ملک بھر سے مسیحی سیاسی سماجی اور مذہبی راہنما ایک ہفتے سے ایچ نائین سیکٹر اسلام آباد میں احتجاج کرتےہوئے اسلام آباد میں مسیحی بستی رمشا کالونی مشرف کالونی علامہ اقبال کالونی اور مکسین کالونی واقعہ پر مسیحی برادری سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے مسیحی متاثرین کےدرمیان کھڑے ہیں ان حالات میں محترم فیلبوس کرسٹوفر ایم پی اے نے بھی اسلام آباد کرسچن بستیوں کو خالی کرنے کے لیے ثڈآ کے نوٹس جاری کرنے کے خلاف پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کروا دی ہے اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان غریب لوگوں سے چھت نہ چھینی جائے یا ان کو متبادل جگہ الاٹ کی جائےپنجاب اسمبلی کے فلور پر اپنی قرارداد میں بابا فیلبوس ایم پی اے رقم طراز ہیں کہ’’میں یہ قرارداد پیش کرتاہوں کہ صوبائی اسمبلی پنجاب کا یہ معزز ایوان وفاقی حکومت‘‘ سے اس امر کی سفارش کرتا ہے کہ اسلام آباد میں رمشا کولونی مشرف کولونی علامہ اقبال کولونی اور مسکین کولونی جس میں تقریبا تین ہزار
مسیحی و مسلم خاندان آباد ہیں سی ڈی اے کی جانب سے ان کو گھروں سے بے دخل کرنے اور خالی جگہ کرنے کے نوٹسسز جاری کیے گئے ہیں میں یوں وفاقی حکومت سے اس فیصلے پر ہمدردانہ غور کرنے اور از سرنو جائزہ لینے کی اپیل کرتا ہوں کہ ان بستیوں میں سالہا سال سے غریب ومستحق لوگ رہائیش پذیر ہیں یہ لوگ اسلام آباد جیسے خوبصورت شہر کو آباد کرنے والے ہیں ان کے سر سے چھت جیسی نعمت چھیننا ان خاندانوں کے لیے کسی آفت سے کم نہیں ہے لہذہ وفاقی حکومت معاملہ فہمی کے ساتھ اس مسئلے کا حل نکالے اور ان غریب پاکستانی افراد کو بے گھر کرنے سے اجتناب کرے یا ان مذکورہ بستیوں کے لوگوں کو اس کے متبادل کوئی سرکاری جگہ الاٹ کی جائے”
قارئین ! وزیر اعلیٰ پنجاب کا “اپنی چھت اپنا گھر” پروگرام کم آمدنی والے افراد کو ذاتی گھر فراہم کرنے کا ایک انقلابی منصوبہ ہے، جس کے تحت 15 لاکھ روپے تک کا بلا سود قرضہ 7 سالہ آسان اقساط پر دیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا ہدف 100،000 سے زائد گھروں کی تعمیر ہے۔حکومت وقت غریب لوگوں کے لیے اگرچھت جیسی نعمت” اپنی چھت اپنا گھر پروگرام” کے تحت فراہم کرنا چاہتی ہے تو ان متاثرہ بستیوں کے لوگوں کے سر سے چھت جیسی نعمت چھیننےکی بجائے انکی کولونیوں اور کچی آبادیوں کو الاٹمینٹ سرٹیفیکیٹ جاری کرے۔
یہ ان کا جائز اور مناسب مطالبہ ہےجب یہ ممکن ہوگا تو اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کی یہ مشابہت ہے جسے لوگوں کی چھتوں سے محروم کرنے کے بغیر جاری رکھا جانا انتہائی ضروری ہے ہماری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ پیپلز پارٹی روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگاتی رہی لیکن یہ صرف نعرہ ہی تھا لوگوں کی چھت سے محرومیاں کل بھی تھیں اور آج بھی ہیں لیکن مسیحی کچی کولو نیاں ملک کے لاتعداد شہروں میں موجود ہیں پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو دور میں کچھ لوگوں کو دس مرلہ یا ساتھ مرلہ سکیموں کے ذریعے مالکانہ حقوق کے سر ٹیفکیٹ جاری کیے اور اب نون لیگ کو بھی کچی مسیحی آبادیوں کو بھی مالکانہ حقوق دینے چاہئیے اور یہ انتہائی ضروری کام ہے محترمہ مریم نواز وزیر اعلی’ پنجاب میاں محمد شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان کچی مسیحی آبادیوں کو مالکانہ حقوق دے اور انکو سرٹیفکیٹ جاری کرے۔
تازہ ترین صورت حال کے تحت چئیرمین کیپیٹل ڈویلپمینٹ اتھارٹی نے سروے کے ذریعے اسلام آباد کی مذکورہ آبادیوں کو الاٹ مینٹ دینے کا فیصلہ کرنا ہے حالانکہ جب یہ مذکورہ آبادیاں گھنا جنگل تلف کرکے آباد کاری ہوئی یہاں کے مختلف شہروں سے آئے غریب مسیحی لوگوں نے یہ کولونیاں آباد کی تھیں وہ بھی سوچتے ہونگے کہ ہماری اپنی چھت اپنا گھر ہوگا اور یہ پروگرام وزیر اعلی’ پنجاب کے اپنی چھت اپنا گھر پروگرام سے مشاہبے ضرور ہے کم لاگت میں صرف مالکانہ حقوق فراہم کرنے سے ہی اپنی چھتیں اور گھر مجبور اور مفلس تقریبا” 35 سو خاندان بس جائیں گے۔لوگوں کی چھت سے محرومیاں کل بھی تھیں اور آج بھی ہیں لیکن مسیحی کچی آبادیاں ملک کے لاتعداد شہروں میں موجود ہیں جن کو الاٹمینٹ سر ٹیفکیٹ جاری کرنا انتہائی ضروری ہیں اور محترمہ مریم نواز پنجاب میں اور میاں محمد شہباز شریف کچی مسیحی آبادیوں کو مالکانہ حقوق ضرور دے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب جیسا خواب غریب مسیحیوں نے دیکھا چڑیا کے گھونسلے بنانے کی طرح جنگل میں ہی بسیرا کر لیا سڑکیں بجلی پانی گیس حکومت وقت نے وقت کے ساتھ دے دی اور اپنی چھت اپنا گھر بن گیا جو کہ وزیر اعلی’ پنجاب کے اپنی چھت اپنا گھر کے پروگرام کے مشابہ ہے بہت سے سنجیدہ مسیحی راہنماوں کے ساتھ ساتھ فوٹو سیشن کرنے والے اور نام نہاد لیڈر بھی یہاں پہنچے ان کا شکریہ کہ کچی آبادیوں کے لیے آواز اٹھا کر قومی غیرت کا ثبوت دے رہے ہیں۔
اس احتجاج کی بر وقت کال بہت سے مسائل کے حل کا سبب بن گئی ہے کہ حکومت وقت اس مسئلے پر خصوصی غور کرے گی اس کا فیصلہ اسمبلیوں میں ہو سی ڈی اے میں ہو یا وفاقی کابینہ یا صوبائی کابینہ میں مسیحی بستیوں کے لوگوں پر حکومت وقت کی سیاسی جماعتوں میں ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ کر گزریں معروف قلم کار یوسف خوشپوری اُنہی بستیوں کا باشندہ ہے وہ مجھے بتا رہا تھا مسیحی لیڈر شپ نے متاثرین کے حوصلے بلند کر دئے ہیں ایک قلم کار کچی بستی میں رہنے پر مجبور ہے اور پر امید ہے کہ اس کی چھت گھر ضرور اپنا ہوگاکیونکہ بستی بسنا کھیل نہیں ہے بستے بستے بستی ہے۔
*******



