تیرا جسم، میری مرضی : یوحنا جان

پاکستان میں حال ہی میں فیڈرل کانسٹی ٹیوشنل کورٹ نے ایک فیصلہ سنایا، جس نے نہ صرف ایک مسیحی لڑکی کے مبینہ طور پر مسلمان مرد سے نکاح کو برقرار رکھابلکہ اس نے ایک بڑا اصول بھی واضح کر دیا کہ”مسلمان مرد اہلِ کتاب (مسیحی یا یہودی) عورت سے شادی کر سکتا ہےمگر مسلمان عورت مسیحی مرد سے نہیں۔”

یہ فیصلہ “تیرا جسم،میری مرضی”کے نعرے کی حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے۔جہاں عبادت گاہ میں بھی مُلا صاحب خُدا کو غیر حاضر قرار دے کر بدفعلی کا مرتکب ہوئے پائے گئے،وہاں یہ القابات دینے والے خود کالے کرتوتوں کی سراپا نگاری بن گئے۔

“میرا جسم، میری مرضی”یہ نعرہ خواتین کے حقوق،آزادی اور خودمختاری کی آواز بنا کر پیش کیا جاتا ہے،لیکن جب بات مذہبی اقلیتوں کی آتی ہے تو یہ نعرہ ایک طرفہ تماشا بن جاتا ہے۔عدالت نے مسیحی لڑکی(جس کی عمر کے بارے میں والد کے مطابق وہ نابالغ تھی)کے نکاح کو برقرار رکھا اور اسے مسلمان مرد کی تحویل میں رہنے کا حکم دیا۔
عدالت نے اسلامی فقہ کا حوالہ دیا کہ مسلمان مرد اہلِ کتاب عورت سے شادی کر سکتا ہے کیونکہ وہ”اہلِ کتاب”ہیں۔جہاں بات اہلِ کتاب کی ہے تو اُسی لڑکی کا بھائی بھی تو اہلِ کتاب ہے۔اس تنازعے میں مزید تحقیق کے دائرے کو چاروں جانب دیکھیں تو کچھ سوالات جنم لیتے ہیں۔سوال یہ ہیں کہ:
اسلام کے مطابق اگر”دین میں جبر نہیں”ہے تو پھر ایک مسلمان لڑکی کا جسم کیوں اس کی مرضی نہیں ہو سکتا؟ ایک مسلمان لڑکی اگر کسی مسیحی مرد سے محبت کرے اور شادی کرنا چاہے تو قانون اور معاشرہ اسے”مرتد”قرار دے کر سزا کا مستحق ٹھہراتا ہے، کیوں؟

دین میں کسی عربی و عجمی کا فرق نہیں تو یہاں”تیرا جسم،میری مرضی”کا فلسفہ کیوں؟کیا دینِ اسلام جبر و تشدد سے کی گئی شادی کو پسند فرماتا ہے؟پھر مسلم عورت پسند کی شادی مسیحی سے کیوں نہیں کر سکتی؟

کیا دینِ اسلام دوسروں کے مذہب کا احترام نہیں کرتا؟ کیا جس لڑکی سے اہلِ کتاب کا حق دار سمجھ کر شادی کی جا رہی ہے،اس کا بھائی اور باپ اہلِ کتاب نہیں ہیں؟کیا دینِ اسلام میں دوسروں کی ماں، بہن،بیٹی کے حقوق کا تحفظ نہیں ہے؟جو ہر لحاظ سے اس کی مرضی کو نظر انداز کرکے اُسے جبری طور پر والدین یا برادری کی”مرضی”کے حوالے کر دیا جاتا ہے،کیوں؟

جس ریاست کی بنیاد اسلام کے نام پر رکھی گئی،اُسی کا بنایا ہوا قانون اٹھارہ سال سے کم عمر کو نابالغ قرار دیتا ہے۔ مگر جب صرف مسیحی یا کسی دوسرے مذہب کی بیٹی یا بہن کامعاملہ ہو تو وہی بنیادی قانون نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔یہ دوہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ایک طرف دینِ اسلام مساوات اور برابری کا درس دیتا ہے،مگر دوسری جانب مسیحی لڑکی کی “مرضی”کو بالغ قرار دے کر مجبوراًدوسرا مذہب قبول کروایاجاتا ہے (چاہے عمر کا ثبوت متنازع ہو) جبکہ دوسری طرف مسلمان لڑکی کی مرضی کو مذہبی احکامات کی آڑ میں دفن کر دیاجاتا ہے۔
آزادیِ مذہب،آزادیِ جسم اور انتخاب کا حق اگر واقعی سب کے لیے ہے تو پھر یہ حق صرف ایک طرفہ کیوں؟ مسلمان مرد غیر مسلم عورت کو”اپنا”بنا سکتا ہے،مگر مسلمان عورت کو مسیحی مرد”اپنا”نہیں بنا سکتاکیا یہ محبت نہیں؟ یہ”مرضی”کیسے ہوئی جو صرف ایک مذہب کے مرد کو فائدہ پہنچائے؟

پاکستان میں اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکایالڑکی سرکاری نوکری کے اہل نہیں، کیونکہ نابالغ ہے۔شناختی کارڈ نہیں بنوا سکتا،کیوں کہ نابالغ ہے۔ ووٹ دے کر اپنے لیے لیڈر یا گیڈر منتخب نہیں کر سکتا،کیونکہ نابالغ ہے۔ ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوا سکتا،کیونکہ نابالغ ہے۔بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتا،کیونکہ نابالغ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں دوسروں کی لڑکیوں کے ساتھ ایسے کیسز میں اکثر زبردستی،اغوا اور جبری تبدیلیٔ مذہب کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔مسیحی،ہندو اور دیگر اقلیتوں کے خاندان بار بار شکایت کرتے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کو اغوا کیا جاتا ہے،اسلام قبول کرنے کا دعویٰ کروایا جاتا ہےاور پھر عدالتوں میں”بالغ”اور”رضامند”قرار دے کر مقدمہ ختم کر دیا جاتا ہے۔
اس فیصلے نے اس عمل کو مزید قانونی تحفظ دے کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جہاں یہ نظریہ رائج ہے وہاں”تیرا جسم، میری مرضی” کا قانون کارفرما ہے۔
“مرضی” کا اصل مطلب تو یہ ہونا چاہیے کہ ہر بالغ انسان،چاہے وہ کسی بھی عقیدہ،مذہب یا دھرم سے ہو،مرد ہو یاعورت،اپنا انتخاب اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرے۔لیکن جب مذہب،قانون اور معاشرتی دباؤ اس انتخاب کو ایک طرف سے کھلا اور دوسری طرف سے بند کر دے تو یہ نعرہ جھوٹا اور تضادات سے بھرپور ہو جاتا ہے۔

حقیقی آزادی وہ نہیں جو صرف اکثریت کے مرد کو فائدہ دے؛حقیقی آزادی وہ ہے جو سب کے لیے برابر ہو،مذہب سے قطع نظر،صنف سے قطع نظر۔ جب تک ایک مسلمان لڑکی بھی”مرضی”کا حق نہیں رکھتی،تب تک یہ نعرہ صرف سیاسی اور منتخب استعمال کا آلہ ہے۔

پاکستان کی عدلیہ،قانون اور معاشرہ اس دوہرے معیار پر قائم ہیں،جہاں”تیرا جسم، میری مرضی”کا نعرہ صرف ایک طرفہ کھیل بن کر رہ گیا ہے۔جہاں کچھ جسموں کی مرضی کو احترام ملتا ہے اور کچھ کی نہیں۔
انسانی حقوق،مذہبی آزادی اور صنفی مساوات کا دعویٰ کرنے والو! کیا یہ واقعی”مرضی”کی فتح ہے یا صرف ایک مخصوص “مرضی”کی؟
بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ کہاں ہیں وہ بھائی چارے اور وچارےجو مساوات کے دعوے دار ایک میز پر ہاتھ میں ہاتھ ڈالے”مساوات”کا نعرہ لگاتے ہیں؟بڑی بڑی میزوں پر بیٹھ کر لسان،بھگوان، عرفان، میزبان اور انٹر فیتھ ہارمنی کے دعوے کیے جاتے ہیں۔
آئے دن ان کے کھانے، بکرا، روٹی اور نان پر اَمن، چمن اور جنم ختم ہو جاتا ہے۔کہاں ہیں ان کے دعوے اور دعوے دار،جو آئے روز اپنے منصب پر ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر خود کو امن کا سفیر اور حقیقت میں بے ضمیر ثابت کرتے ہیں؟
افسوس،صد افسوس!
ایسوں پر جو دوسروں کی بہن اور بیٹی کی عزت سے کھیل کر اپنے لیے بیلنس،کوٹھی،مکان، عہدے،کرسی اور دوسرے ممالک کی قومیت حاصل کرتے ہیں۔تصویروں میں قوم کے خیرخواہ،خدمت گزار اورخادم بنتے ہیں،وہ بھی بلاوجہ۔ این جی اوز روز بروز کھولی جا رہی ہیں۔
طویل مدت کے بعد اب معلوم ہوا کہ اس کا مطلب شاید (  نو گو  اوور) ہے،نہ کرنا اور نہ کرنے دینا۔جب بھی مار پڑی، اپنوں کی وجہ سے پڑی،مگر یہ کب تک؟ جب تک”تیرا جسم،میری مرضی”کا نعرہ ایک طرفہ رہے گا۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading