قاریئن کرام ! پچھلے کچھ ہفتوں سے وطنِ عزیز میں اقلیتوں کے لئے طرزِ انتخاب کے حوالے سے بحث عروج پر ہے حتیٰ کہ صوبائی اقلیتی ارکان نے تو ایک قرار داد بھی اسمبلی میں جمع کروا دی ہے۔ میری آج کی یہ تحریر اس بات کا احاطہ کرے گی کہ اقلیتوں کے لئے کونسا طرزِ انتخاب فائدہ مند ہے اور کیوں؟ لیکن میں باہر حال اپنے ان دوستوں کی رائے سے اختلاف کرنے کے باوجود ان کی رائے کا احترام کرتا ہوں جو موجودہ رائج طرزِ انتخاب کی بجائے پھر سے جداگانہ طرزِ انتخاب کو اقلیتوں کے لئے بہتر سمجھتے ہیں۔
پاکستان بننے کے بعد ابتدا میں انتخابات مخلوط بنیادوں پر ہی منعقد ہوتے تھے، تاہم 1985 میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں جداگانہ انتخابی نظام متعارف کروایا گیا جس کے تحت اقلیتوں کو الگ انتخابی فہرستوں میں شامل کر کے صرف اپنے نمائندے منتخب کرنے کا حق دیا گیا۔ اس نظام پر وقت کے ساتھ تنقید بڑھتی گئی کیونکہ اس سے اقلیتیں قومی سیاسی دھارے سے کسی حد تک الگ ہو جاتی تھیں۔ درحقیقت جدا گانہ طرزِ انتخاب کی کی بنیاد اس تصور پر ہے کہ کسی فرد کے مفادات کا تعین صرف اس کے مذہب سے ہوتا ہے، جو کہ ایک سادہ اور غیر جامع مفروضہ ہے۔ اس سوچ کے تسلسل سے معاشرے میں تقسیم اور دوری بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے، جو قومی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ، یعنی اگر اس طرزِ انتخاب کی اسی طرح وکالت جاری رکھی گئی تو دراصل اکثریت اور اقلیتوں کےدرمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید وسعت ملے گی ۔
ہمارے ملک میں انسانی حقوق اور اقلیتوں کے مسائل کے حوالے سے چند متحرک اقلیتی آوازوں میں سے آفتاب الیگزینڈر مغل ، پیٹر جیکب اور فادر بونی مینڈس کے طور پر سامنے آئی ہیں۔فادر بونی مینڈس جنھوں نے بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے کام کیا۔ انہوں نے چرچ اور سماجی اداروں کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی پیدا کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ قومی یکجہتی کے لیے ضروری ہے کہ اقلیتیں بھی اسی انتخابی نظام کا حصہ ہوں جس میں اکثریتی آبادی حصہ لیتی ہے۔آفتا ب الیگزینڈر مغل اور پیٹر جیکب جو انسانی اور اقلیتی حقوق کے حوالے سے معروف سماجی کارکن ہیں، انہوں نے سول سوسائٹی کے پلیٹ فارم سے اس مسئلے کو مؤثر انداز میں اٹھایا۔ انہوں نے مختلف تنظیموں کے ساتھ مل کر عوامی مباحثوں، کانفرنسوں اور پالیسی مکالموں کا انعقاد کیا اور یہ مؤقف پیش کیا کہ جداگانہ انتخابات جمہوری اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ان کی کوششوں نے اس بحث کو علمی اور پالیسی سطح تک پہنچانے میں مدد دی۔غرض یہ کہ ان تمام شخصیات نے مختلف اخبارات و جرائد میں کالم یا مضامین کے ذریعے، سیمینارز اور سماجی سرگرمیوں میں اپنے خیالات کا اظہار کر کے اس بات پر زور دیا کہ جداگانہ انتخابات اقلیتوں کو قومی سیاسی دھارے سے الگ کر دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ مخلوط انتخابات ہی وہ نظام ہے جس کے ذریعے اقلیتیں ملک کی مجموعی سیاست کا حصہ بن سکتی ہیں۔ ان آوازوں کا تعلق سول سوسائٹی اور مذہی حلقوں سے تھا۔ان اقلیتی آوازوں کا بہت ساری اکثریتی آوازوں نے بھی ساتھ دیا اور مخلوط انتخابات کی بحالی کی کوششوں میں بھی شامل رہیں اور بہت سی اب بھی مخلوط طرزِ انتخاب کی نہ صرف داعی ہیں بلکہ مختلف طریقوں سے اپنا حصہ بقدرِ جسہ ڈال رہی ہیں جو حقیقتا ملک میں نہ صرف مذہبی ہم آنگی کے فروغ کیلئے کوشاں بلکہ اقلیتوں کے بنیادوں حقوق کے حصول میں سرگرمِ عمل ہیں۔
