بچوں کا ماتم آخر کب تک؟: جاوید ڈینی ایل

کبھی معصوم بچوں کے بستوں پر خون کے دھبے ہمیں آرمی پبلک اسکول پشاور کی یاد دلاتے ہیں اور کبھی نومولود بچوں کی بے بسی پمز ہسپتال کی نرسری میں لگی آگ کے ساتھ ایک نئے قومی المیے کی صورت سامنے آتی ہے۔ دونوں سانحات کے اسباب مختلف سہی، مگر دونوں کے پسِ منظر میں ایک ہی دِل خراش سوال موجود ہے؛ آخر ہمارے بچوں کا ماتم کب ختم ہوگا؟

چھبیس اگست دو ہزار چھبیس کو پمز اسلام آباد کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سنٹر میں ہونے والی آتش زدگی میں چودہ نومولود بچوں کی جانیں چلی گئیں۔ یہ صرف چودہ اموات نہیں تھیں؛ یہ چودہ ماؤں کی اجڑی گودیں، چودہ باپوں کے بکھرے خواب اور چودہ خاندانوں کی ایسی خوشیاں تھیں جو زندگی شروع ہونے سے پہلے ہی ماتم میں بدل گئیں۔ ان میں سے بعض ننھی جانوں کی عمر صرف چند گھنٹے یا چند دن تھی۔ کسی ماں نے ابھی اپنے بچے کو بھرپور طریقے سے سینے سے بھی نہیں لگایا ہوگا، کسی باپ نے شاید اس کے مستقبل کے خواب دیکھنا شروع کیے ہوں گے، کسی گھر میں اس کے لیے کپڑے اور کھلونے سجائے گئے ہوں گے۔ پھر اچانک ایک خبر آئی اور خوشیوں سے بھرا گھر ہمیشہ کے لیے سوگوار ہو گیا۔ ان والدین پر کیا گزر رہی ہوگی؟ اس درد کا ازالہ کون کرے گا؟

ہمیں سانحۂ آرمی پبلک اسکول بھی یاد ہے، جہاں والدین اپنے بچوں کو علم حاصل کرنے کے لیے اسکول چھوڑ کر آئے تھے، مگر بہت سے بچوں کو زندہ واپس نہ پا سکے۔ پمز میں والدین اپنے نومولود بچوں کو زندگی اور علاج کے لیے ہسپتال کے سپرد کرتے ہیں، مگر وہاں بھی موت ان کی منتظر ہوتی ہے۔ ایک طرف اسکول، دوسری طرف ہسپتال—آخر ایک ماں اپنے بچے کے لیے کس جگہ کو محفوظ سمجھے؟

یہ سوال صرف حکومت سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہے۔ ہمارے اسکول، ہسپتال اور دیگر عوامی مقامات کتنے محفوظ ہیں؟ ہر بڑے سانحے کے بعد تحقیقات، کمیٹیاں، اعلانات اور بیانات ضرور سامنے آتے ہیں، مگر پھر چند دنوں بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ کیا اب بھی صرف ایک انکوائری کافی ہوگی؟ اگر اس سانحے میں غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات یا کسی بھی سطح پر کوتاہی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کو محض معطل کر کے معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ اس ملک کے معصوم بچوں کی جانیں اتنی ارزاں نہیں کہ چند سرکاری بیانات اور ایک تحقیقاتی کمیٹی کے بعد انہیں فراموش کر دیا جائے۔

مگر پمز کے اسی ہولناک سانحے میں، جب ہر طرف آگ، دھواں اور بے بسی تھی، انسانیت کا ایک چراغ بھی روشن ہوا۔ مسیحی نرس رضیہ نورین نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر شعلوں اور دھوئیں میں گھری نرسری سے ایک نومولود بچے کو زندہ نکال لیا۔ وہ خود بھی ایک ماں ہیں، شاید اسی لیے اس لمحے ان کے سامنے اپنا خوف نہیں بلکہ ایک ماں کی اجڑتی ہوئی گود کا تصور تھا۔

انہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایک ننھی زندگی بچائی اور پھر مزید بچوں کو بچانے کے لیے دوبارہ اندر جانے کی کوشش کی، مگر دھماکے اور گھنے دھوئیں نے راستہ روک دیا۔ باقی بچوں کو نہ بچا سکنے کا دکھ آج بھی ان کے دل میں ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے رضیہ نورین کی جرأت اور خدمت کے اعتراف میں اُنہیں ۲۳؍مارچ ۲۰۲۷ء کوتمغۂ خدمت دینے کا اعلان کیا اور وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال اور وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کے ہمراہ ایک کروڑ روپے کا چیک بطور انعام دیا۔ یہ ایک بہادر اور فرض شناس نرس کے لیے قوم کا اعتراف ہے، مگر اس اعتراف کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ باقی ہے؛ جس ایک بچے کو رضیہ نورین نے بچا لیا، وہ اُمید کی علامت ہے؛ مگر جن چودہ بچوں کو ہم نہ بچا سکے، ان کا حساب کون دے گا؟

رضیہ نورین کی جرأت ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ انسانیت کا چراغ تاریکی میں بھی روشن رہ سکتا ہے، مگر ایک نرس کی بہادری ریاستی اور انتظامی ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے ایسا پاکستان چاہیے جہاں اسکول علم کے محفوظ مراکز ہوں، ہسپتال زندگی کی حقیقی پناہ گاہیں ہوں اور والدین اپنے بچوں کو کسی ادارے کے سپرد کرتے ہوئے اس خوف میں مبتلا نہ ہوں کہ اگلی خبر ان کے گھر کا ماتم بن جائے گی۔

بچوں کا ماتم آخر کب تک؟ اب یہ صرف ایک جذباتی سوال نہیں، بلکہ ہمارے حکمرانوں، اداروں اور پوری ریاست کے لیے ایک سوالِ احتساب ہے کیونکہ رضیہ نورین نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ایک ننھی جان بچا لی؛ اب قوم اور ریاست کو ثابت کرنا ہے کہ باقی بچوں کی موت صرف ماتم نہیں، حقیقی جوابدہی کا آغاز بھی بنے گی۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading