لکھاریوں کا عالمی دن ہر سال تین مارچ کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے تاکہ ان ادیبوں، شاعروں اور مصنفین کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے جو اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ دن ادبی تخلیق کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور آزادیٔ اظہار کی قدر کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اس دن کا باقاعدہ آغاز 3 مارچ 1986ء کو ہوا جب پین انٹر نیشنل نے اپنے 48ویں عالمی اجلاس میں اس دن کو منانے کا اعلان کیا۔ اس تنظیم کا قیام 1921ء میں ہوا تھا اور اس کا مقصد دنیا بھر کے ادیبوں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔لکھاری معاشرے کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ وہ اپنے قلم کے ذریعے نہ صرف معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ اصلاح کی راہیں بھی دکھاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے بڑے انقلابات کے پیچھے اہلِ قلم کا ہاتھ رہا ہے۔ ان کے الفاظ لوگوں کے دلوں میں جوش اور شعور پیدا کرتے ہیں۔ ایک سچا لکھاری سچائی کا علمبردار ہوتا ہے اور وہ ہر قسم کے دباؤ اور خوف کے باوجود حق بات کہنے کی ہمت رکھتا ہے۔
ادب کسی بھی قوم کی شناخت ہوتا ہے۔ جس قوم کا ادب مضبوط ہو، اس کی تہذیب اور ثقافت بھی مستحکم ہوتی ہے۔ لکھاری اپنی تحریروں کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا سامان فراہم کرتے ہیں۔ ان کی کتابیں وقت گزرنے کے باوجود زندہ رہتی ہیں اور انسانیت کی خدمت کرتی رہتی ہیں۔لکھاریوں کا عالمی دن منانے کا بنیادی مقصد آزادیٔ اظہار کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں آج بھی لکھاریوں کو اپنے خیالات کے اظہار پر پابندیوں اور خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس دن کے ذریعے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ قلم کی آزادی انسانی حقوق کا لازمی حصہ ہے۔اس کے علاوہ اس دن کا مقصد نوجوان نسل کو مطالعے اور تحریر کی طرف راغب کرنا بھی ہے۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے مطالعے کی عادت کو کسی حد تک متاثر کیا ہے، لیکن اس کے باوجود کتاب اور قلم کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تحریر ایک طاقتور ذریعہ ہے جو سوچوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں بے شمار عظیم لکھاری پیدا ہوئے جنہوں نے اردو ادب کو عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں خودی اور بیداری کا شعور پیدا کیا۔ ان کی تصانیف آج بھی نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
اسی طرح سعادت حسن منٹو نے اپنی کہانیوں میں سماجی حقیقتوں کو بے باکی سے پیش کیا۔ ان کی تحریریں معاشرے کی تلخ سچائیوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ قرۃ العین حیدر نے ناول نگاری میں نئی جہتیں متعارف کروائیں اور اردو ادب کو بین الاقوامی مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔دنیا بھر میں بھی بے شمار ایسے ادیب گزرے ہیں جنہوں نے ادب کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ولیم شیکسپیئر کی تخلیقات آج بھی دنیا بھر میں پڑھی اور پیش کی جاتی ہیں۔ ان کے ڈرامے انسانی جذبات اور نفسیات کی عکاسی کرتے ہیں۔اسی طرح لیو ٹالسٹائی نے اپنے ناولوں کے ذریعے روسی معاشرے کی عکاسی کی اور انسانیت کے موضوعات کو اجاگر کیا۔ ان کی تصانیف ادب کا قیمتی سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔
آج کے دور میں لکھاریوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ بعض ممالک میں سنسرشپ کے قوانین سخت ہیں، جب کہ کچھ جگہوں پر اہلِ قلم کو دھمکیوں اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں لکھاریوں کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے قلم کاروں کی حمایت کرنی چاہیے اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
ڈیجیٹل میڈیا نے اگرچہ لکھنے کے نئے مواقع فراہم کیے ہیں، مگر اس کے ساتھ غلط معلومات اور سطحی تحریروں کا سیلاب بھی آیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ لکھاری ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور سچائی اور تحقیق کو اپنی تحریروں کی بنیاد بنائیں۔لکھاریوں کا عالمی دن نوجوانوں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ مطالعے کی عادت اپنائیں اور اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیں۔ تحریر نہ صرف اظہار کا ذریعہ ہے بلکہ یہ شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جب ایک نوجوان لکھنا شروع کرتا ہے تو اس کی سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور وہ مسائل کو بہتر انداز میں سمجھنے لگتا ہے۔
اس دن اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں ادبی تقریبات، سیمینارز اور مشاعرے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد ادب سے محبت کو فروغ دینا اور نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہوتا ہے۔لکھاریوں کا عالمی دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہوتی ہے۔ ایک لکھاری اپنے الفاظ کے ذریعے دلوں کو جیت سکتا ہے، معاشرے کو بدل سکتا ہے اور تاریخ کا رخ موڑ سکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ادیبوں کی قدر کریں، ان کی تحریروں کو پڑھیں اور آزادیٔ اظہار کے حق کی حمایت کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب تک دنیا میں لکھنے والے موجود ہیں، علم و شعور کی روشنی باقی رہے گی۔ لکھاری معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتے ہیں اور ان کا احترام دراصل علم اور سچائی کا احترام ہے۔
*******


