یہ شان بیچتے ہیں آن بان بیچتے ہیں
بے ننگ و نام ہیں اپنا جہان بیچتے ہیں
یہ نسلیں سُود کی مَد میں تمام ہو جائیں
وہ حُسن و عشق کی ایسی دُکان بیچتے ہیں
بہت ہی سادہ ہیں کچھ جانتے نہیں لیکن
وصال و ہجر کا یہ سارا مان بیچتے ہیں
تمہارے شہر کے سوداگروں پہ کیا موقوف
کہیں پہ جسم کہیں روح و جان بیچتے ہیں
یہ اپنے لفظوں سے مسحُور کر کے رکھتے ہیں
زُبانِ چرب کا شُستَہ بیان بیچتے ہیں
ضروری یہ نہیں اِس سے شکار ممکن ہو
یہ خواہشات کے تیر و کمان بیچتے ہیں
بہت سے خواب سجاتے ہیں مارکیٹوں میں
یہ آس بیچتے ہیں آسمان بیچتے ہیں
*******