غرض یہ کہ ایک طویل جدوجہد اور انتھک کوششوں کے بعد 2002 میں جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں مخلوط انتخابی نظام دوبارہ بحال کیا گیا۔ اس فیصلے کا مقصد اقلیتوں کو قومی سیاسی دھارے میں دوبارہ شامل کرنا اور انہیں عمومی انتخابی عمل کا حصہ بنانا تھا۔ اس تبدیلی کے بعد اقلیتی ووٹرز عام ووٹ کے ذریعے بھی سیاسی عمل میں حصہ لینے لگے جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ان کے لیے مخصوص نشستوں کا نظام بھی برقرار رکھا گیا۔ مخلوط انتخابات کا بنیادی فائدہ یہ ہے کہ اقلیتیں قومی دھارے میں شامل رہتی ہیں۔ اس نظام کے تحت اقلیتوں کو صرف اپنی مخصوص نشستوں تک محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ اقلیتیں عام ووٹ کے ذریعے بھی سیاسی عمل کا حصہ بنتی ہیں۔ اس طرح اقلیتی ووٹرز بھی ملک کے مجموعی سیاسی ماحول میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ قومی سیاسی دھارے میں نہ صرف شامل ہیں بلکہ اس کا ایک لازمی جزو ہیں۔
اس نظام کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اقلیتوں کے مسائل اور حقوق کو نظر انداز نہیں کر سکتیں۔ جب اقلیتی ووٹ عام انتخابات میں بھی اثر انداز ہو سکتا ہے تو سیاسی جماعتیں ان کے مسائل کو اپنے منشور میں شامل کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ اس سے نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ میں مدد ملتی ہے بلکہ معاشرے میں ہم آہنگی اور رواداری کو بھی فروغ ملتا ہے۔ مخلوط انتخابی نظام اقلیتوں کو قومی یکجہتی کے عمل میں بھی شریک کرتا ہے۔ اگر انتخابات مکمل طور پر جداگانہ بنیادوں پر ہوں تو معاشرے میں تقسیم کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔ لیکن جب تمام شہری ایک ہی انتخابی عمل میں شریک ہوتے ہیں تو اس سے اتحاد اور باہمی احترام کا جذبہ مضبوط ہوتا ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہے۔
مزید برآں، مخلوط انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے نمائندے پورے حلقے کی نمائندگی کرتے ہیں نہ کہ صرف کسی ایک مذہبی یا سماجی گروہ کی۔ اس سے سیاسی قیادت میں وسعتِ نظر پیدا ہوتی ہے اور نمائندے تمام شہریوں کے مسائل کو یکساں اہمیت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں جمہوری نظام زیادہ متوازن اور جامع شکل اختیار کرتا ہے۔ اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا نظام بھی اسی مخلوط انتخابی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کے ذریعے اقلیتوں کو پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں باقاعدہ نمائندگی حاصل ہوتی ہے۔ یہ نمائندگی نہ صرف ان کے مسائل کو ایوانوں تک پہنچاتی ہے بلکہ قانون سازی کے عمل میں بھی ان کی آواز کو شامل کرتی ہے۔
محترم قاریئن! پاکستان ایک کثیر الثقافتی اور کثیر المذاہب معاشرہ ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد ہیں۔ ایسے معاشرے میں جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہر طبقہ خود کو ریاستی اور سیاسی عمل کا حصہ محسوس کرے۔ پاکستان میں رائج مخلوط انتخابی نظام اسی مقصد کے حصول میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، خصوصاً اقلیتوں کے تناظر میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
