علم و ادب کے فروغ کے لیے جتنے بھی ادارے تنظیمیں ، اخباریں اور جرائد و رسائل تعمیر و ترقی میں پیش پیش ہیں۔ ان کی خدمات قوموں کی ترقی اور معاشروں کی اصلاح میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔قیام پاکستان سے لے کر تا حال مسیحی جرائد و رسائل کی ایک طویل فہرست ہے جنہوں نے علم و ادب کے فروغ کے لیے کٹھن زمانے دیکھے ہیں۔ان کا ایک طویل سفر علمی وادبی دنیا کے لیے سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے۔مجھے کسی بھی ادبی شخصیت اور جرائد رسائل پر لکھتے ہوئے اس لیے فخر محسوس ہوتا ہے کہ میں بھی ادب کا ایک چھوٹا سا قاری ہوں۔ مجھے ادبی کاوشیں بہت زیادہ پسند ہیں۔جو لوگ اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔میں اُنہیں زیرِ قلم لانا تخلیقی حق سمجھتا ہوں۔ اس سلسلے کی ایک کڑی ماہ نامہ “نیا تادیب” کی مسلسل اشاعت کے 24 سال مکمل ہونے پر “جشنِ تادیب” ہے۔
ماہ نامہ نیا تادیب لاہور/ ملتان کا “جشن ِتادیب” مورخہ 22 فروری 2026 بروز اتوار شام پانچ بجے کیمپس ہاؤس لاسال فیز ٹو رشید آباد ملتان میں منعقد ہوا۔ پروگرام کا آغاز دُعا اور حمد وثنا سے شروع ہوا۔تمام مہمانوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔پروگرام کی صدارت معروف شاعر جناب ڈاکٹر عادل امین نے کی۔گیسٹ سپیکر ہولی سٹی پینتی کاسٹل چرچ کے چیئرمین جناب ریورنڈ شہزاد پرویز تھے۔مہمانان خصوصی میں ڈائریکٹر تعلقات عامہ ملتان جناب سجاد جہانیہ اور کیڈ کنز کے سی ای او جناب پیٹر شمشاد تھے۔ مہمانانِ اعزاز میں ڈاکٹر شوکت نعیم قادری، امجد پرویز ساحل، پاسٹر منیر الانجم ، کلیمنٹ جاوید اور عابد چاند شامل ہوئے ۔انتظام و انصرام جناب سیمسن جیمز اور پاسٹر سِلاتی ایل وکٹر کے ذمہ تھی۔ پروگرام کی نظامت جناب پاسٹر سِلاتی ایل وکٹر اور پاسٹر عرفان نشاط چوہدری نے کی۔طاہر نوشاد اور زرین منور نے ماہنامہ “نیاتادیب” کی 24 سالہ خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔”تادیب رائٹرز ایوارڈ-2026″ پروفیسرفخر لالہ، زرین منور ، عرفان نشاط چوہدری ، یوحنا جان، ڈیوڈ پرسی، امجد رشید اور سیمسن ثانی کو دیے گئے۔تادیب کا “لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ-2026” ایڈوکیٹ ساحل منیر ، یوسف سلیم قادری اور جاوید یاد کو دیا گیا۔ اور تادیب کا “بیسٹ جرنلسٹ ایوارڈ-2026” معروف صحافی سلیم اقبال کو دیا گیا۔
ادب کسی بھی قوم کی رُوح ہوتا ہے اور ادبی رسائل اس روح کی آبیاری کا اہم ذریعہ بنتے ہیں۔ ماہ نامہ “نیا تادیب” گزشتہ چوبیس برسوں سے اِسی مقصد کے ساتھ ادبی دنیا میں اپنی منفرد پہچان قائم رکھے ہوئے ہے۔ جشنِ تادیب، محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور ادبی سفر کی کامیاب تکمیل کا اعلان ہے، جو مسلسل جدوجہد، معیار اور تخلیقی وابستگی کی روشن مثال پیش کرتا ہے۔
جب “نیا تادیب” کا آغاز ہوا تو اردو صحافت اور ادبی رسائل کو کئی چیلنجز کا سامنا تھا۔ مطالعے کا رجحان کم ہو رہا تھا، تجارتی تقاضے ادبی معیار پر اثر انداز ہو رہے تھے اور نئی نسل ادب سے دُور ہوتی جا رہی تھی۔ ایسے حالات میں “نیا تادیب” نے نہ صرف اپنی اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا بلکہ ادب کو نئی جہت دینے کا بیڑا بھی اُٹھایا۔ اس رسالے نے ابتدا ہی سے معیاری تخلیقات کو ترجیح دی، خواہ وہ افسانہ ہو، نظم، غزل، تنقیدی مضامین یا تحقیقی مقالے۔
چوبیس سال کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ اس دوران معاشی مشکلات، اشاعتی مسائل اور بدلتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر مدیران اور معاونین کی محنت اور لگن نے ہر رکاوٹ کو عبور کیا۔ “نیاتادیب” نے ہمیشہ اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر ادب کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ رسالہ ادبی حلقوں میں اعتماد اور وقار کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
اس جریدے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے نئے اور اُبھرتے ہوئے قلم کاروں کو بھرپور مواقع فراہم کیے۔ کئی ایسے نام جو آج اردو ادب میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، اُنہوں نے اپنی ابتدائی تخلیقات “نیاتادیب” میں شائع کروائیں۔ اس طرح یہ رسالہ نہ صرف ادب کی ترویج کا ذریعہ بنا بلکہ نئی نسل کے لیے تربیتی درسگاہ بھی ثابت ہوا۔ تجربہ کار ادیبوں کے ساتھ ساتھ نوجوان لکھاریوں کی تخلیقات کی اشاعت نے ایک صحت مند ادبی مکالمے کو فروغ دیا۔
“نیاتادیب” نے موضوعات کے انتخاب میں بھی وسعتِ نظر کا مظاہرہ کیا۔ سماجی مسائل، تہذیبی اقدار، قومی یکجہتی، خواتین کے حقوق، نوجوانوں کے مسائل اور عالمی حالات جیسے اہم موضوعات کو سنجیدگی سے زیرِ بحث لایا گیا۔ اس طرح یہ جریدہ محض تخلیقی ادب تک محدود نہیں رہا بلکہ فکری اور نظریاتی مباحث کا پلیٹ فارم بھی بنا۔ اس کی خصوصی اشاعتیں خصوصاً یادگار رہی ہیں، جن میں کسی بڑے ادیب کی شخصیت اور فن پر جامع مضامین شامل کیے گئے جن میں مقدس توما رسول نمبر، ڈاکٹر امام دین شہباز نمبر، ڈاکٹر لیاقت قیصر نمبر، ڈاکٹر یوسف مسیح یاد نمبر، ڈاکٹر حزقی ایل سروش نمبر، پروفیسر وکٹوریہ پیٹرک امرت نمبر قابلِ ذکر ہیں نیز فیبا ریڈیو کی خدمات پر خصوصی شمارہ’فیبا ریڈیو نمبر’ بھی شائع ہوا۔
ٹیکنالوجی کے دَور میں جب پرنٹ میڈیا کو ڈیجیٹل چیلنجز کا سامنا ہے، “نیا تادیب” نے وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی آن لائن موجودگی کو بھی مضبوط کیا۔ اس اقدام سے بیرونِ ملک مقیم قارئین تک بھی رسائی ممکن ہوئی اور رسالے کا حلقۂ اثر وسیع تر ہوا۔ اس طرح روایت اور جدت کے حسین امتزاج نے اِسے مزید مستحکم بنایا۔
جشنِ تادیب کی تقریب میں یقیناً ادبی شخصیات، شاعر، ادیب اور قارئین شریک ہوئے۔ اس موقع پر نہ صرف ماضی کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا بلکہ آئندہ کے لائحہِ عمل پر بھی غور کیا گیا۔ یہ جشن دراصل اس عزم کی تجدید تھی کہ “نیا تادیب” آئندہ بھی اسی لگن اور معیار کے ساتھ ادب کی خدمت کرتا رہے گا۔
اِس موقع پر جریدے کی ادارت، مجلسِ مشاورت، لکھاریوں اور قارئین سب کو مبارک باد پیش کرنا بجا ہے۔ کسی بھی ادبی رسالے کی کامیابی صرف مدیر کی محنت کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک پوری ٹیم کی کاوشیں شامل ہوتی ہیں۔ طباعت، ترتیب، انتخابِ مواد اور ترسیل کے تمام مراحل میں جو افراد شریک ہوتے ہیں، وہ سب اس کامیابی کے حق دار ہیں۔
ادب معاشرے کا آئینہ ہوتا ہے اور “نیا تادیب” نے ہمیشہ اس آئینے کو صاف اور شفاف رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اس نے مثبت اقدار کو فروغ دیا، تنقیدی شعور کو بیدار کیا اور تخلیقی صلاحیتوں کی آبیاری کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس کا نام سنجیدہ اور معیاری ادب کی پہچان بن چکا ہے۔
چوبیس سالہ جشن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ادارے محض عمارتوں یا کاغذی صفحات کا نام نہیں ہوتے بلکہ وہ نظریات، محنت اور تسلسل سے وجود پاتے ہیں۔ “نیا تادیب” کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت خالص ہو اور مقصد واضح، تو مشکلات راستہ نہیں روک سکتیں۔
ماہنامہ “نیاتادیب” جنوری 2026کے اداریے کا اقتباس نقل کررہا ہوں، جو جاوید ڈینی ایل نے رقم کیا ہے جس میں وہ خدائے ثالوث کے حضوری شکر گزری کررہے اور اپنے ہم سفر لکھاریوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں ، ملاحظہ کیجیے؛
ـ’’ہم نہایت شکرگزاری کے ساتھ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماہنامہ ”نیاتادیب“ کی مسلسل اشاعت کے 24 سال خدائے قادر کی وفاداری اور فضل کے بغیر ممکن نہ تھے۔ یہ سفر آسان نہ تھا، مگر خداوند کی رہنمائی اور برکات ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہی۔۔۔۔ ہم دِل کی گہرائیوں سے ’تادیب‘ کے تمام معزز لکھاریوں، دانش وروں، شاعروں اور فکری رفقا کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جن کے قلم نے اِس جریدے کو شناخت بخشی۔ اِسی طرح اُن تمام اِداروں، احباب اور معاونین کے شکر گزار ہیں جو اشتہارات یا مالی تعاون کے ذریعے ’تادیب ‘کے مشن میں شریک ہیں۔ـ‘‘
آخر میں میری یہ دُعا ہے کہ ماہ نامہ “نیا تادیب” آئندہ بھی ترقی کی منازل طے کرتا رہے، ادب کے چراغ روشن رکھے اور نئی نسل کو علم و آگہی کی روشنی فراہم کرتا رہے۔ اس کا یہ 24 سالہ جشن نہ صرف ایک سنگِ میل ہے بلکہ آئندہ کے روشن سفر کی نوید بھی ہے۔
*******



