میرے ایک قریبی دوست نے جو کہ ایک کامیاب وکیل ہیں اور ریڈیو پاکیستان سے بھی وابستہ ہیں، مجھے ایک ایسا واقعہ سنایا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی پیغام ہے جسے عام ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ واقعہ بظاہر ایک معمولی سی بات لگ سکتی ہے، مگر درحقیقت اس میں ہمارے معاشرے کے ایک روشن اور امید افزا پہلو کی جھلک موجود ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف انسانی دیانتداری کی ایک اعلیٰ مثال ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ تمام تر منفی تاثر کے باوجود ہمارے اردگرد اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے کردار اور اصولوں پر قائم ہیں۔
دو اپریل دوہزار چھبیس کی صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے وکیل صاحب اپنی زوجہ محترمہ اور بیٹی کو علاج کی غرض سے سروسز ہسپتال لاہور کی ایمرجنسی میں پہنچے۔ اس وقت ان کی تمام تر توجہ مریض کی طبیعت پر مرکوز تھی، مگر حالات نے اچانک ایک ایسا رخ اختیار کیا جس نے اس پریشانی کو مزید بڑھا دیا۔ جب انھیں یہ پتہ چلا کہ ان کی زوجہ کا پرس کہیں گم ہو گیا ہے۔ اس پرس میں نقد رقم، قیمتی طلائی زیورات، شناختی کارڈ اور دیگر اہم دستاویزات موجود تھیں۔ یقینا ان حالات میں خود کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہسپتال آنے کی ٹینشین کے ساتھ یہ نقصان ایک اور صدمے کی صورت میں سامنے آیا۔
انہوں نے فوری طور پر ہسپتال کے مختلف حصوں میں ہر ممکن جگہ تلاش کی، لیکن لا حاصل جس سے مایوسی بڑھ گئی۔ آخرکار وکیل صاحب نے ہسپتال کے اندر موجود پولیس چوکی میں رپورٹ درج کروائی اور پھر متعلقہ تھانے جا کر باقاعدہ درخواست بھی دے دی تاکہ آئندہ کسی ممکنہ قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔اسی مایوسی کے عالم مریض کو لے کر گھر واپس آ گئے، دل میں فی زمانہ حالات کے باعث یہ احساس لیے کہ اب یہ پرس شاید کبھی واپس نہ مل سکے۔
اسی دن تقریباً پونے ایک بجے وکیل صاحب کو ایک کال موصول ہوئی۔ دوسری جانب سے ایک خاتون نے نہایت شائستگی سے اپنا تعارف میں بتایا کہ وہ سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں ڈیوٹی نرس ہیں، اور اطلاع دی کہ ان کی زوجہ کا پرس مل گیا ہے۔ وکیل صاحب کے لیے یہ لمحہ کسی غیر متوقع خوشی سے کم نہ تھا، لیکن پھر بھی ایک ہلکی سی بے یقینی دل میں موجود تھی۔وہ فوری طور پر ہسپتال پہنچے، جہاں نرس شازیہ اور ان کی ساتھی نرس اقصیٰ نے انہیں وہی پرس واپس کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب مریضوں کا رش کچھ کم ہوا تو اس دوران فرش پر پڑے ایک پرس کے ساتھ پاوں ٹکرانے سے پتہ چلا کہ ایک پرس فرش پر پڑا ہے، چونکہ صبح اس پرس بارے چہ مگویئاں ہورہی تھیں، اس لیے انہوں نے نہ صرف اسے محفوظ رکھا بلکہ اس میں موجود معلومات کی مدد سے رابطہ بھی کر لیا۔
وکیل صاحب کی حیرت اس وقت انتہا تک پہنچی جب انھوں نے پرس کھولا تو تمام رقم، زیورات، شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات جوں کے توں موجود تھے۔ ایسے دور میں، جہاں معمولی چیز بھی واپس ملنا مشکل ہو جاتا ہے، یہ منظر یقیناً ایک خوشگوار حیرت اور اطمینان کا باعث تھاجذبات سے مغلوب ہو کر وکیل صاحب نے ان نرسز کو بطور تحفہ یا انعام کچھ رقم پیش کرنا چاہی، مگر انہوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ صرف اپنا فرض ادا کیا ہے، کیونکہ ان کے پیشے کا تقاضا ہی دیانتداری اور مریض کی مکمل دیکھ بھال ہے۔ یہ الفاظ ان کے اعلیٰ کردار کی عکاسی کے ساتھ اس پیشے کی اصل روح کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
قارِئین کرام! یہ واقعہ ہمیں ایک پرانی مگر ہمیشہ سچی رہنے والی کہاوت کی یاد دلاتا ہے یعنی ایمانداری بہترین حکمتِ عملی ہے۔ صرف ایک جملہ نہیں بلکہ ایک ایسا اصول ہے جس پر عمل کر کے نہ صرف ایک فرد بلکہ پورا معاشرہ ترقی اور اعتماد کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔اگر ہم دنیا کے دیگر ممالک پر نظر ڈالیں تو وہاں بھی ایسے بے شمار واقعات سامنے آتے ہیں جو اس اصول کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ حال ہی جاپان میں ایک شخص نے سڑک پر پڑا ہوا لاکھوں ین مالیت کا بٹوہ پولیس کے حوالے کیا اور وہ محفوظ حالت میں مالک کو واپس مل گیا۔ یہ صرف قانون کا خوف نہیں بلکہ ایک اجتماعی اخلاقی شعور کا نتیجہ ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے مسافر کا قیمتی سامان واپس کر کے ایمانداری کی مثال قائم کی، جس پر اسے حکومتی سطح پر سراہا گیا۔ برطانیہ میں ایک سپر مارکیٹ کے ملازم نے ہزاروں پاؤنڈز کی گم شدہ رقم اس کے مالک تک پہنچا کر دیانتداری کو زندہ رکھا۔ یہ مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ایمانداری کسی ایک قوم یا علاقے کی میراث نہیں بلکہ یہ ایک عالمی انسانی قدر ہے۔ فرق صرف اس بات کا ہے کہ کہیں اسے اپنایا اور سراہا جاتا ہے اور کہیں اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں بھی ایسے گمنام لوگ موجود ہیں۔ ہم عمومی طور پر منفی خبروں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، جس سے ایک ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ گویا معاشرہ مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم مثبت واقعات کو بھی اسی شدت کے ساتھ اجاگر کریں تاکہ لوگوں میں اعتماد بحال ہو اور اچھائی کو فروغ ملے۔
سروسز ہسپتال لاہور کی انتظامیہ بھی ایسا ماحول فراہم کرنے میں تحسین کی لائق ہے، جہاں ایسے باکردار اور ذمہ دار افراد اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نرس شازیہ اور نرس اقصیٰ نے نہ صرف ایک کھوئی ہوئی امانت واپس کی بلکہ ایک ٹوٹتے ہوئے اعتماد کو بھی بحال کیا ہے۔ انھوں نے ایمانداری کے اصول کو صرف الفاظ تک محدود نہیں رکھا بلکہ اپنے عمل سے ثابت کیا کہ دیانتداری کسی بھی پیشے کی اصل روح ہے۔
قارئین کرام، پیشہ ورانہ ذمہ داری صرف اپنے کام کو مکمل کرنا نہیں بلکہ اس میں اخلاقیات، احساسِ ذمہ داری اور انسانیت کو بھی شامل کرنا ہے۔ اگر ہر فرد اپنے اپنے دائرہ کار میں اسی جذبے کے ساتھ کام کرے تو ہمارے معاشرے کی بہت سی مشکلات خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ دیانتداری ابھی زندہ ہےاورہمیں یاد دلاتا ہے کہ اندھیروں کے باوجود روشنی کے چراغ بجھے نہیں، اور ہمیں صرف انہیں تلاش کرنے اور سراہنے کی ضرورت ہے۔
میرے دوست کے اس تجربے نے نہ صرف ان کے دل میں بلکہ میرے دل میں بھی انسانیت پر یقین کو مزید مضبوط کیا ہے۔ ایسے لوگ واقعی ہمارے معاشرے کا اصل سرمایہ ہیں، اور انہی کی بدولت امید کا چراغ روشن رہتا ہے۔ اگر ہم اپنے روزمرہ معاملات میں اس سادہ مگر طاقتور اصول کو اپنا لیں تو معاشرتی بے اعتمادی، بددیانتی اور خود غرضی جیسے مسائل بڑی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ درحقیقت، ترقی یافتہ معاشروں کی بنیاد بھی اسی سوچ پر قائم ہے جہاں ایمانداری کو نہ صرف سراہا جاتا ہے بلکہ اسے ایک بنیادی قدر کے طور پر اپنایا جاتا ہے۔پاکستان ہمیشہ زندہ آباد
*******


