ہم کس کس سانحے پر نوحہ کریں؟: یوسف بنجمن

کراچی کا گل پلازہ ہو یا لاہور کی لٹکتی تاریں، ہر نیا دن ایک نیا زخم دے کر گزرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم کس کس سانحے پر نوحہ کریں اور کس کس لاش پر ماتم کریں؟ کراچی کا حالیہ گل پلازہ سانحہ صرف ایک عمارت میں لگی آگ نہیں تھی، بلکہ یہ ہمارے بوسیدہ نظامِ حکومت اور انسانی جانوں کے ساتھ ہونے والے اس گھناؤنے کھیل کی تازہ ترین مثال ہے جو برسوں سے جاری ہے۔ جنوری 2026 کا آغاز پاکستان کے لیے کسی قدرتی آفت سے نہیں بلکہ ایک ایسی ‘انتظامی آفت’ سے ہوا ہے جس نے ریاست کے اس دعوے کی قلعی کھول دی ہے کہ وہ شہریوں کی محافظ ہے۔

ماتم کی اس فضا میں اب ‘نوحہ خوانی’ ایک قومی استعارہ بن چکی ہے۔ ہماری قوم کی تقدیر میں شاید اب خوشیوں کے گیت نہیں، بلکہ آئے روز کسی نہ کسی انتظامی حادثے پر صرف ماتم لکھ دیا گیا ہے۔ کبھی لٹکتی تاروں سے جھلسنے والے معصوموں کا ماتم، کبھی گٹروں میں ڈوبتے مستقبل کی چیخیں، اور کبھی بلند و بالا عمارتوں کے شعلوں میں راکھ ہوتے محنت کشوں کے جنازے۔ ہم ایک ایسے ملک میں جی رہے ہیں جہاں ہر نیا سورج کسی گھر میں صفِ ماتم بچھا دیتا ہے، اور ابھی ایک گھر سے سسکیوں کی آوازیں تھمتی نہیں کہ کسی دوسرے گوشے سے ایک نیا جنازہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ یہ ماتم صرف ان خاندانوں کا نہیں بلکہ اس ریاست کے ضمیر کا ہے جو اپنے شہریوں کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں محض ‘لاشوں کے اعداد و شمار’ میں تبدیل کر چکی ہے۔

ہمارے نظامِ حکمرانی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں حکمران اپنی نااہلی، بدعنوانی اور سنگین لاپرواہی کو چھپانے کے لیے اسے ‘حادثہ’ یا ‘اتفاق’ کا نام دے کر جان چھڑا لیتے ہیں۔ جب کوئی عمارت گرتی ہے، آگ لگتی ہے یا کوئی بچہ گٹر میں ڈوبتا ہے، تو اسے فوری طور پر ایک ناگہانی آفت قرار دے دیا جاتا ہے تاکہ کسی بڑے افسر یا سیاسی شخصیت پر ذمہ داری عائد نہ ہو۔ یہ ‘حادثہ’ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی مجرمانہ غفلت ہے؛ کیونکہ جب آپ کو معلوم ہو کہ بجلی کی تاریں بوسیدہ ہیں، عمارت میں آگ بجھانے کا آلہ نہیں ہے یا گٹر کا ڈھکن غائب ہے، اور آپ پھر بھی خاموش رہیں، تو یہ اتفاق نہیں بلکہ قتلِ عمد ہے۔ حکمران اس طرح کی اصطلاحات کا استعمال صرف اس لیے کرتے ہیں تاکہ قانون کی گرفت سے بچ سکیں اور عوامی غصے کو ‘تقدیر کا لکھا’ کہہ کر ٹھنڈا کر سکیں۔

اس بدترین نظامِ حکومت کا ایک اور تکلیف دہ پہلو وہ ‘خونی روایت’ ہے جس کے تحت کسی بھی سانحے کے بعد افسردہ خاندانوں کے لیے ‘مالی امداد’ کا اعلان کر کے چمڑی چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انسانی جانوں کا سودا کرنے کی یہ روایت نہ صرف شرم ناک ہے بلکہ حکمرانوں کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے فرار کا ایک بھونڈا طریقہ ہے۔ کیا چند لاکھ روپے کسی ماں کو اس کا لختِ جگر واپس دے سکتے ہیں؟ ریاست کا کام لاشوں کی قیمت لگانا نہیں بلکہ زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ جب تک نظامِ انصاف ان ذمہ داروں کو سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجتا جن کی غفلت سے یہ سانحات ہوتے ہیں، یہ امدادی چیک محض ‘خون بہا’ اور عوامی احتجاج کو خاموش کرنے کا ذریعہ ہی رہیں گے۔

حکمران طبقے کی بے حسی اس وقت تاریخ کے سیاہ ترین باب میں بدل جاتی ہے جب وہ انسانی المیوں پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں وہ وقت نہیں بھولنا چاہیے جب کراچی کی سڑکوں پر کھلے گٹروں نے معصوم زندگیوں کو نگلا اور جب انتظامیہ سے جواب طلب کیا گیا تو شرمندگی کی بجائے یہ سنگدلانہ منطق پیش کی گئی کہ “کیا لاہور میں بچے اس طرح نہیں مرتے؟”۔ یہ جملہ انسانیت کی تذلیل اور اس ذہنیت کا عکاس ہے جو ایک شہر کی نااہلی کا جواز دوسرے شہر کی بدانتظامی میں تلاش کرتی ہے۔ عدالتوں نے بھی اس موازنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا، مگر افسوس کہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔

اگر نیت صاف ہو تو درج ذیل اقدامات سے قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں؛ 

تمام تجارتی پلازوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے اور ہنگامی اخراج کے بغیر کسی عمارت کا نقشہ منظور نہ کیا جائے۔
لوہے کے بجائے فائبر گلاس کے ڈھکن لگائے جائیں جن کی کباڑ میں کوئی قیمت نہیں ہوتی، نیز ڈھکن کے نیچے حفاظتی جالی لگانا لازمی قرار دیا جائے تاکہ ڈھکن نہ ہونے کی صورت میں بھی کوئی فرد گٹر میں نہ گر سکے۔
گنجان آباد بازاروں اور رہائشی علاقوں میں لٹکتی تاروں کو اگر زیرِ زمین منتقل نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم ان کو محفوظ ضرور کیا جائے تاکہ کسی شخص کے چھو جانے کا خطرہ نہ رہے۔
آتش زنی، بجلی، گٹر یا کسی بھی صورت میں حادثہ رونما ہونے کی صورت میں متعلقہ محکمے کے سربراہ کے خلاف ‘قتلِ عمد’ کا مقدمہ درج کیا جائے تاکہ افسر شاہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔

دستورِ پاکستان کا آرٹیکل 9 ہر شہری کو ‘تحفظِ ذات’ کی ضمانت دیتا ہے، مگر یہاں ریاست کی باگ دوڑ سنبھالنے والے ہی شہریوں کی زندگی چھین رہے ہیں۔ اگر سیاستدان اپنے شہریوں کو محفوظ زندگی اور مناسب شہری سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہیں تو انہیں اقتدار میں رہنے کا کوئی اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں ہونا چاہیے۔ شہریوں کو اب اشتہاروں والی ترقی نہیں بلکہ وہ حقیقی گڈ گورننس چاہیے جو انہیں تحفظ کے ساتھ جینے کا حق دے سکے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم یونہی نعشیں اٹھاتے اور ماتم کرتے رہیں گے؟ کیا ہماری تقدیر صرف ان ‘انتظامی قتلوں’ پر نوحہ خوانی تک محدود ہے؟ اب وقت آ گیا ہے کہ ریاست نعشوں پر سیاست اور زخموں پر امدادی رقوم کا مرہم رکھنا بند کرے۔ ہمیں وہ نظام چاہیے جہاں زندگی کی ضمانت کسی اشتہاری مہم میں نہیں، بلکہ ڈھکے ہوئے گٹروں، محفوظ عمارتوں اور لٹکتی تاروں سے پاک گلیوں میں نظر آئے۔ جب تک مجرمانہ غفلت کے مرتکب افسران اور حکمران کٹہرے میں نہیں لائے جائیں گے، تب تک یہ صفِ ماتم تھمے گی نہیں بلکہ ایک ایسے طوفان کی شکل اختیار کر لے گی جو اس پورے بوسیدہ ڈھانچے کو بہا لے جائے گی۔

One thought on “ہم کس کس سانحے پر نوحہ کریں؟: یوسف بنجمن

  1. Bohat Acha likha hay. Hamaray mulk main khas tor pe karachi main, jahan jaraim paisha anaser ko bhatta na diya jaey wahan aag laga di jati hay ya phir ochay hath kanday istemaal liyay jatay hain. Karachi main aik bohat barray plazay ko jan boojh ker aag lagai gai thee. Sab ko pta tha kis ne kiya hay laikin kuch nahin hua. Yahan bhi kuch nahin ho ga. Thorra sa shor o Ghul and bus.
    Anways you did well.

Leave a Reply to Ayub Shahzad Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading