دے کر ایک انتظامی کمیٹی بنا دینا کافی نہیں۔ اگر غفلت، ناقص انتظام، حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی یا کسی فرد یا ادارے کی کوتاہی ثابت ہو تو ذمہ داروں کا تعین اور قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے۔
وفاقی حکومت، وزارتِ صحت، اسلام آباد انتظامیہ اور متعلقہ ریاستی اداروں کو پمز سانحے کی شفاف، آزاد اور عدالتی تحقیقات کروانا، تحقیقات کی رپورٹ عوام کے سامنے لانا اور ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا د ینا چاہیے۔ساتھ ہی اسلام آبادمیں پمز، پولی کلینک اور سی ڈی اے ہسپتال سمیت ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹ، بجلی کے نظام، آکسیجن سپلائی، انکیوبیٹرز، نرسریوں اور عملے کی ہنگامی تربیت کا فوری آزادانہ آڈٹ کرایا جائے تاکہ آئندہ کسی والدین کو اپنے نومولود بچے کی ایسی المناک موت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔معصوم بچوں کی جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔اس سانحے کی مکمل حقیقت سامنے آنا اور ذمہ داروں کا احتساب ہونا ضروری ہے۔
*******