میرا ہر فورم پہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ اقلیتی ممبران کی اسمبلیوں میں تعداد بڑھائی جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اقلیتوں کے نمائندگان اقلیتوں کے مسائل کو صوبائی و قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کر سکتے تاکہ ان پر بحث ہوسکے اور قانون سازی کے عمل میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ماضی میں چند مواقع ایسے بھی آئے جب اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے عمومی نشستوں پر انتخابی میدان میں حصہ لیا۔ مثال کے طور پر بعض مسیحی اور ہندو امیدواروں نے لاہور اور سندھ کے حلقوں سے آزاد حیثیت یا چھوٹی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لیا اور انہیں ہزاروں ووٹ بھی ملے، اگرچہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ لیکن اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر انہیں مضبوط سیاسی پلیٹ فارم میسر ہو تو نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔
اگر بڑی سیاسی جماعتیں سنجیدگی کے ساتھ اقلیتی برادری کے اہل اور باصلاحیت افراد کو عام نشستوں پر انتخاب لڑنے کے لیے ٹکٹ دیں تو اس سے نہ صرف اقلیتوں کی حقیقی سیاسی نمائندگی سامنے آ سکتی ہے بلکہ قومی سیاست میں ان کی شمولیت بھی مضبوط ہو گی۔ اس عمل سے اقلیتی نمائندے صرف مخصوص نشستوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ وہ عوامی مینڈیٹ کے ذریعے منتخب ہو کر قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ سکیں گے۔
اس کے علاوہ جب اقلیتی امیدوار عام حلقوں سے بڑی سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے تو اس سے معاشرے میں ہم آہنگی اور باہمی اعتماد کو بھی فروغ ملے گا۔ ووٹرز اپنے مذہب یا برادری سے ہٹ کر امیدوار کی صلاحیت، کردار اور کارکردگی کو بنیاد بنا کر ووٹ دیں گے، جو جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے ووٹر پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں، تاہم چند ایسے قومی اور صوبائی انتخابی حلقے بھی ہیں جہاں اقلیتی ووٹوں کی تعداد خاصی زیادہ ہے اور وہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پنجاب کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور میں NA-127، NA-129، NA-117 اور صوبائی حلقہ PP-159 ایسے حلقے سمجھے جاتے ہیں جہاں مسیحی برادری کی نمایاں موجودگی ہے۔ اسی طرح فیصل آباد کے NA-102، NA-104 اور گوجرانوالہ کے بعض شہری حلقوں میں بھی اقلیتی ووٹرز کی قابل ذکر تعداد پائی جاتی ہے، جو سخت مقابلے کی صورت میں نتیجہ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی طرح سندھ کے بعض اضلاع مثلاً تھرپارکر، عمرکوٹ، میرپورخاص اور سانگھڑ میں ہندو برادری کی بڑی آبادی آباد ہے۔ ان علاقوں میں NA-213 (تھرپارکر)، NA-214 (عمرکوٹ) اور NA-218 (میرپورخاص) جیسے حلقے خاص طور پر اہم سمجھے جاتے ہیں جہاں اقلیتی ووٹرز انتخابی نتائج پر واضح اثر ڈال سکتے ہیں۔ کراچی کے بعض حلقے جیسے NA-241 اور NA-242 میں بھی مسیحی اور ہندو برادری کے ووٹرز کی قابل ذکر موجودگی ہے، جو شہری سیاست میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اقلیتی برادری کو صرف مخصوص نشستوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں عام نشستوں پر بھی آگے لانے کی پالیسی اختیار کریں تو پاکستان میں حقیقی معنوں میں شمولیتی جمہوریت کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس سے اقلیتوں کو بھی قومی سیاست میں ایک باعزت اور مؤثر مقام حاصل ہوگا اور وہ ملک کی ترقی اور استحکام میں مزید فعال کردار ادا کر سکیں گے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں مخلوط انتخابی نظام جمہوریت کے فروغ اور قومی یکجہتی کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ خاص طور پر اقلیتوں کے حوالے سے یہ نظام انہیں سیاسی عمل میں شامل رکھنے، ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ پاکستان میں جمہوریت اور مساوات کے اصول مزید مضبوط ہو سکیں۔ پاکستان ہمیشہ زندہ آباد
*******


