الوداع جوزف فرانسس! آپ کا شکریہ : یوسف بنجمن

پاکستان میں انسانی حقوق کی فضا سوگوار ہے اِس لئے کہ پسماندہ طبقات کے حقوق کی وہ توانا آواز ”خاموش“ ہو گئی ہے جس کی گونج انصاف کے ایوانوں میں مظلوموں کا مقدمہ بن کر گونجتی تھی۔ انسانی حقوق کا وہ سپہ سالار جس نے دہائیوں تک محرومیوں کے اندھیروں میں بھٹکتے اور کچلے ہوئے انسانوں کو راستہ دکھایا، آخر کار وقت کے بہتے دریا میں جا غروب ہوا۔

جوزف فرانسس۔ جو محض ایک نام نہیں بلکہ بے بسوں کے لیے ایک حصار، بے کسوں کے لیے ایک سائبان اور بے آوازوں کے لیے ایک چٹان تھے۔ آج خاموشی کی چادر اوڑھ کر ابدی سکون کی آغوش میں جا سوئے ہیں۔ (خداوند اُن کی روح کو ابدی آرام عطا فرمائے ) ۔ جوزف فرانسس کے رخصت ہونے سے انسانی حقوق کی جدوجہد میں جو خلا پیدا ہوا ہے اُسے زمانوں تک پُر کرنا ممکن نہ ہو گا، مگر اُن کی چھوڑی ہوئی میراث تاریخ کے سینے پر ہمیشہ ثبت رہے گی۔انسانی حقوق کی عالمی برادری اور وطنِ عزیز کے پسماندہ طبقات ایک ایسے بے باک درویش سے محروم ہو گئے ہیں جس نے کبھی مصلحت کے آگے سر نہیں جھکایا۔

جوزف فرانسس کی وفات کی خبر نے ہر اُس آنکھ کو اشکبار اور ہر اُس دل کو بوجھل کر دیا ہے جو سماجی برابری اور سماجی انصاف کے لئے درد رکھتا ہے۔ اُن کی وفات ایک فرد کا بچھڑنا نہیں بلکہ پاکستان میں مظلوموں کی ڈھال کا ٹوٹ جانا اور بے زبانوں کی ایک گرجدار آواز کا تھم جانا ہے۔

سال 1944 میں لاہور کی خاک سے اٹھنے والے اِس مردِ قلندر کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں خدمتِ خلق کو عبادت کا درجہ حاصل تھا۔ اُن کی شخصیت سادگی، انکسار، انتھک محنت اور اعلیٰ انسانی اقدار کا ایک حسین امتزاج تھی۔ اُن کے دوست اور احباب ہمیشہ اُنہیں عقیدت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

تعلیم سے فراغت کے بعد اگرچہ وہ غمِ روزگار کی زنجیروں میں بندھے، لیکن 1980 کی دہائی کے جبر اور بدلتے ہوئے سیاسی موسموں نے اُن کے اندر کے انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ انہوں نے دیکھا کہ غریب اور محنت کش طبقہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے اور اقلیتوں کے گرد امتیاز کے گھاؤ گہرے ہو رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ایک مستحکم ملازمت کو ٹھکرا کر خود کو انسانی وقار کے لیے وقف کر دیا اور حقوق کے فروغ کے کٹھن راستے کے مسافر بن گئے۔

جوزف فرانسس نے 1992 میں سماجی تنظیم بنام سینٹر فار لیگل ایڈ اسسٹنس اینڈ سیٹلمنٹ کی بنیاد رکھ کر انصاف کی ایک ایسی شمع روشن کی جس کی لو کبھی مدہم نہیں پڑی۔ اِس ادارے کے پلیٹ فارم سے انہوں نے تکفیر کے سینکڑوں جھوٹے مقدمات میں پھنسے بے گناہوں کے لیے وہ قانونی معرکے لڑے جن کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے ان مظلوموں کو تختہ دار کے سائے سے نکال کر زندگی کی نوید دی جن کی سانسیں ٹوٹنے کو تھیں۔ وہ صرف قانونی وکیل و مشیر ہی نہیں تھے بلکہ متاثرین کے لیے ایک شفیق باپ کی طرح تھے۔ انہوں نے اُنہیں پناہ دی، ان کے اُجڑے ہوئے کاروبار بسائے اور ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کا بِیڑا اٹھایا۔ بھٹہ مزدوروں کی نسل در نسل غلامی کی زنجیریں کاٹنا ہو یا جبری تبدیلیِ مذہب کا شکار ہونے والی معصوم کلیوں کو بازیاب کروانا۔ جوزف فرانسس ہر محاذ پر مظلوموں کی اُمید بنے رہے۔

جوزف فرانسس کی عظمت کا اعتراف صرف ایک طبقے تک محدود نہیں تھا، اُن کا وجود ہمہ گیر تھا۔ وہ صرف ستائے ہوئے مسیحیوں کے مسیحا نہیں، بلکہ بین المذاہب رواداری کے سچے علمبردار بھی تھے۔ انہوں نے جرات کے ساتھ مسلم علماء اور دیگر مذہبی رہنماؤں کے ساتھ مل کر مکالمے کی بنیاد رکھی تاکہ نفرت کی آگ کو محبت سے بجھایا جا سکے۔

اُن کا پختہ یقین تھا کہ معاشی طور پر با اختیار عورت ہی ایک مستحکم خاندان کی ضامن ہے۔ انہوں نے خواتین کو ہنرمند بنانے کے لیے جو مراکز قائم کیے، وہ آج بھی اُن کے روشن خیال ہونے کا ثبوت ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین کے ایوانوں میں اُن کی آواز ایک معتبر سند سمجھی جاتی تھی۔ انہوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا مقدمہ لڑا اور یہاں کے نظام میں مثبت اصلاحات کے لیے راہیں ہموار کیں۔

شانتی نگر کا سانحہ ہو، یا گوجرہ اور جوزف کالونی کی جلتی بستیاں جب بھی کسی مظلوم پر غم کے بادل چھائے، جوزف فرانسس نے ملبے کے ڈھیر پر بیٹھ کر متاثرین کے آنسو پونچھے اور ان کے گھروں کی تعمیرِ نو کو اپنی زندگی کا مشن بنایا۔

وہ ایک ایسے سیاسی مدبر تھے جنہوں نے اقلیتوں کو ”قومی شناخت“ کے احساس سے روشناس کروایا۔ اُن کا پیغام آج بھی نوجوان نہیں بھولے، وہ کہا کرتے تھے کہ تعلیم حاصل کرو، متحد رہو، ڈرنا چھوڑ دو کیونکہ خوف ہی غلامی کی بنیاد ہے ”۔

جوزف فرانسس کی زندگی جُرات کی اَن کہی داستانوں سے عبارت ہے۔ 90 کی دہائی کے تلاطم خیز دور میں جب ”سلامت مسیح کیس“ کی سماعت کے وقت ہجوم نے انہیں گھیر لیا، تو انہوں نے مسکرا کر کہا ”اگر حق کی گواہی میں جان جاتی ہے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں“ ۔

جوزف فرانسس گزشتہ چند برسوں سے عارضہ قلب اور دیگر جسمانی نقاہت کا شکار تھے، لیکن ان کا عزمِ مساوی حقوق کبھی کمزور نہ ہوا۔ وہ آخری دم تک مظلوموں کے حقوق اور تحفظ کے لئے فکر مند رہے۔ انسانی حقوق کا یہ مجاہد 11 فروری 2026 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

آج جوزف فرانسس جسمانی طور پر ہم میں نہیں رہے، لیکن ان کے کردار کی خوشبو اور ان کے کام کی جرات ہمیشہ فضائیں مہکاتی رہے گی۔ ہم انہیں صرف نم آلود آنکھوں کے ساتھ الوداع نہیں کہہ رہے، بلکہ اُس استقامت اور حوصلے کے لیے ان کا تہِہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جو انہوں نے مسیحی نوجوانوں اور کچلے ہوئے طبقات کے خون میں شامل کر دیا ہے۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading