یوں محسوس ہوتا ہے کہ ساری دنیا اور پوری نسلِ انسانی رپیٹ ٹیلی کاسٹ پر چل رہی ہے۔ سب کچھ، سب کے ساتھ، بار بار ویسا ہی ہوتا ہے۔بچوں کی تربیت میں والدین سے غلطیاں ہو جاتی ہیں۔ جوانی سب کی دیوانی اور مستانی ہوتی ہے۔ جوانی کی خواہشیں ایک جیسی، آزمائشیں ایک جیسی اور لغزشیں بھی تقریباً ایک جیسی ہوتی ہیں۔ جیون ساتھی کے انتخاب میں وہی پیچیدگیاں، وہی آسودگیاں، وہی خوش فہمیاں اور وہی غلط فہمیاں۔شادی شدہ جوڑوں کے مسائل بھی ایک جیسے ہوتے ہیں؛
وہی ’’تیرے رشتہ دار، میرے رشتہ دار‘‘ والے جھنجھٹ، وہی ساس بہو کے تنازعات، وہی تیسرے فریق کی مداخلت سے جنم لینے والے شکوک و شبہات۔ انسان دوسروں کی غلطیاں دیکھ کر بھی ان کے تجربات سے سیکھنے کے بجائے یہ سوچتا ہے کہ ـــ’’یں اسی راستے سے تو گزروں گا، مگر اس گڑھے، اس لینڈ سلائیڈ، اس حادثے یا اس بلا سے بچ جاؤں گا۔‘‘
زندگی کے اس سفر میں خوشیاں اور غم، سکھ اور دکھ، نشیب و فراز، اتار چڑھاؤ—سب کچھ بھی رپیٹ ٹیلی کاسٹ کی مانند آتا ہے۔ سبھی کو ان ہی مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔

زندگی گویا ایک دائرہ ہے، ایک سائیکل ہے—سب کچھ دہرایا جاتا ہے ۔بالکل بچوں کے بی بی ٹی وی کی طرح جو گھنٹے ڈیڑھ گھنٹے بعد پھر وہی پروگرام دکھانے لگتا ہے۔اکثر خیال آتا ہے کہ لوگ یہ کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ فلاں عمل کا نتیجہ کیا ہوگا؟یا فلاں فیصلہ انہیں کس مقام تک لے جائے گا؟
یا ان کا آج کا انتخاب کل کیسی صورتِ حال پیدا کرے گا؟دراصل وہ سمجھ ہی نہیں سکتے۔بچہ ہو یا جوان، بوڑھا ہو یا عورت و مرد—ہر ایک پر ایک جیسی آزمائشیں آنی ہی آنی ہیں۔ انسان کی عمر کے ہر حصے کا ایک مخصوص پیٹرن ہے، اور ہر انسان اپنی فطرت، جبلت اور سرشت کے مطابق تقریباً وہی ردِعمل دکھاتا ہے جو باقی سب دکھاتے ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ وقت گزرتا جا رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وقت نہیں گزرتا؛ وہ تو اپنے محور میں ٹھہرا ہوا ہے۔ وہی شب و روز، وہی ماہ و سال، وہی موسم—گویا وقت خود بھی رپیٹ ٹیلی کاسٹ پر لگا ہوا ہے۔
ہر انسان اس وقت میں سے ہو کر گزرتا ہے۔وقت نہیں گزرتا، انسان اس میں سے گزر جاتا ہے۔پیدائش، بچپن، جوانی، بڑھاپا اور موت—یہ وہ مراحل ہیں جو ہر انسان پر صرف ایک بار آتے ہیں۔نہ بچپن لوٹ کر آتا ہے، نہ جوانی، نہ بڑھاپا، اور نہ ہی یہ زندگی۔البتہ ان مراحل کا تجربہ ہر وہ شخص کر چکا ہے جو اس دنیا سے گزر گیا، اور آج ساڑھے آٹھ ارب سے زائد لوگ جو زمین پر زندہ ہیں، ان ہی مراحل میں سے کسی ایک مرحلے پر ہیں۔جوان شخص بچے کو دیکھ کر سمجھتا ہے کہ یہ بھی میری طرح بچپن سے گزر رہا ہے— کاش اسے معلوم ہو کہ فکروں سے آزاد یہی وہ سنہرا دور ہے جو لوٹ کر نہیں آنا۔بوڑھا شخص ایک بچے اور ایک جوان کو دیکھ کر دل میں کہتا ہے:
میں جانتا ہوں کہ بچہ ہونا اور جوان ہونا کیا ہوتا ہے، اور ان میں کیا آسائشیں، خواہشیں اور آزمائشیں شامل ہوتی ہیں۔اور وہ شخص جو بسترِ مرگ پر ہوتا ہے، جب پیچھے مڑ کر دنیا کے اسٹیج پر زندہ کرداروں کو اپنا اپنا کردار ادا کرتے دیکھتا ہے تو کہہ اُٹھتا ہے؛
’’یہ ڈائیلاگ ایسے نہیں، ایسے ہونا چاہیے تھا۔‘‘
’’یہ فیصلہ اتنی جلدی نہیں کرنا چاہیے تھا۔‘‘
’’اس بات کا جواب یوں نہیں دینا چاہیے تھا۔‘‘
ماں باپ بھی اپنے بچوں کو دیکھ کر یہی سوچتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ
جو ان مراحل سے گزر چکا ہوتا ہے، اسے لگتا ہے کہ باقی سب لوگ وہی پرانی غلطیاں دہرا رہے ہیں۔اور وہ بھول جاتا ہے کہ ہر انسان ان مراحل سے پہلی بار گزر رہا ہوتا ہے۔افسوس یہ ہے کہ ہم ان کی لغزشوں پر انہیں احمق، بے وقوف اور ناکام قرار دے دیتے ہیں۔کیا ہی اچھا ہو کہ ایک ادھیڑ عمر شخص کم عمر سے یوں کہے؛
’’میرا تجربہ اس لیے زیادہ ہے کہ مجھ سے زیادہ غلطیاں ہوئیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تم وہ غلطیاں نہ دہراؤ۔‘‘ بوڑھے نوجوانوں کی اصلاح اسی شفقت سے کریں اور ماں باپ اپنے بچوں سے ویسا ہی سلوک کریں جیسا وہ اپنے والدین سے چاہتے تھے—یہ یاد رکھتے ہوئے کہ ان کا اپنا بچپن اور جوانی بھی کچھ مختلف نہ تھا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ غلطیوں پر شاباش دی جائے،مگر یہ ضرور ہے کہ سنورنے کے مواقع دیے جائیں۔جو انسان اپنی ایک ہی بار ملنے والی زندگی میں ایک ہی غلطیوں کو دہراتا رہتا ہے،اور ہر بار وہی نقصان اٹھاتا ہے—اس سے بڑا احمق کوئی نہیں۔
ہم سب سے بہترین سبق اپنی غلطیوں اور ذاتی تجربات سے سیکھتے ہیں اور جو ان سے بھی نہ سیکھے، وہ سنہری موقع ضائع کر دیتا ہے۔ہمارا دل اور مزاج ایسا ہونا چاہیے کہ ہم شفقت سے نصیحت کریں اور سنورنے کا موقع ضرور دیں۔غلطیاں دہرائی نہ جائیں،مگر سیکھنے اور سنورنے کے مواقع رپیٹ ٹیلی کاسٹ پر رہنے چاہئیں—جیسے خدا ہمیں ہر نئے دن، ہر نئے سال میں ایک نیا موقع عطا کرتا ہے۔
*******


