کرسچن فیلوشپ آف پاکستان کے پلیٹ فارم سے برکت ٹی وی کے زیرِ اہتمام ایک اہم پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماریہ شہباز کیس فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور انصاف کی فراہمی پر زور دیا گیا۔ اس موقع پر مسیحی برادری کے ممتاز مذہبی و سماجی رہنماؤں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
پریس کانفرنس میں شریک نمایاں شخصیات میں بشپ ندیم کامران۔ بشپ عرفان جمیل۔بشپ نعیم پرشاد۔ ڈاکٹر لیاقت قیصر۔ پاسٹر نوید۔ ایم پی اے طارق گل۔ سابق ممبر قومی اقلیتی کمیشن البرٹ ڈیوڈ ۔ایڈووکیٹ لوق وکٹر۔ آصف بھٹی۔ پاسٹر منور خورشید۔ انتھونی اعجاز لیموئیل۔ پاسٹر ساجد سراج۔ لیاقت جاوید۔پاسٹر ڈیوس جولیس ۔ خُرم یونس اور دیگر شامل تھے۔ اس کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کر کے یکجہتی کا اظہار کیا۔
مقرر ین نے کہا تیرہ سال کی بچی کا اگر قومی شناختی کارڈ نہیں بن سکتا ۔ وہ ووٹ نہیں ڈال سکتی ۔ وہ ڈرائیونگ لائسنس نہیں بنوا سکتی تو وہ اپنی مرضی سے اپنا مذہب کیسے تبدیل کر سکتی ہے؟ وہ اپنی زندگی کا اتنا برا فیصلہ یعنی شادی کیسے کرتی ہے؟
آئین کے مطابق اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی نہیں ہوسکتی ہے یہ قانوناً جرم ہے۔ یہ کون سا قانون ہے کہ تیرہ سال کی بچی کو اغوا کر کے جبراً مذہب تبدیل کروایا گیا اور پھر شادی کر دی گئی۔ اور فاضل جج نے شادی کو جائز قرار دے دیا۔ کیا ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان میں رہتے ہیں؟ یا ہم طاقتوروں کے رحم و کرم پرکسی جنگل میں رہ رہے ہیں۔ مسیحی برادری اِس فیصلے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اور اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے۔
تقریب کے روحِ رواں پاسٹر سالک جان برکت کی کاوش کو شرکاء نے بھرپور سراہا، جنہوں نے مختلف چرچ لیڈرز کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے اتحاد و ہم آہنگی کی عملی مثال پیش کی۔ پروگرام کی خاص بات یہ رہی کہ ہر مقرر کو اپنے خیالات کے اظہار کا مساوی اور مکمل موقع فراہم کیا گیا، جس سے ایک مثبت، کھلا اور تعمیری مکالمہ ممکن ہو سکا۔
مقررین نے اس اقدام کو مسیحی برادری کے درمیان اتحاد، باہمی احترام اور مشترکہ جدوجہد کی ایک مضبوط بنیاد قرار دیا، اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ایسے پلیٹ فارمز کے ذریعے اجتماعی آواز کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔ یہ پریس کانفرنس ایک جمہوری اور منظم طرزِ عمل کی عکاسی کرتی ہے، جو نہ صرف قیادت بلکہ کمیونٹی کی اجتماعی سوچ کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔
*******


