شعور اور ترقی : امجد پرویز ساحل

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں یہاں لکھاریوں کے لیے سب سے مشکل کام لکھنا ہے اور بالخصوص تنقیدی اور تعریفی لکھنا تو بہت مشکل ہو چکا ہے۔ اگر حکومت کی کسی بات کی تعریف کردی جائے تو عمران خان کے حامی ناراض ہو جاتے اور اگر عمرانی حکومت کے بارے میں کچھ بیان کر دیا جائے تو یوتھیے کا الزام لگ جاتاہے۔ اہلِ قلم تو بیچارے بیچ میں کہیں پھنس کے رہ گئے ہیں۔

پچھلے دِنوں لاہور میں داتا دربارکے قریب ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک جواں سالہ عورت اور اس کی بچی ایک کھلے گٹر میں گر گئی۔ اِس طرح کا واقعہ کراچی میں بھی پیش آچکا ہے۔جہاں ایک بچہ گڑ میں گر کر ہلاک ہو گیا۔صوبہ پنجاب اور سندھ سمیت پاکستان میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس طرح کے واقعات دہائیوں سے ہو رہے تھے۔ لیکن نہ کسی کی اِس پر نظر جاتی تھی نہ کوئی اِس پر ایکشن لینے کے لے تیار ہوتا۔ مطلب اگر کوئی امیر کا بچہ یا امیر گر جاتا تو پورے شہر کے مشینری کو جیسے وختہ پڑ جاتا ہے۔

یہاں پر یہ بات بھی کسی اچنبے سے کم نہیں کہ چیف منسٹر پنجاب مریم نواز نے بالکل ایسے واقعہ پر اس قدر سخت ایکشن لیا کہ میں نے اپنی ہوش میں کسی سیاست دان، کسی سرکاری عہدے دار کو اپنے شہریوں کی لیے اس قدر جذباتی ایکشن لیتے ہوئے نہ دیکھا نہ سنا ہے۔ داتا صاحب کے اس واقعہ پر لائیو اجلاس میں محترمہ نے سب متعلقہ افسران کو لائن حاضر کیا اور موقعہ پر کچھ لوگوں کو ان کی ذمہ داری سے فارغ کیا۔ یہ واقعی پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی سیاست دان نے بیورو کریسی کے ساتھ اتنا سخت اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے ٹکراؤ کیا ہے۔ پاکستان میں بیورکریسی اس قدر طاقتور ہے کہ آج تک ملک میں سیاسی جزا یا سزا کا فیصلہ بھی ان کے ہاتھ ہوتا ہے۔ حکومت کوئی بھی ہو بیورکریسی وہی کی وہی رہی ہے۔ کئی حکومتیں بدلیں، کئی مارشل لاء لگے لیکن بیورکریسی کو کچھ فرق نہیں پڑا۔
اگر کہیں بڑے سے بڑا کام بھی ہوا تو اُس کی ٹرانسفر ہوگئی اور وہ بھی بند کمرے میں۔ اس طرح کھلے عام کسی اعلیٰ افسر کی سر زنش کوئی عام بات نہیں۔ بحرحال اس بات پر مریم بی بی کو سرہاناچاہیے۔ کیونکہ یہاں تو آگ میں لوگ جھلس کر مر جائیں۔ سیلاب یا زلزلے آجائیں، دہشت گردی سے ہزاروں لوگ شہید ہو جائیں، روزانہ کی بنیاد پر ایکسیڈنٹ سے خاندانوں کے خاندان ہلاک ہو جائیں۔ بس مٹی پاؤ پالیسی کے تحت مجرمان و ملزمان فائلوں اور کمیٹیوں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ نہ کوئی انکوئری نہ کوئی سزا۔ ٹھیک ایک ہفتہ تک نیا ایشو، نیا مسئلہ اس کی جگہ لے لیتا اور بات ختم۔۔۔ عوام جیسے جانور یا کیڑے مکوڑے مرے ہوں۔

پنجاب حکومت کے اس احسن اقدام پر اگر یہ کوئی ڈراما نہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی کو عوام کی فکر ہے۔ حالانکہ یہ سب کچھ الیکشن کی تیاری ہے جس میں روٹھا ہوا ووٹر واپس لانے کی سٹریٹجی بھی ہو سکتی ہے۔ نئی نسل جو اب بیس سے تیس سال کی ہو چکی اس کو واپس لانا ہے گو کہ یہ اتنا آسان نہیں۔آج بھی عمران خان کا جادو نوجوان نسل کے سر چڑھ کر بولتا ہے۔ بھلے اُس دور کی حکومت نے ایک آنے کا کام نہیں کیا۔ کے پی کے میں ایک طالبہ نے وزیر اعلیٰ سے ان کی حکومت تیرا سالہ کارکردگی پر سوال کرنے پر جو جواب دیا ہم نے آپ ”شعور“دیا ہے بلاشبہ شعور ہی قوموں کی ترقی کا سبب بنتا ہے لیکن عقل مند اگر بیکار بیٹھا رہے تو پیٹ شعور نہیں روٹی مانگتا ہے۔۔۔! سماج تبدیلی مانگتا ہے۔۔۔ ویلفیر مانگتا ہے۔۔۔ بھلے انفراسٹرکچر شعور نہیں ہوتا لیکن نظام کی بہتری میں اتنی سکت ہوتی ہے کہ شعور کے وسائل پیدا کرے۔ لوگ کسی صاف ستھری اور اچھی جگہ پر جاکر اچھا برتاؤ کیوں کرنے لگ جاتے ہیں کیوں اُن کے گرد اچھا دکھائی دیتا ہے۔ پنجاب گورنمنٹ بھی یہی کچھ کر رہی۔ صرف چور چور کی رٹ ترقی اور شعور نہیں بلکہ اپنے ارد گرد نظر آنے والے مسائل اور ان کا حل شعور کہلاتا ہے۔ اب باری کام کرنے کی دوسرے صوبوں کو شعور کے ساتھ اپنے شہریوں کی زندگی ہیں تبدیلی بھی لانی پڑے گی، کام کرنا پڑے گا۔ پشاور اور کراچی کے صفائی ستھرائی کے ساتھ سیفٹی اور سیکیورٹی کی حالات تسلی بخش نہیں۔

سیاست کے ساتھ کام بھی ضروری ہے۔ پچھلی سات دہائیوں میں ہمارے بعدآزاد ہونے والے ممالک کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں۔ ہم آج بھی مولوی کے بتائے ہوئے حرام حلال سے ہی نہیں نکل پائے۔
اب یہ ڈراما بس ہو جانا چاہیے۔
اور کام پر توجہ کرنی چاہیے۔
اپنی ذمہ داریوں کو بھی حلال کر نا چاہیے۔
عوام نے آپ پر بھروسا کر کے اپنا ووٹ امانت کے طور پر آپ کو دیا اِس کو حلال کریں اور کام کریں۔ شعور بذریعہ کام دیں۔ کہانیاں سنانی بند کریں۔ لوگ امن و خوشحال چاہتے ہیں۔ پاکستان پائندہ باد۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading