جنریشن(نسل) کیا ہے؟ : ڈاکٹر ایورسٹ جان

نسل، وقت، ٹیکنالوجی اور کام کرنے کے بدلتے زاویوں کا نام!فی زمانہ پاکستانی معاشرے میں جب سماجی تبدیلی، سیاست، نوجوانوں کے رویّوں اور مستقبل کی سمت پر گفتگو ہوتی ہے تو جنریشن۔ بدقسمتی سے یہی لفظ سب سے زیادہ غلط فہمیوں، جذباتی ردِعمل اور غیر ضروری تلخی کا سبب بھی بن رہا ہے۔ ایک اصطلاح بار بار سامنے آتی ہے۔”جنریشن(جنریشنز)”۔ حالیہ دنوں میں یہ بحث اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب پاکستان نژاد پی ایچ ڈی طالب علم زورین نظامانی کا ایک مضمون ایکسپریس ٹریبیون میں شائع ہوا، جس میں انہوں نے پاکستانی سیاست اور سماج کو دو بڑی نسلوں، یعنی بے بی بومرز اور جنریشن زی، کے تناظر میں بیان کیا اور یہ مؤقف پیش کیا کہ آنے والے برسوں میں قومی سوچ اور قیادت تیزی سے نئی نسل کے ہاتھ میں منتقل ہو رہی ہے۔ “اِٹ از اوور”مضمون کے عنوان سے بعض حلقوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید یہ تحریر موجودہ نظام کے خلاف یا اس کے حق میں کوئی اعلان ہے، حالانکہ اصل مسئلہ مضمون کا سیاسی رخ نہیں بلکہ وہ بحث ہے جو اس کے بعد پاکستانی میڈیا میں شروع ہوئی۔

اس بحث میں کئی ٹی وی پروگراموں، تجزیوں اور تبصروں میں یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ ہمارے ہاں “جنریشن” کی اصطلاح کو ابھی تک درست معنوں میں نہیں سمجھا گیا۔ بہت سے تجزیہ نگار چونکہ خود عمر کے لحاظ سے پرانی نسل سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے وہ اس اصطلاح کو روایتی معنوں میں، یعنی باپ دادا، خاندان، قبیلہ یا نسلی شناخت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں نسلیں صدیوں سے چلی آ رہی ہیں، اس لیے نئی جنریشن کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنے بزرگوں کے خیالات پر سوال اٹھائے۔ کوئی اسے علاقائی قومیت سے جوڑ دیتا ہے کہ ہم تو قدیم قومیں ہیں، یہ بے بی بومر اور جنریشن زی کہاں سے آ گئیں۔ بعض یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ اگر کوئی نوجوان باہر پی ایچ ڈی کر کے آ جائے تو وہ اپنی روایتی نسل سے بغاوت نہیں کر سکتا، اور بعض اسے مصنوعی ذہانت کا لکھا ہوا مضمون قرار دے کر مصنف کی فکری صلاحیت پر ہی سوال اٹھا دیتے ہیں۔

یہ تمام اعتراضات دراصل ایک بنیادی غلط فہمی سے جنم لیتے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ جدید دنیا میں “جنریشن” کا مفہوم کیا ہے۔ سماجیات، نفسیات، ٹیکنالوجی اسٹڈیز اور جدید سوشل سائنسز میں “جنریشن” کا مطلب ہرگز نسب، خون، قبیلہ یا قوم نہیں ہوتا۔ یہ اصطلاح اس بات کی وضاحت کے لیے استعمال کی جاتی ہے کہ کون سے لوگ ایک ہی تاریخی دور میں پیدا ہوئے، کن جیسے سماجی حالات سے گزرے، کن بحرانوں یا مواقع کا سامنا کیا، اور کن ٹیکنالوجی کے اوزاروں کے ساتھ بڑے ہوئے۔ اس کا مقصد نہ بزرگوں کی نفی ہے اور نہ روایات کی توہین، بلکہ صرف یہ سمجھنا ہے کہ مختلف ادوار میں پیدا ہونے والے انسان دنیا کو کس زاویے سے دیکھتے ہیں، فیصلے کیسے کرتے ہیں اور کام کو کس طرح انجام دیتے ہیں۔اور یہ مسلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ عالمی سطح پر زیر بحث آتا ہے اور میڈیا میں زیر بحث آتا ہے۔ اور کسی نسل کو دوسرے برتری یا سبقت نہیں۔ بےبی بومرز وہ خوش قسمت نسل ہے جس نے اپنا سفر مٹی کے تیل کے دئے سے کیا اور خلا میں پہنچ گئے اس لئے سارے خلا باز بےبی بومرز ہی تھے۔ مثال کے طور پر، آج بھی بڑی عمر کی نسلوں کے لیے معلومات کا بنیادی ذریعہ اخبارات، رسائل، کتابیں، لائبریریاں اور ٹی وی نیوز ہیں۔ ان کے نزدیک خبر ایک مقررہ وقت پر آتی ہے، تجزیہ اگلے دن پڑھا جاتا ہے، اور رائے سازی ایک تدریجی عمل ہے۔ اس کے برعکس نئی نسل کے ہاتھ میں اسمارٹ فون ہے، جس میں دنیا بھر کی خبریں، تجزیے، کتابیں، لیکچرز، ڈیٹا اور حتیٰ کہ مصنوعی ذہانت کے اوزار ہر لمحہ دستیاب ہیں۔ ایک سیکنڈ میں بدلتی عالمی صورتحال سے باخبر رہنا ان کے لیے معمول کی بات ہے۔ یہی فرق سوچ کے انداز، ردِعمل کی رفتار اور کام کرنے کے طریقے کو بدل دیتا ہے، اور یہی فرق “جنریشن” کی اصطلاح کو جنم دیتا ہے۔

اگر ہم بےبی بومرز نسل کو دیکھیں، جو عموماً 1946 سے 1964 کے درمیان پیدا ہوئی، تو یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی دنیا دیکھی، ریاستوں کی تعمیر، اداروں کی مضبوطی اور نظم و ضبط کو ترقی کی بنیاد سمجھا۔ ان کی سوچ میں صبر، تسلسل، قربانی اور اداروں پر اعتماد نمایاں ہے۔ کام کے میدان میں یہ نسل ایک ہی ادارے میں طویل مدت تک کام کرنے کو فخر سمجھتی ہے، وقت کی پابندی، فائل ورک، میٹنگز اور درجہ بندی پر یقین رکھتی ہے، اور آمنے سامنے گفتگو، تحریری احکامات اور واضح نظم کو ترجیح دیتی ہے۔ ان کے لیے کام محض ذریعہ معاش نہیں بلکہ ذمہ داری اور فرض ہوتا ہے، اور اکثر ذاتی زندگی کو بھی اسی کے تابع کر دیا جاتا ہے۔

اس کے بعد جنریشن ایکس آتی ہے، جو تقریباً 1965 سے 1980 کے درمیان پیدا ہوئی۔ یہ ایک عبوری نسل ہے جس نے اینالاگ دنیا سے ڈیجیٹل دنیا کی طرف منتقلی دیکھی۔ اس نسل کی سوچ میں نہ اندھا اعتماد ہے اور نہ مکمل بغاوت، بلکہ احتیاط اور حقیقت پسندی ہے۔ کام کے معاملے میں یہ خودمختاری پسند ہے، نتائج کو اہمیت دیتی ہے، کمپیوٹر، ای میل اور ابتدائی انٹرنیٹ کے ساتھ ہم آہنگ ہوئی، اور دفتر اور ذاتی زندگی میں توازن کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ نسل کام کرتی ہے، مگر حد سے آگے بڑھنے کو دانش مندی نہیں سمجھتی۔

ملینیئلز، یا جنریشن وائی، جو تقریباً 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہوئے، اس دور کی پیداوار ہیں جس میں انٹرنیٹ، موبائل فون اور گلوبلائزیشن تیزی سے پھیلی۔ ان کے نزدیک کام صرف روزگار نہیں بلکہ مقصد اور معنی بھی رکھتا ہے۔ یہ سوال کرتے ہیں کہ میں یہ کام کیوں کر رہا ہوں، اس سے معاشرے کو کیا فائدہ ہو رہا ہے، اور اس کا میری شناخت سے کیا تعلق ہے۔ کام کرنے کے انداز میں یہ فلیکسیبل اوقات، ریموٹ ورک، ٹیم ورک اور باس کے بجائے رہنمائی کرنے والے مینٹور کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے لیے حکم ماننے سے زیادہ بات چیت اور شراکت اہم ہے۔

آخر میں جنریشن زی ہے، جو تقریباً 1997 کے بعد پیدا ہوئی اور مکمل طور پر ڈیجیٹل دنیا میں پلی بڑھی۔ یہ نسل معلومات کے بوجھ سے زیادہ رفتار کی عادی ہے۔ یہ روایتی نعروں اور محض جذباتی تقاریر پر یقین نہیں کرتی بلکہ دلیل، ڈیٹا اور فوری نتائج مانگتی ہے۔ کام کے میدان میں اسمارٹ فون ہی اس کا دفتر ہے، فری لانسنگ، گیگ اکانومی، آن لائن پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ کام کرنا اس کے لیے معمول کی بات ہے۔ یہ نسل روایتی نوکری کے بجائے ہنر، آزادی اور تیز نتائج کو ترجیح دیتی ہے اور یہ سوال کرتی ہے کہ اگر کوئی کام موبائل سے ہو سکتا ہے تو دفتر جانے کی کیا ضرورت ہے۔

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ نئی نسل سوال کیوں کر رہی ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نئی اصطلاحات کو پرانے معنوں میں قید کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب پرانی نسل “جنریشن” کو خاندانی یا نسلی بغاوت سمجھتی ہے تو ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے، اور جب نئی نسل تجربے کی قدر نہیں کرتی تو خلا پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے آگے اسی وقت بڑھتے ہیں جب پرانی نسل اپنا تجربہ دیتی ہے، درمیانی نسل توازن قائم رکھتی ہے، اور نئی نسل رفتار، ٹیکنالوجی اور نئے سوالات کے ساتھ اس تجربے کو آگے لے جاتی ہے۔

یہ مضمون کسی سیاسی نظام کی حمایت یا مخالفت نہیں بلکہ ایک فکری وضاحت ہے۔ اگر ہم “جنریشن” کو ایک سائنسی اور سماجی اصطلاح کے طور پر سمجھ لیں، نہ کہ اخلاقی یا نسلی فیصلے کے طور پر، تو نسلوں کے درمیان تصادم کے بجائے مکالمہ پیدا ہو سکتا ہے۔ نسلیں دشمن نہیں ہوتیں، نسلیں وقت کی زبان ہوتی ہیں، اور وقت کو سمجھنے کے لیے اس کی زبان کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ اگر اس پوری بحث کو ایک آخری نکتے میں سمیٹا جائے تو بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسئلہ نسلوں کے ٹکراؤ کا نہیں بلکہ زمانے کے ارتقا کو سمجھنے یا نہ سمجھنے کا ہے۔ انسان کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ہر نئی جنریشن پچھلی جنریشن کی نفی نہیں بلکہ اس کے تجربے پر کھڑی ہو کر آگے بڑھتی ہے۔ آج ہم بے بی بومرز، جنریشن ایکس، ملینیئلز اور جنریشن زی پر گفتگو کر رہے ہیں، مگر یہ سفر یہیں ختم نہیں ہوتا۔ سائنس، مصنوعی ذہانت، خلائی تحقیق، مریخ پر انسانی بستیاں، اور زمین سے باہر زندگی کے امکانات اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ آنے والے وقت میں انسان ایک نئی شناخت کی طرف بڑھے گا جسے علامتی طور پر “خلائی نسل” کہا جا سکتا ہے۔ یہ وہ نسل ہو گی جس کی سوچ صرف قومی سرحدوں، زمینی سیاست یا روایتی ریاستی نعروں تک محدود نہیں ہو گی بلکہ اس کا شعور زمین سے آگے، خلا، کائنات اور انسانی بقا کے عالمی سوالات سے جڑا ہو گا۔ اس نسل کے لیے وقت، فاصلہ، قوم اور روایت کے مفاہیم مزید بدل جائیں گے۔ ایسے میں اگر آج ہم جنریشن زی کو سمجھنے سے انکار کریں گے تو کل خلائی نسل ہمارے لیے اور بھی اجنبی ہو گی۔ اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ ہم “جنریشن” کو بغاوت یا بدتمیزی کا لیبل دینے کے بجائے انسانی ارتقا کی ایک قدرتی منزل سمجھیں، کیونکہ نسلیں دشمن نہیں ہوتیں، نسلیں وقت کے سفر کی نشانیاں ہوتی ہیں، اور وقت نہ کبھی رکتا ہے، نہ کسی ایک نسل کا انتظار کرتا ہے۔ شائید وہ “خلائی نسل” ہی کیوں نہ ہو۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading