وینزویلا پر امریکی حملہ اور نئے عالمی چیلنجز : یوسف بنجمن
جنوری 2026 کا آغاز وینزویلا میں ایک بڑی حکمتِ عملی کی تبدیلی سے ہوا ہے ۔ امریکہ کے ‘آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو’ اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری نے عالمی سیاست میں ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔ اس تجزیاتی مضمون میں یوسف بنجمن وینزویلا اور امریکہ کی طویل کشیدگی، تیل کی عالمی منڈی پر اثرات اور پاکستان پر اس کے ممکنہ اثرات کا گہرا جائزہ لیا گیا ہے۔
جنوری 2026 کا آغاز تاریخ کے ایک ایسے باب سے ہوا ہے جس نے عالمی سیاست کے ستون ہلا کر رکھ دیے ہیں۔ امریکہ کی جانب سے وینزویلا پر براہِ راست فوجی کاروائی کی جسے پینٹاگون نے آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو کا نام دیا ہے۔ دارالحکومت کراکس میں ہونے والے خوفناک دھماکوں اور صدر نکولس مادورو کی اُن کی ایلیہ سمیت گرفتاری نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن اب کسی مخالف قوت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہ محض ایک حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک عالمی سطح کا زلزلہ ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
وینزویلا جنوبی امریکہ کے شمالی ساحل پر واقع ایک اہم ملک ہے۔ اس کے شمال میں بحیرہ کیریبین اور بحرِ اوقیانوس واقع ہیں، جو اسے سمندری تجارت کے لیے اہم بناتے ہیں۔ اس کے مشرق میں گیانا، جنوب میں برازیل اور مغرب میں کولمبیا واقع ہے۔
جغرافیائی طور پر وینزویلا کی یہ پوزیشن اسے براعظم امریکہ کے لیے ایک “گیٹ وے” بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہونے والی کوئی بھی فوجی یا سیاسی تبدیلی نہ صرف ہمسایہ ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و امان کو متاثر کرتی ہے۔
امریکہ اور وینزویلا کے درمیان کشیدگی کی بنیاد 1999 میں سابق صدر ہیوگو شاویز کے اقتدار میں آنے سے پڑی تھی۔ شاویز نے “بولیوارین انقلاب” کے ذریعے وینزویلا کے تیل کے ذخائر کو قومیا لیا اور امریکی اثر ورسوخ کو براہ راست چیلنج کیا۔ 2013 میں شاویز کی وفات کے بعد نکولس مادورو نے اقتدار سنبھالا تو یہ دشمنی مزید گہری ہو گئی۔ امریکہ نے مادورو حکومت پر “نارکو اسٹیٹ” (منشیات کی ریاست) اور آمریت کے الزامات لگا کر بدترین اقتصادی پابندیاں عائد کیں، جبکہ مادورو نے امریکہ پر متعدد بار بغاوت کی کوششوں کا الزام لگایا۔
نکولس مادورو کی شخصیت تضادات کا ایک انوکھا مجموعہ رہی ہے۔ ایک سابق بس ڈرائیور اور ٹریڈ یونین لیڈر سے ملک کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچنے والے مادورو نے ہیوگو شاویز کے ‘سوشلسٹ انقلاب’ کے وارث کے طور پر اقتدار سنبھالا، مگر ان کا دورِ حکمرانی وینزویلا کی تاریخ کا مشکل ترین عہد ثابت ہوا۔ بحیثیت صدر، ان کا اندازِ بیاں ہمیشہ جارحانہ، امریکہ مخالف اور عوامی رہا، جس کی وجہ سے وہ نچلے طبقات میں ایک ‘مزاحمتی علامت’ بنے رہے، لیکن سیاسی مخالفین کے لیے وہ ایک سخت گیر آمر ثابت ہوئے جنہوں نے طاقت کے بل بوتے پر اپوزیشن کو دیوار سے لگائے رکھا۔ ان کے دور میں جہاں وینزویلا کو بدترین معاشی افراطِ زر اور انسانی ہجرت کا سامنا کرنا پڑا، وہی مادورو نے روس اور چین کے ساتھ اسٹریٹجک اتحاد بنا کر خود کو عالمی سیاست کے شطرنج پر ایک ناگزیر مہرہ ثابت کیا۔ ان کا اقتدار سویلین لبادے میں ملبوس فوجی طاقت پر انحصار کی ایک ایسی مثال تھا، جس نے ملک کو معاشی طور پر کمزور مگر سیاسی طور پر انتہائی تقسیم در تقسیم کر دیا۔
واشنگٹن کے لیے یہ حملہ محض ایک سیاسی فتح نہیں بلکہ اس کے مقاصد نہایت وسیع ہیں۔ وینزویلا دنیا کے سب سے بڑے خام تیل کے ذخائر کا ملک ہے۔ اس حملے کے بعد امریکی کمپنیاں وینزویلا کی تیل کی صنعت میں داخل ہو چکی ہیں، جو عالمی توانائی کی منڈی پر امریکی گرفت مضبوط کریں گی۔ مادورو چین اور روس کے سب سے بڑے علاقائی اتحادی تھے۔ اس حملے سے امریکہ نے جنوبی امریکہ سے اپنے حریفوں کے قدم اکھاڑ دیے ہیں۔ یہ حملہ دنیا کے لیے پیغام ہے کہ امریکہ اب بھی اپنی مرضی کی حکومتیں بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، جسے ناقدین “بین الاقوامی قانون کی موت” قرار دے رہے ہیں۔
اس حملے کے نتائج صرف وینزویلا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے بشمول پاکستان۔ سی این این کی رپورٹس کے مطابق حملے کے ساتھ ہی تیل کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ ہو چکا ہے۔ اگر سپلائی طویل عرصے تک رُکی رہی تو عالمی معیشت بدترین مندی کا شکار ہو سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے، جو پہلے ہی توانائی کے بحران کا شکار ہیں، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ مہنگائی کا نیا طوفان لا سکتا ہے۔
روس نے اس حملے کو “اعلانِ جنگ” قرار دے کر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ عالمی ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر ماسکو نے یوکرین یا بالٹک ممالک میں جوابی کارروائی کی تو دنیا ایک بڑے عالمی تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔ دوسری جانب، علاقائی سطح پر برازیل اور کولمبیا جیسے ممالک شدید تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ لاکھوں پناہ گزینوں کا ہمسایہ ممالک کی طرف رخ کرنا پورے جنوبی امریکہ کو سماجی اور معاشی عدم استحکام کا شکار کر دے گا۔
سقوطِ کراکس (وینزویلا کا دارالحکومت) کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن کی حمایت یافتہ نئی حکومت وینزویلا میں استحکام لا پائے گی یا یہ ملک مادورو کے وفادار گوریلا دستوں اور امریکی افواج کے درمیان ایک نئی طویل جنگ کا میدان بن جائے گا؟
سال 2026 کا سورج دنیا کو ایک ایسے پرخطر عالمی نظام کی طرف لے جا رہا ہے جہاں ‘طاقت ہی حق ہے’ کا اصول غالب نظر آتا ہے۔ انسانی حقوق اور جمہوریت کے دعووں کے درمیان، وینزویلا کی سرزمین پر لگی یہ آگ شاید صرف ایک ملک تک محدود نہ رہے، بلکہ اس کی تپش آنے والے کئی سالوں تک عالمی معیشت اور سیاست کو جھلساتی رہے گی۔
*******


