ادب جب محض لفظوں کی صناعی نہ رہے بلکہ شعور، سچائی اور روحانی ذمہ داری کا مظہر بن جائے تو وہ شخصیت جنم لیتی ہے جسے محض لکھاری کہنا اس کے مقام کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر ایورسٹ جان اُن ہی نادر اہلِ قلم میں سے ہیں جن کے ہاں تحریر، فکر اور ایمان ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے سے پھوٹتے ہیں۔ اُن کی زندگی اور ادب اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ جب قلم خدا کے حضور جھکا ہوا ہو تو لفظ بھی دُعابن جاتے ہیں اور تحریر خدمت کا روپ دھار لیتی ہے۔
جب عہدِ حاضر کی ادبی فضا میں لفظ اپنی معنویت کھو دے اور تحریر مقصد سے محروم ہوتی دکھائی دیتی ہے، ایسے میں ڈاکٹر ایورسٹ جان کی شخصیت ایک ایسی صداقت آمیز آواز بن کر اُبھرتی ہے جو فکر کو تازگی، قلم کو وقار اور ایمان کو شعوری استحکام عطا کرتی ہے۔ وہ اُن اہلِ قلم میں سے ہیں جن کے لیے لکھنا محض فنی مشق نہیں بلکہ رُوحانی ذمہ داری اور فکری امانت ہے۔
ڈاکٹر ایورسٹ جان کا ادبی و فکری سفر پچیس برسوں پر محیط ہے—یہ مدت محض وقت کی گنتی نہیں بلکہ ریاضت، مطالعہ، دُعا اور مسلسل داخلی ارتقا کی داستان ہے۔ ان کے قلم کی سیاہی میں تجربے کی دُھوپ بھی شامل ہے اور خاموش دُعا کی نمی بھی۔ اِسی لیے اُن کی تحریریں سطحی نہیں بلکہ تہہ دار، وقتی نہیں بلکہ دیرپا اثر رکھتی ہیں۔ اُنہوں نے اب تک اٹھارہ کتابیں تصنیف کی ہیں، جو ان کی ہمہ جہت علمی و تخلیقی صلاحیتوں کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔ مسیحی تھیالوجی، بائبلی تفسیر، اخلاقیات، روحانیات، افسانہ، ناول، ڈراما، شاعری، عصری اور سائنسی موضوعات—یہ تنوع کسی انتشار کا نہیں بلکہ فکری توازن کا مظہر ہے۔ ان کی ہر کتاب اپنے اندر ایک سوال، ایک پیغام اور ایک ذمہ داری سموئے ہوئے ہے۔
بطور شاعر، ڈاکٹر ایورسٹ جان کا اسلوب لطافت اور روحانیت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی غزلیں دل کی سرگوشی اور ان کے گیت دُعا کی بازگشت محسوس ہوتے ہیں۔ ان کے کلام میں نہ دکھاواہے نہ شور، بلکہ ایک خاموش تاثیر ہے جو قاری کے باطن میں اُترتی چلی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری پڑھی نہیں جاتی، محسوس کی جاتی ہے۔
فکشن کے میدان میں وہ روایت کے امین اور جدت کے علمبردار دونوں نظر آتے ہیں۔ ٖرہم ٹانگیعر تہ ؐارس اور غہسپعل ہن ؐارس جیسی تخلیقات ان کی تخیل آفرینی، فکری جرات اور وسیع النظری کا واضح ثبوت ہیں۔ وہ ایمان کو نہ ماضی میں مقید کرتے ہیں اور نہ حال تک محدود، بلکہ اسے مستقبل اور کائنات کے تناظر میں بھی معنی عطا کرتے ہیں۔
بطور تھیولاجین، ڈاکٹر ایورسٹ جان کی تحریریں اعتدال، تحقیق اور دیانتِ علمی کا نمونہ ہیں۔ وہ متنِ مقدس کو جامد عقیدت یا بے مہار تعبیر کے درمیان معلق نہیں چھوڑتے، بلکہ فہمِ متن کی ایسی راہ دکھاتے ہیں جہاں ایمان اور عقل ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں۔ ان کا اسلوب حکم دینے کے بجائے مکالمہ قائم کرتا ہے، اور یہی وصف ان کی تحریروں کو مؤثر بناتا ہے۔
ڈاکٹر ایورسٹ جان کی شخصیت کا ایک نمایاں جوہر انکساری اور شکرگزاری ہے۔ وہ اپنی فکری و ادبی کامیابیوں کو اپنی ذات سے منسوب کرنے کے بجائے فضلِ الہٰی کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ یہی احساسِ بندگی ان کے قلم کو غرور سے محفوظ اور تاثیر سے لبریز رکھتا ہے۔
آج جب وہ اپنی اٹھارہ تصانیف کو ترتیب، تدوین اور جدید تقاضوں کے مطابق دنیا کے سامنے پیش کرنے کے مرحلے میں ہیں، تو یہ اقدام محض تکنیکی نہیں بلکہ ان کے فکری سفر کی فطری توسیع ہے۔ یہ اس بات کا اعلان ہے کہ ان کا قلم ابھی رکا نہیں بلکہ مزید شعور اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
ڈاکٹر ایورسٹ جان اُن شخصیات میں سے ہیں جن کے سبب ادب محض فن نہیں رہتا بلکہ خدمت بن جاتا ہے اور تحریر محض لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ روشنی کا وسیلہ بن جاتا ہے۔ ان کا قلم سچ کا امین، ان کی فکر نور کی پیامبر اور ان کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ جب فن ایمان سے جُڑ جائے تو تحریر عبادت کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔
دُعا ہے کہ خداوندِ قدوس ڈاکٹر ایورسٹ جان کے قلم کو مزید برکت عطا فرمائے، ان کے علم و فہم میں اضافہ کرے اور اُن کی تحریروں کو بے شمار دلوں کے لیے روشنی، تسلی اور ہدایت کا سبب بنائے۔ اُن کا ادبی و فکری سفر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے، اور اُن کا نام صداقت، دیانت اور ایمان کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہے۔ آمین!۔
*******



