یسوع مسیح: ربّانی تھکن کے مقابلے میں الہٰی سکون : ڈینیئل سلیمان

متی 11 باب 28 سے 30 آیات میں یسوع مسیح کی دعوت ایک گہرے یہودی اور ربّانی پس منظر کی حامل ہے، جہاں وہ “محنت اُٹھانے والوں اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگوں” کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ بوجھ محض روزمرہ زندگی کی مشکلات نہیں بلکہ وہ مذہبی دباؤ ہے جو پہلی صدی کے یہودی معاشرے میں فریسی ربّانی نظام کے ذریعے عام انسان پر ڈال دیا گیا تھا۔
یہاں “محنت اُٹھانے والے” کے لیے یونانی متن میں لفظ (کوپیؤنتِس) استعمال ہوا ہے، جس کا مفہوم ہے: انتہائی تھکن کے ساتھ محنت کرنا، مسلسل جدوجہد میں پِس جانا۔ یہ لفظ یونانی ادب میں اُن لوگوں کے لیے آتا ہے جو جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی اور روحانی تھکن میں مبتلا ہوں۔ عبرانی پس منظر میں اس کے قریب ترین مفہوم کو (یِگےعِیم) سمجھا جا سکتا ہے، یعنی وہ لوگ جو مسلسل مذہبی ذمہ داریوں اور شریعتی مطالبات سے نڈھال ہو چکے ہوں۔
اسی طرح “بوجھ سے دبے ہوئے” کے لیے یونانی لفظ (پے فور تِس می نوئے) ہے، جس کا مطلب ہے: کسی دوسرے کے لادے ہوئے وزن کے نیچے دب جانا۔ یہ لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ بوجھ خود اختیار کردہ نہیں بلکہ مسلط کیا گیا بوجھ ہے۔ یہی تصور متی 23 باب 4 آیت میں واضح ہوتا ہے، جہاں فریسیوں کے بارے میں کہا گیا کہ وہ “بھاری بوجھ باندھ کر لوگوں کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں”۔
عبرانی تصورِ آرام (مے نو خواہ) کے مطابق آرام صرف جسمانی سکون نہیں بلکہ روح کا وہ اطمینان ہے جو انسان کو خدا کے حضور قبولیت، رحم اور قربت سے حاصل ہوتا ہے (زبور 95 باب 11 آیت)۔( مے نو خواہ) کا عبرانی مفہوم “ٹھہراؤ، سکون، تحفظ اور الٰہی قرب” پر مشتمل ہے۔ یہ وہی آرام ہے جو تخلیق کے بعد خدا نے ساتویں دن میں پایا (پیدائش 2 باب 2 آیت)۔
شبت کے دن کو یہودی روایت میں اسی آرام کی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر فریسیوں نے شبت کے لیے 39 ممنوعہ اعمال (مے لا خوت) مقرر کر کے، جو اصل میں ہیکل کی خدمت سے ماخوذ تھے، شبت کو آرام کے بجائے ایک بھاری آزمائش بنا دیا۔ یوں شبت، جو خدا کی نعمت تھا، انسان کے لیے بوجھ بن گیا (مرقس 2 باب 27 آیت)۔
اسی مقام پر یسوع کا یہ فرمان کہ “میں تمہیں آرام دوں گا” نہایت اہم ہے۔ یہاں “آرام” کے لیے یونانی لفظ ( اَ نا پاؤ سِس) استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے: گہرا سکون، وقفہ، تازگی اور دوبارہ بحالی۔ یہ وہی لفظ ہے جو عبرانی (مے نو خواہ) کے مفہوم کو نئے عہدنامہ میں منتقل کرتا ہے۔
اسی پس منظر میں یسوع “جوّا” کا ذکر کرتے ہیں، جو عبرانی لفظ (عول) سے ماخوذ ہے اور ربّانی ادب میں “آسمانی بادشاہی کے جوّا” اور “تورات کے جوّا” کے لیے استعمال ہوتا ہے (مشنا، براخوت 2:2)۔ یونانی متن میں یہاں لفظ(زِی گوس) آیا ہے، جو زراعتی تناظر میں دو جانوروں کو ایک ساتھ باندھنے والے جوّے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ربّانی پس منظر میں یہ لفظ مکمل اطاعت، شاگردی اور استاد کی راہ پر چلنے کی علامت ہے۔
اصل یہودی تعلیم کے مطابق جوّا غلامی نہیں بلکہ محبت اور رضاکارانہ فرمانبرداری کی علامت تھا، جیسا کہ ربّی روایت کہتی ہے کہ “جو تورات کا جوّا قبول کرتا ہے اس سے دنیاوی بوجھ ہٹا دیا جاتا ہے” (پیر کے آووت 3:5)۔ مگر فریسیوں نے اسی جوّے کو انسانی تشریحات، سخت قوانین اور غیر ضروری پابندیوں سے اس قدر بھاری کر دیا کہ عام آدمی کے لیے شریعت رحمت کے بجائے خوف کا ذریعہ بن گئی (متی 23 باب 4 آیت)۔
اسی آیت میں یسوع فرماتے ہیں: “میرا جوّا اپنے اوپر لے لو اور مجھ سے سیکھو”۔ یہاں “سیکھو” کے لیے یونانی لفظ (ما تھے تے) ہے، جو شاگردی (ڈِسائپَل شِپ) کے مفہوم سے جڑا ہوا ہے۔ عبرانی روایت میں یہ تصور (لی مود) سے جڑا ہے، یعنی استاد کی زندگی کو دیکھ کر سیکھنا، نہ کہ محض قوانین حفظ کرنا۔
یسوع اسی بوجھل ربّانی نظام کے مقابلے میں اپنا جوّا پیش کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ “میرا جوّا نرم ہے اور میرا بوجھ ہلکا ہے” کیونکہ اس کی بنیاد قانون پر نہیں بلکہ فضل، رحم اور دل کی فرمانبرداری پر ہے (ہوسیع 6 باب 6 آیت)۔ یہاں “نرم” کے لیے یونانی لفظ (خرے ستوس) استعمال ہوا ہے، جس کا مطلب ہے: مہربان، فائدہ مند، قابلِ برداشت۔ یہ لفظ خدا کے اخلاقی حسن کو ظاہر کرتا ہے (رومیوں 2 باب 4 آیت)۔
“بوجھ” کے لیے یونانی لفظ (فور تی آن) آیا ہے، جو ایک ایسا وزن ہے جو انسان خود خوشی سے اٹھاتا ہے، نہ کہ زبردستی مسلط کیا گیا ہو۔ یہ وہ بوجھ ہے جو محبت میں اٹھایا جاتا ہے، نہ کہ خوف میں۔
یوں متی 11 باب 28 سے 30 آیات میں یسوع شریعت کو منسوخ نہیں کرتے بلکہ اسے اس کی اصل روح کی طرف واپس لاتے ہیں۔ وہ شبت کے آرام کو دوبارہ (مے نو خواہ) بنا دیتے ہیں، جو انسان کو خدا کے حضور سکون دیتا ہے، اور تورات کے جوّے کو فریسی سختی سے آزاد کر کے آسمانی بادشاہی کے جوّے میں بدل دیتے ہیں۔ یہی وہ آرام ہے جو محض ایک دن تک محدود نہیں بلکہ پوری زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اور انسان کو خدا کی محبت میں وہ نجات بخشتا ہے جس کا خلاصہ یوں بیان ہوا ہے: “کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا” (یوحنا 3 باب 16 آیت)۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading