یوم دفاع پاکستان اور مسیحیوں کا کردار : پروفیسر عامر زریں

”وطن کی حفاظت میں عقیدہ نہیں، وفاداری بولتی ہے۔“ ہر سال 6 ستمبر کو پاکستان میں یومِ دفاع منایا جاتا ہے۔ یہ دن 1965 ء کی جنگ میں پاکستانی افواج اور عوام کی مزاحمت، قربانی اور قومی یکجہتی کی یاد دلاتا ہے۔ مگر دفاعِ وطن کی تاریخ جب لکھی جائے تو اس میں صرف مسلمان سپاہیوں اور افسروں کے نام نہیں ہونے چاہئیں۔ پاکستان کی مسیحی برادری نے بھی اس ملک کے دفاع میں اپنے خون، صلاحیت اور پیشہ ورانہ دیانت سے ایک ایسا باب رقم کیا ہے جسے قومی تاریخ کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔

یہ بات محض جذباتی دعویٰ نہیں۔ پاکستان ائر فورس کی تاریخ میں ایسے متعدد مسیحی افسر گزرے ہیں جنہوں نے 1965 ء اور 1971 ء کی جنگوں میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ ائر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال، ائر کموڈور نذیر لطیف، گروپ کیپٹن سیسل چوہدری، اسکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی، ونگ کمانڈر مرون لیسلی مڈل کوٹ اور ونگ کمانڈر ولیم ڈی ہارنی ان روشن ناموں میں شامل ہیں۔ ان میں سے کئی کو جنگی خدمات پر اعلیٰ فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔

یومِ دفاع کے حوالے سے اگر کسی ایک مسیحی پاکستانی فوجی کا نام نئی نسل تک زیادہ نمایاں انداز میں پہنچنا چاہیے تو وہ گروپ کیپٹن سیسل چوہدری ہیں۔ 1965 ء کی جنگ میں وہ پاکستانی فضائیہ کے ایک نوجوان فائٹر پائلٹ تھے۔ 6 ستمبر کو ایک خطرناک فضائی کارروائی کے دوران ان کے فارمیشن لیڈر اسکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی کے طیارے کی گنیں جام ہو گئیں اور قیادت کی ذمہ داری سیسل چوہدری نے سنبھالی۔ شدید مشکلات کے باوجود انہوں نے غیر معمولی جنگی مہارت کا مظاہرہ کیا اور دشمن کے دو طیارے مار گرائے۔ 15 ستمبر کو بھی انہوں نے ایک خطرناک مشن میں حصہ لیا اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا ثبوت دیا۔ ان خدمات کے اعتراف میں انہیں ستارۂ جرات سے نوازا گیا۔ لیکن سیسل چوہدری کی شخصیت صرف ایک جنگی پائلٹ تک محدود نہیں تھی۔ بعد ازاں انہوں نے تعلیم اور خصوصی بچوں کی بہبود کے میدان میں بھی کام کیا۔ یوں ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ وطن کی خدمت صرف میدانِ جنگ میں بندوق اٹھانے کا نام نہیں ؛ تعلیم، تربیت اور کمزور طبقات کی خدمت بھی قومی دفاع ہی کی ایک شکل ہے۔

اسکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی ایک اور قابلِ فخر پاکستانی مسیحی تھے۔ وہ پاکستان ائر فورس کی بمبار اسکواڈرن سے وابستہ تھے اور 1965 ء کی جنگ میں 57 طیاروں کے مشنوں میں بطور نیویگیٹر حصہ لیتے رہے۔ ان کی جنگی خدمات پر انہیں ستارۂ جرات سے نوازا گیا۔ پیٹر کرسٹی کا تعلق کراچی سے تھا اور انہوں نے سینٹ پیٹرک ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی۔ ان کی داستان اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ایک کراچی کا مسیحی نوجوان پاکستان کی فضاؤں کا محافظ بنا اور پھر وطن کی خاطر اپنی جان تک پیش کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ 1971 ء کی جنگ میں وہ ایک جنگی مشن سے واپس نہ آ سکے اور انہیں لاپتا قرار دیا گیا۔ ایک انسان کے لیے اس سے بڑی وفاداری کیا ہو سکتی ہے کہ وہ جانتا ہو کہ واپسی یقینی نہیں، پھر بھی پرواز کرے؟

ائر وائس مارشل ایرک گورڈن ہال کا کردار بھی غیر معمولی تھا۔ 1965 ء میں انہوں نے ۔ 130 طیاروں کو بمباری کے لیے استعمال کرنے کے تصور کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی قیادت میں ایسے مشن انجام دیے گئے جنہوں نے جنگی حکمتِ عملی میں ایک نیا پہلو اجاگر کیا۔ انہیں ہلالِ جرات، ہلالِ امتیاز اور ستارۂ جرات جیسے اعزازات سے نوازا گیا۔

اسی طرح ائر کموڈور نذیر لطیف پاکستان ائر فورس کے ممتاز مسیحی پائلٹوں میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے 1965 ء میں انتہائی مشکل جنگی مشن انجام دیے اور ان کی بہادری کے اعتراف میں انہیں ستارۂ جرات سے نوازا گیا۔

یہ نام ہمیں ایک بنیادی حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں : پاکستان کے دفاع کی تاریخ کسی ایک مذہبی طبقے کی تاریخ نہیں۔ یہ ان تمام پاکستانیوں کی تاریخ ہے جنہوں نے اس ملک کو اپنا وطن سمجھا۔

ونگ کمانڈر مرون لیسلی مڈل کوٹ بھی ان مسیحی پاکستانیوں میں تھے جنہوں نے فضائی جنگ میں غیر معمولی جرات دکھائی۔ 1965 ء کی جنگ میں ان کی خدمات پر انہیں ستارۂ جرات ملا۔ 1971 ء میں وہ دشمن کے علاقے میں لڑتے ہوئے شہید ہوئے اور بعد ازاں انہیں ستارۂ بسالت سے نوازا گیا۔ یہاں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنا چاہیے : جب ایک سپاہی جنگی طیارے میں بیٹھ کر سرحد کی طرف جاتا ہے تو اس کے سامنے دشمن ہوتا ہے، پیچھے اس کا وطن۔ اس لمحے اس کے مذہب، زبان، برادری یا خاندانی پس منظر کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ باقی صرف فرض رہ جاتا ہے۔

مسیحیوں کی خدمات کو صرف 1965 ء کی جنگ تک محدود کرنا بھی درست نہیں ہو گا۔ پاکستان کی مسیحی برادری کے افراد نے 1948 ء کی کشمیر جنگ، 1965 ء اور 1971 ء کی جنگوں، کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف ادوار میں مسلح افواج میں خدمات انجام دی ہیں۔ ایک تحقیقی مضمون میں ہلال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صرف پاکستان آرمی کے ریکارڈ میں 52 مسیحی اہلکاروں کی قربانیوں کا ذکر موجود ہے، جبکہ پاکستان ائر فورس کے ستارۂ جرات پانے والوں میں بھی مسیحی افسر شامل رہے ہیں۔

یہ اعداد و شمار ہمیں محض فخر نہیں دیتے ؛ وہ ہم سے ایک سوال بھی کرتے ہیں۔ ہم اپنی قومی تاریخ کس طرح لکھ رہے ہیں؟ اگر کسی بچے کو پاکستان کے دفاع کی داستان سناتے ہوئے صرف یہ بتایا جائے کہ فلاں مسلمان پائلٹ نے کیا کارنامہ انجام دیا، لیکن یہ نہ بتایا جائے کہ اسی فضائیہ میں سیسل چوہدری، پیٹر کرسٹی، ایرک ہال، نذیر لطیف اور مڈل کوٹ جیسے مسیحی پاکستانی بھی موجود تھے، تو ہماری تاریخ مکمل نہیں رہتی۔

ایہاں اصل مسئلہ محض مسیحیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا نہیں۔ اصل مسئلہ پاکستانی شناخت کی وسعت کا ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو بار بار یہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ پاکستان سے محبت کرتی ہیں۔ ان کی نسلوں کی خدمات، قربانیاں اور قومی اداروں میں کردار اس بات کا ثبوت ہیں۔ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم جب بلند ہوتا ہے تو اس کے سفید حصے کو محض پرچم کا ایک رنگ سمجھنا کافی نہیں۔ اس سفید حصے کے پیچھے بھی تاریخ ہے، خون ہے، خدمت ہے اور قربانی ہے۔

یومِ دفاع ہمیں صرف یہ یاد نہیں دلاتا کہ سرحدوں پر کون لڑا تھا؛ یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اس ملک کو اپنا سمجھ کر کون کھڑا ہوا تھا۔ مسیحی پاکستانیوں نے بندوق بھی اٹھائی، طیارے بھی اڑائے، جنگی مشن بھی کیے اور جانیں بھی دیں۔ انہوں نے پاکستان سے وفاداری کا اعلان الفاظ میں نہیں بلکہ اپنے عمل سے کیا۔ لہٰذا 6 ستمبر کو جب ہم شہداء کو سلام پیش کریں تو ہماری دعا اور خراجِ عقیدت میں سیسل چوہدری، پیٹر کرسٹی، ایرک ہال، نذیر لطیف، مڈل کوٹ اور ان جیسے بے شمار مسیحی پاکستانی محافظوں کے نام بھی شامل ہونے چاہئیں۔ کیونکہ وطن کی حفاظت میں گولی جب سینہ چیرتی ہے تو وہ مذہب نہیں پوچھتی۔ اور جب خون مٹی میں جذب ہوتا ہے تو وہ مسلمان یا مسیحی نہیں رہتا۔ وہ صرف پاکستان کا خون ہوتا ہے۔ شاید یہی یومِ تحفظ پاکستان کا سب سے بڑا سبق ہے : ”پاکستان کی حفاظت ان لوگوں نے مل کر کی ہے جن کے عقائد مختلف ہوسکتے ہیں، مگر وطن ایک ہے۔“

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading