سرگودھا کی طالب کالونی ان علاقوں میں سے نہیں جہاں لوگ ریاست سے بہت زیادہ امیدیں رکھتے ہوں۔ گزشتہ دنوں کسی نے سوچا بھی نہ تھا کہ ایک ہی دوپہر یہاں کے ایک گھر سے تین جنازے اٹھیں گے۔ اتوار 4 جنوری 2026 کو گھر کا ایک عام سا دن اس وقت انتہائی غم میں بدل گیا جب تین بھائی، 25 سالہ شاہد مسیح، 38 سالہ آصف مسیح اور 29 سالہ عابد مسیح اپنے ہی گھر کی چھت پر کرنٹ لگنے سے ہلاک ہو گئے۔ وہ اس بوسیدہ برقی نظام کا شکار ہوئے جس نے اس مزدور طبقے کی بستی کو عملاً ایک ”موت کے جال“ میں بدل رکھا تھا۔
اس سانحے کا آغاز ایک معمولی کام سے ہوا۔ سب سے چھوٹا بھائی شاہد گھر کی پانی کی ٹینکی صاف کرنے چھت پر گیا۔ گیارہ ہزار کلو واٹ کی ننگی ہائی وولٹیج تار گھر کی بیرونی دیوار کے بالکل ساتھ سے گزر رہی تھی۔ پلک جھپکتے ہی کرنٹ نے شاہد کو جکڑ لیا۔ اس کی چیخیں سن کر آصف اور عابد اسے بچانے کے لیے دوڑے، لیکن موت کے اسی طاقتور جھٹکے نے انہیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ وہ تینوں ایک ساتھ دنیا سے رخصت ہو گئے اور اپنے پیچھے بوڑھے والدین، غمزدہ بیوائیں اور وہ نابالغ بچے چھوڑ گئے ہیں جن کا مستقبل اب کسی سہارے کے بغیر ہے۔ریاستی حکام اسے محض ایک ”حادثہ“ قرار دے رہے ہیں، لیکن یہاں کے مکین اسے تعمیراتی و انتظامی تعصب و امتیاز کا نام دے رہے ہیں۔ یہ اس معاشرے کا ایک ایسا نظام ہے جہاں حفاظت صرف امیروں کے لیے مخصوص ہے، جبکہ غریبوں کو ننگی تاروں کے سائے تلے جینے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔
اس سانحے پر سابق رکن پنجاب اسمبلی اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے سرگرم رہنما طاہر نوید چوہدری نے سخت ردِعمل دیا۔ انہوں نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیوں، بالخصوص ’فیسکو کو اس ”مجرمانہ غفلت“ کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ جن کے نزدیک غریبوں کی زندگیوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ طاہر نوید چوہدری کے مطابق یہ تقدیر کی نہیں بلکہ ریاست کی ناکامی ہے۔ انہوں نے ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی کی کہ جہاں سرگودھا کی پوش ہاؤسنگ اسکیموں میں زیرِ زمین وائرنگ اور سخت حفاظتی ضوابط موجود ہیں، وہیں طالب کالونی جیسی بستیوں کے لوگ ”موت کے جال“ تلے رہنے پر مجبور ہیں۔ ان کے نزدیک چند نچلے درجے کے ملازمین کو معطل کرنا کافی نہیں، بلکہ ان کمپنیوں کی اعلیٰ انتظامیہ کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے چاہئیں۔
طالب کالونی انتظامیہ بے حسی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ یہاں مسیحی اور مسلم برادری کے تقریباً 800 سے زائد خاندان آباد ہیں۔ گلیاں تنگ ہیں اور بنیادی سہولیات ناپید۔ یہاں چارسُو خوف کا راج ہے۔ مقامی افراد کے مطابق جب بھی تیز ہوا چلتی ہے یا بارش ہوتی ہے تو وہ اپنے بچوں کو گھروں میں بند کر دیتے ہیں۔ انہیں موسم سے کوئی خوف نہیں آتا بلکہ ان بے ترتیب ننگی تاروں سے ڈر لگتا ہے۔ زنگ آلود اور جھکے ہوئے کھمبے کئی دہائیوں سے ایسے ہی کھڑے ہیں جو کسی بھی وقت کسی اور بڑے حادثے کو جنم دے سکتے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کے لیے یہ سانحات کوئی حیرت کی بات نہیں۔ وہ برسوں سے ایسے ہی کسی ہولناک دن کی پیش گوئی کر رہے تھے۔
جانی نقصان کے ساتھ ساتھ اس خاندان پر معاشی قیامت بھی ٹوٹی ہے۔ یہاں کے اکثر مرد دیہاڑی دار مزدور ہیں۔ شاہد، آصف اور عابد کی موت سے مسیح خاندان کا واحد ذریعہ معاش ختم ہو گیا ہے۔ دو بیوائیں اور یتیم بچے اب چرچ انتظامیہ اور پڑوسیوں کی خیرات پر انحصار کر رہے ہیں اور ساتھ میں حکومتی امداد کے بھی منتظر ہیں جس کا فی الحال دور دور کوئی امکان نہیں۔
اس متاثرہ علاقے کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ نیپرا کے حفاظتی معیارات کی کھلم کھُلا خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ قانون کے مطابق ہائی ٹینشن لائنوں اور چھت کے درمیان کم از کم 3۔7 میٹر کا فاصلہ ہونا ضروری ہے۔ لیکن یہاں ان مکینوں کے لئے نہ آسمان سے کوئی رحم ہے نہ زمین والوں سے کچھ اچھے کی اُمید۔ ان بستیوں میں معیارِ زندگی ایسا ہی ہے۔ کہیں بجلی کی جھٹکوں سے زندگیوں کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے تو کہیں بچے کھلے گٹروں مین گر کا جان بحق ہو رہے ہیں۔ صرف 2025 میں پنجاب کے مختلف شہروں میں 45 سے زائد بچے کھلے گٹروں میں گر کر جاں بحق ہوئے۔ پچھلے سال دسمبر میں حیدرآباد تھل میں ارسلان نامی مزدور کی موت ہوئی اور رانا ٹاؤن میں بھی اسی طرح کے واقعات نے انتظامیہ کی سنجیدگی اور ذمہ داری کے پول کھول کے رکھ دیے۔
ریاست کو یہ خطرات صرف اس وقت نظر آتے ہیں جب لاشیں اٹھتی ہیں۔ آج اس مسیحی خاندان کے گھر میں پھیلی خاموشی اس نظام کے خلاف ایک سخت فردِ جرم ہے جو انسانی زندگی سے زیادہ کارپوریٹ بچت کو اہمیت دیتا ہے۔ جب ان تینوں بھائیوں کے جنازے قبر میں اتارے جا رہے تھے، تب بھی طالب کالونی کی چھتوں پر وہ ہائی وولٹیج تاریں بے حسی سے لہرا رہی تھیں۔محض چند ملازمین کی معطلی سے انصاف نہیں ملے گا۔ حقیقی انصاف اس ”انتظامی امتیاز اور تعصبات“ کو ختم کرنے میں ہے جو ان خاندانوں کو انسان سمجھنا بھی اپنی ہی توہین سمجھتے ہیں۔ جب تک فیسکو کو قانونی اور مالی طور پر جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا، سرگودھا کی بستیوں میں رہنا موت سے جواء کھیلنے کے مترادف رہے گا۔ ان گھروں میں جلنے والے بلب ترقی اور روشنی کے نہیں بلکہ اس ریاست کی علامت ہیں جو اس وقت تک آنکھیں نہیں کھولتی جب تک کرنٹ کسی اور خاندان کو اجاڑ نہ دے۔
*******


