طریقہءانتخابات میں اُلجھی اقلیتیں : امجد پرویز ساحل

آج کل ایک دفعہ پھر اقلیتوں کے مخصوص گروہوں ،جس میں سیاسی اور سماجی گروپ بھی شامل ہیں اُن میں مذہبی اقلیتوں کے حوالہ سے طریقہءانتخاب زیرِبحث ہے اور موقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ متناسب نمائندگی کے حساب سے چنیدہ نمائندے پاکستان کی اقلیتوں کا مقدمہ پوری طرح بیان کرنے میں ناکام رہے ہیں لہٰذا اس نئے طریقہ انتخاب کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا اُلٹا نقصان ہی ہوا ہے۔دلیل ہے کہ یہ لوگ جو بڑی سیاسی جماعتوں کے پٹھو بن کے رہ گئے ہیں اور ہونا تو یہ چاہییے تھاکہ یہ اقلیتوں کے مسائل بیان کرتے اس پر موثرقانون سازی کرواتے لیکن یہ تو اپنے سیاسی آقاؤں کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں اور اِن بڑی سیاسی پارٹیوں نے اُنہیں اپنے مقاصد کے لیے ساتھ رکھا ہواہے تاکہ یہ اقلیتی حلقوں میں جا کر ان کے ووٹوں کے لیے لابنگ کریں یا پھر ووٹنگ ایجنٹ ڈھونڈیں جو وقت پڑنے پر لوگوں کو ہماری پارٹیوں کو ووٹ کاسٹ کرنے میں مدد کریں۔ یہ بات جزوی طور پر تو درست نظر آتی ہے لیکن اس کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، ذرا اُس پر نظرڈال لینی چاہیے۔

بحرحال موجودہ طریقہ انتخاب مشرف دور میں لاگو ہوا جب اُس وقت کی اقلیتی سیاسی و سماجی جماعتوں نے علم ِ احتجاج بلند کیا اور اُس وقت کی سرکار کو باور کروایا کہ علیحدہ انتخابات دراصل پاکستان کی اقلیتوں کو قومی سطح کی سیاست سے علیحدہ کر کے قومی دھارے سے الگ کر نا ہے اور مذہب کی بنیاد پر یہ تقسیم کہیں نہ کہیں پاکستان کو تقسیم بھی کرتی ہے ۔جس سے مسلم اور غیرمسلم پاکستانیوں کے درمیان خلیج پیدا ہوتی ہے ۔ اس کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ پاکستان کے مسلم نمائندے نہ تو اقلیتی علاقوں میں جاتے ہیں نہ ہی اُن کے مسائل سنتے ہیں ۔اگر دیکھا جائے تو مسائل اقلیت و اکثریت کے کم و بیش ایک جیسے ہی ہوتے ہیں سوائے چند مذہبی اور روائتی مسائل کے۔پاکستان میں علیحدہ طریقہء انتخابات دراصل ضیاالحق کے دور کی پیداوار ہے جب ملک میں امریکی جہاد نصابی طور پر طے کردہ اسلامی انقلاب زوروں پر تھا اور پاکستان کے گلی کوچوں میں روس کے خلاف جہاد دھاڑتا پھرتا تھا۔ ہر طرف مذہبی انتہاپسندی دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ بہادر کی پاکستان کی معیشت سے لے کر نصاب و آئین میں مکمل دخل اندازی تھی۔اُس وقت جہاں اور بہت سی اصلاحات نافذہوئیں اُن میں ایک مذہبی بنیادوںپر انتخابات کی تقسیم بھی تھی۔ اس نے وطن عزیز کو ایک بار پھر دو قومی نظریے کی طرح دو حصوں میں منقسم کردیا حالاں کہ قیام پاکستان کے وقت اقلیتوں کی طرف سے قائد اعظم کو یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ہندو،مسیحی اور دیگر غیرمسلموں کو پاکستان میں شامل ہونے والوں میں شامل کیا جائے اور پھر گیارہ اگست کی تقریر نے ایک بار پھر بلا رنگ و نسل مذہب پاکستانیوں کو ایک قوم بنا دیا۔ یہ تو بعد میں ضیاالحق کی اس آئینی شرارت نے پاکستان کو مذہب کی نام پر تقسیم کر کے اقلیتوں کو مذہبی بنیادوں پر قومی دھارے کی سیاست سے الگ کردیا۔ اب بیچاری اقلیتوں کے نمائندہ اپنی ساری جمع پونجی الیکشن کمپین پر لگاتے کیونکہ ان بیچاروں کے پاس سارا پاکستان حلقہ ہوتا ۔ یہ وہ دور تھا جب سیاسی ظلم اپنے عروج پر تھا ایک بیچارہ ایم این اے اور حلقہ پورا پاکستان تھا۔ مطلب مسیحیوں کے لیے الگ ایم این اے اور ہندووں کے لیے الگ۔ اپنے چھوٹے چھوٹے کام کروانے کے لیے غریب لوگ مارے مارے پھرتے کبھی اسلام آباد تو کبھی ان کے چمچوں کے ڈیروں پر ۔ حالانکہ پاکستان کے معصوم لوگوں کو آج بھی اپنے حقوق کا ادراک نہیں وہ تو زمانہ ہی بھولا بھالا تھا ۔ جو کام ریاست نے کرنے تھے وہ اُس وقت کے اقلیتی ایم این اے کر رہے تھے۔ اقلیتی دیہاتوں میں بجلی کے کمبھے لگانا ہو ا یا کچی گلیوں میں سولنگ اور ٹیلی فون کی تار بچھانا وغیرہ ۔

وقت بدلا طریقہ انتخاب پھر تبدیل ہو ا اور الیکشن اکٹھے ہو گئے۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے، اب پاکستان کے ہر شہری کو مذہبی شناخت نہیں بلکہ ووٹر کی شناخت مل گئی اور بلا رنگ ،نسل،مذہب سب لوگ مشترکہ نمائندوں کو ووٹ کاسٹ کرتے مسلم نمائندے ووٹ کی خاطر اقلیتی حلقوں میں ووٹ مانگتے ، جلسے کرتے، جھوٹے سچے وعدے کرتے۔ جو کام مسلم علاقوں میں ہوتا وہی کام اقلیتی علاقوں میں بھی ہوتا۔ مسلم نمائندے اقلیتی مسائل پر پارلیمنٹ میں کھل کر بات کرتے کبھی وہ مانی جاتی کبھی نہیں،مطلب اب بات مذہبی تقسیم سے طاقت کی تقسیم پر آگئی اور تگڑا ووٹ لیتا ہے اور کمزور ووٹ ڈالتا ہے چاہے وہ مسلمان ہو یا ہندو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ملک کے طول و عرض پر کہیں ڈنڈے کے زور پر تو کہیں مذہبی کارڈ پر ووٹ حاصل کیے جاتے ۔ کہیں جھوٹے وعدوں سے تو کہیں بریانی کے پلیٹ پر لیکن وہ مذہبی تقسیم کم ہونے کے وجہ سے اُمیدوار کرسمس کا کیک بھی کاٹتا ہے اوردیوالی پر گال پر رنگ بھی لگواتا ہے کیونکہ اب اُسے ووٹ چاہیے اور لوگوں کو لولی پاپ یا ٹرک کی بتی ۔ چلو کچھ بھی ہے لیکن لوگ اپنے آپ کوپاکستانی تو سمجھتے ہیں ۔ ایک ہندو مسلمان نمائندے کو ووٹ کاسٹ کرتے ہیں اور مسلمان ایک مسیحی کو ووٹ کاسٹ کردیتا ہے بھلے وہ بری طرح ہرا دیا جائے لیکن آئین اُسے کسی بھی اکثریتی نمائندے کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کی طاقت تو دیتا ہے۔ ہار جیت تو بعد کی بات ہے۔ اور کچھ نہیں تو چند ووٹ بھی خراب نہیں کریگا۔ جی ہاں موجودہ نظام میں خرابیاں ہو سکتی ہیں لیکن مجموعی طور پر یہ ایک بہترین طریقہءانتخاب ہے۔ اس کو جاری رہنا چاہیے اب یہ فیصلہ عوام پر کہ کیا کسی طاقتور سرمایہ دار، وڈیرے کے مقابلے کھڑے ہو کر ووٹ خراب کرنے کی طاقت رکھے یا اپنے لیے علیحدہ الیکشن کا نظام حاصل کرے اور قومی دھارے سے جدا ہو کر ایک بار پھر سیاسی تنہائی میں اکیلا ہی دوڑ کر جیت جائے۔ فیصلہ آپ کا۔۔۔۔۔؟؟؟

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading