ریل گاڑی اور ریل کی پٹڑی کی دوستی بہت پرانی تھی۔ روانہ باتیں کرتیں۔ کبھی ہستیں کبھی روتیں۔ ایک دن ریل گاڑی تھکی تھکی تھی۔ ریل کی پٹڑی سے بولی، ” تیری بھی موجیں ہیں۔ ایک ہی طرح کی زندگی۔ لیٹے پڑے رہتی ہو۔” ریل کی پٹڑی بولی، ” تو بھی تو سفر مکمل کر کے یارڈ میں جا کر آرام کر لیتی ہو۔” ریل نے کہا، ” تم تو بس لیٹ لیٹ کر مزے کرتی ہو، مجھے تو سواریاں اور ان کا سامان اٹھا کر روانہ سفر کرنا پڑتا ہے۔” ریل کی پٹڑی کہنے لگی، ” تم تو سواریاں اور ان کا سامان اٹھاتی ہو میں تو تمہارا بھی بوجھ اٹھاتی ہوں۔” ریل گاڑی غصہ سے بولی، ” میری وجہ سے تمہاری ضرورت ہے۔ میں نہیں تو تم کہاں۔” پٹڑی بولی، ” دیکھو، منہ سنبھال کر بات کرو، پٹری ہے تو تو گاڑی چلتی ہے۔” بات بگڑتی گئی۔ گاڑی نے منہ پھلا کر کہا، ” جن پٹڑیوں پر گاڑی گزرنا بند کر دے وہ مٹی میں دب جاتی ہیں۔ لوگ ان کے نام و پتہ بھول جاتے ہیں۔ وہ قصہ پارینہ بن جاتی ہیں۔” یہ سن کر پٹڑی کا دل ٹوٹ گیا اور وہ ٹوٹ گئی۔ پٹڑی کے ٹوٹتے ہی ریل گاڑی پٹڑی سے اتر گئی اور جانی مالی نقصان ہو گیا۔ پتنگ کی ڈور ٹوٹ جائے تو پتنگ ڈاواں ڈول ہو کر زمین پر گرتی اور اپنی پہچان تک کھو دیتی ہے۔ گھوڑے کی لگامیں ٹوٹ جائیں تو گھوڑے کی آزادی نہیں بلکہ موت کا سفر آ جاتا ہے۔ تلخ کلامی اور تیز رفتاری رشتے توڑ دیتی ہے اور بالآخر ہلاکت دبوچ لیتی ہے۔
الغرض دوسروں کی بھی سنو۔ رشتے کمزور نہ پڑنے دو۔ یہ پٹریاں، یہ ڈوریاں اور یہ لگامیں ہی زندگی کی جان ہے۔ یہ ہماری نبضیں ہیں۔ یہ ای۔ سی جی کو اوپر نیچے جاتی لکیریں ہیں۔ یہ سیدھی ہو گئیں تو ۔۔۔رشتے، دوستیاں، رابطے، رسم و رواج اور آنیاں جانیاں چلتی رہنی چاہئیں۔
*******


