جینز اور لاہور — ایک تاریخی رشتہ : ڈاکٹر جیفرسن تسلیم غوری

کچھ عرصہ پہلے میں نے اپنے بالوں کو رنگنے کے لیے مختلف کلر استعمال کیے، لیکن ہر بار مجھے الرجی ہو جاتی تھی۔ آخر کسی نے مشورہ دیا کہ “آپ نیلا رنگ استعمال کریں، جو نیل کے پودے سے حاصل ہوتا ہے اور اسے انڈیگو کہا جاتا ہے۔”
کہا گیا کہ اگر اس انڈیگو رنگ میں مہندی ملائی جائے تو قدرتی طور پر کالا رنگ بن جائے گا، جو سر پر لگانے سے کسی قسم کا ری ایکشن نہیں کرتا۔

میں نے یہ ترکیب آزمائی۔ دراز پر مختلف آن لائن اسٹورز سے تلاش کیا، انڈیگو پاؤڈر منگوایا، مہندی میں ملایا، مگر رنگ کالا نہ بن سکا۔یہ بات میرے لیے تجسس کا باعث بنی کہ آخر یہ انڈیگو رنگ کیا ہے؟ تحقیق شروع کی تو حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ یہ عام رنگ نہیں بلکہ ایک تاریخی پودا — نیل — ہے، جس نے صدیوں تک دنیا کے لباسوں کو نیلا کر کے اپنی پہچان بنائی۔

مزید کھوج پر معلوم ہوا کہ یہ نیل صرف کسی دور دراز ملک میں نہیں، بلکہ پاکستان کے شہر لاہور کی زمین پر بھی اُگایا جاتا تھا۔یہی نیلا رنگ جینز کے کپڑے پر چڑھایا جاتا تھا۔یہ سوچ کر دل میں فخر پیدا ہوا کہ پاکستان کی زمین نے دنیا کو رنگ دیا، اور وہ بھی ایسا رنگ جو آج فیشن کی علامت ہے۔

دنیا بھر میں آج جینز ہر نسل اور طبقے کا لباس بن چکی ہے۔چاہے نیویارک ہو، پیرس ہو یا لاہور، جینز ایک عالمی زبان بن گئی ہے۔لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس لباس کی جڑیں اسی سرزمین سے جڑی ہیں جہاں کبھی نیل کے کھیت لہراتے تھے۔

انیسویں صدی میں برصغیر، خاص طور پر پنجاب اور بنگال میں، نیل کے پودے بڑی مقدار میں اگائے جاتے تھے۔انگریز حکمرانوں نے کسانوں پر دباؤ ڈالا کہ وہ صرف نیل کی کاشت کریں تاکہ یورپ کی ٹیکسٹائل فیکٹریوں کو رنگ کی سپلائی مسلسل جاری رہے۔یہ استحصالی نظام بالآخر نیل تحریک ( انڈیگو مومنٹ) کی شکل میں سامنے آیا، جب کسانوں نے انگریزوں کے ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔

کہا جاتا ہے کہ جہاں آج شاہی قلعہ اور مینارِ پاکستان کے اطراف کا علاقہ ہے، وہاں کبھی نیل کے پودے اگائے جاتے تھے۔یہ پودے کاٹ کر ان سے رنگ نکالا جاتا، اور پھر یہی رنگ فرانس اور یورپ کی فیکٹریوں میں پہنچتا، جہاں ڈینم کپڑا اِسی رنگ سے رنگا جاتا — وہی کپڑا جسے آج ہم جینز کے نام سے جانتے ہیں۔

ایک ایسا فیشن جو کبھی مزدوروں کا لباس تھا، آہستہ آہستہ دنیا کی فیشن انڈسٹری پر چھا گیا۔آج جینز ایک مہنگا برانڈ بن چکی ہے، لیکن اس کے نیلے رنگ کی کہانی پاکستان کے شہر لاہور سے شروع ہوئی تھی۔لاہور کی مٹی سے اٹھنے والے نیل کے پودوں نے دنیا کے لباس کو پہچان دی۔

یہ تاریخ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہماری دھرتی صرف زرخیز نہیں، بلکہ تخلیق اور رنگ کی ماں ہے۔جینز اور لاہور کا یہ رشتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی فیشن کی تاریخ میں پاکستان کے شہر لاہور کی خوشبو، ہمارے کسانوں کی محنت، اور ہماری زمین کا رنگ ہمیشہ زندہ رہے گا۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading