پاکستان میں مسیحی وقار کے زوال کا باعث مذہبی قیادت : یوسف بنجمن

پاکستان کی تاریخ میں مسیحیوں نے ہمیشہ سے اپنے بلند اخلاق، بے لوث خدمت اور سماجی وقار کی وجہ سے ایک ممتاز مقام اور شناخت رکھی ہے۔ مسیحیوں کی پہچان امن، دیانتداری اور انسانیت کی تکریم میں رہی ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہماری تاریخ ان عظیم غیر ملکی اور مقامی مشنریوں کی قربانیوں سے عبارت ہے جنہوں نے اپنی آسائشیں قربان کیں اور اپنا سب کچھ اس مٹی اور مسیحی ایمان کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔ ان بزرگوں نے کبھی جائیدادوں یا ڈالروں کا لالچ نہیں کیا بلکہ مقامی ایمان کی بڑھوتری کے لئے ڈالر نچھاور کرتے رہے اور اپنےاعمال سے مسیحیت کا سر فخر سے بلند کیا۔

البتہ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں مسیحی قیادت کا صلیب یعنی خدمت اور حلیمی سے شروع ہونے ولا سفر اب کرسی، یعنی اقتدار، دولت اور انا کی جنگ پر آ کر ٹھہر گیا ہے۔ جب قیادت کا بنیادی مقصد مسیح کی مانند صلیب اٹھانا نہیں بلکہ اقتدار کی کرسی حاصل کرنا اور اسے بچانا بن جائے تو وہاں سے وہ زوال شروع ہوتا ہے جو آج ہمیں اپنی کلیسیاؤں میں نظر آ رہا ہے۔ یہ تبدیلی صرف انتظامی نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی المیہ ہے، جہاں ہم نے یسوع مسیح کی تعلیمات کو کرسی کی ہوس کے نیچے دفن کر دیا ہے۔

آج انتظامی، اخلاقی اور روحانی معاملات میں تمام فرقوں کی قیادت ایک دوسرے سے بڑھ کر منفی مثالیں قائم کر رہی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے واقعات اس زوال کی مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہیں۔ آئیے گزشتہ سالوں کے چند واقعات کا جائزہ لیتے ہیں:

حال ہی میں چرچ آف پاکستان کی لاہور ڈائسیس کی حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا بدانتظامی اور مالی بحران بشپ ندیم کامران کی معزولی کی صورت میں سامنے آیا۔ اس واقعے نے مسیحی قیادت کے اخلاقی اور مالی زوال کو واضح کر دیا ۔ بشپ ندیم کامران پر ڈایوسیس کے مرکزی فنڈز میں خورد برد، چرچ کی قیمتی زمینوں اور جائیدادوں کی غیر شفاف لیز اور اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی بھرتیوں کے الزامات عائد کیے گئے۔ معزولی کے فیصلے کو تسلیم نہ کرنے اور سول عدالتوں سے رجوع کرنے کی وجہ سے ایک ایسی قانونی جنگ چھڑی جس نے بشپ ہاؤس لاہور کو پولیس کی مداخلت اور تالہ بندی کا مرکز بنا دیا۔

بشپ ندیم کامران پر لگنے والے مالی خرد برد اور فنڈز کے غیر شفاف استعمال کے الزامات نے کلیسیا کے اس بیانیے کو مزید تقویت دی ہے کہ مذہبی قیادت کی ترجیح اب ‘ایمان کی پختگی’ نہیں بلکہ ‘مالی وسائل کا کنٹرول’ ہے۔ ‘مقدس عصا ‘ روحانیت کے بجائے ذاتی بقا اور مالی مفادات کے حصول کی علامت بن چکا ہے، جس نے عام مسیحی کے وقار کو خاک میں ملا دیا ہے۔

لاہور میں واقع یونائیٹڈ کرسچن ہسپتال ایک وقت میں مسیحی خدمت کا نشان تھا۔ اس ادارے میں بھی قیادت کے آپسی جھگڑوں، قبضوں اور عدالتی مقدمات کی وجہ سے ناصرف سر شرم سے جھک رہے ہیں بلکہ اربوں روپوں کی جائیداد بھی کھنڈر بنتی جا رہی ہے۔

گزشتہ کئی سالوں سے پریسبٹیرین چرچ آف پاکستان میں اقتدار کی ہوس نے گروہ بندی پیدا کر رکھی ہے۔ پریس کانفرنسوں کے ذریعے مذہبی قیادت نے ایک دوسرے پر فنڈز کے سنگین غبن کے الزامات لگائے ۔ اس نُورا کُشتی نے بھی مقامی مسیحی ایمان کو کوئی اعلیٰ مقام نہیں دلوایا۔

دوسری جانب پشاور ڈایوسیس کے بشپ ہمفری سرفراز پیٹرز پر مالی بد عنوانی کے الزامات اور عہدے سے چمٹے رہنے کی عدالتی جنگ نے کلیسیا کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ مقامی سطح پر کیتھولک چرچ کی تاریخ میں ایک آرچ بشپ کو مالی بدعنوانی کے الزامات کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر ” طویل چھٹی” پر بھیج دیا گیا۔

حالیہ برسوں میں اسلام آباد میں واقع سینٹ تھامس چرچ میں انتظامی کنٹرول کی جنگ اس قدر بڑھی کہ پولیس کو مداخلت کرنی پڑی، جس سے وفاقی دارالحکومت میں مسیحی وقار خاک میں مل گیا۔ اسی دوران سیالکوٹ و گوجرانوا لہ کے تاریخی مشنری سکولوں کی زمینوں اور عہدوں کی بندر بانٹ نے تعلیم کو پسِ پشت ڈال کر مسیحی وقار کو سخت آنچ پہنچائی۔

آج کا سب سے المناک منظر وہ ہوتا ہے جب کسی بشپ، پادری، فادر اور ایلڈرز جیسے مقدس عہدوں پر فائز لوگ ایک دوسرے کے خلاف میڈیا میں الزام تراشی کرتے، عدالتوں میں طلب کئے جاتے اور پریس کانفرنسیں کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ رویہ یسوع مسیح کی تعلیمات کے صریحاً منافی اور مسیحی اقدار کی روح کی بے حرمتی ہے۔ جب صلح کا درس دینے والے خود عدالتوں اور کچہریوں میں ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالیں گے، تو عام مسیحی اس سے کیا سبق حاصل کرئے ؟ اس ضمن میں مذہبی قیادت کی خدمت میں عاجزانہ طور پر چند سوالات پیش کئے جاتے ہیں:

کیا چرچ کے عہدے اور املاک اس لیے تھیں کہ انہیں “مورثی جائیداد” بنا لیا جائے؟
کیا آپ اپنی اگلی نسل کو مسیح کی صلیب تھما رہے ہیں یا قبضے کی گئی جائیدادوں کی فائلیں؟
ایمان کا وقار عالیشان گاڑیاں ہیں یا مسیح کی طرح کی حلیمی جس نے گدھی کے بچے پر سواری کی؟
یسوع ناصر ی کے نام لیوا کروڑوں کی گاڑیوں اور پروٹوکول کے بغیر چرچ میں داخل ہونا اپنی توہین کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا کبھی کسی بشپ، پادری یا کسی بھی مذہبی قیادت نے سوچا کہ وکلاء کو دی جانے والی لاکھوں کی فیسیں ان یتیموں اور بیواؤں کا حق ہے جن کے لیے مشنریوں نے یہ ادارے قائم کیے تھے؟

پاکستان میں مسیحیت کا وقار بحال کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہماری مقامی قیادت کو سوچنا ہونا گا کہ مشنریوں نے کیا بویا تھا اور وہ کیا کاٹ رہے ہیں۔ اگر وہ خود کو مسیح جیسی حلیمی اور مشنریوں جیسی بے لوث خدمت کے لیے وقف نہیں کر سکتے، تو انہیں اخلاقی جرات دکھاتے ہوئے ان عہدوں سے الگ ہو جانا چا ہیئے ۔ ہماری مسیحی پہچان اور عزت خاک میں مل رہی ہے اور اس کے اصل ذمہ دار ہمارے وہ مذہبی رہنما ہیں جنہوں نے خدمت کے بجائے اپنی انا اور کرسی کو ترجیح دی۔

*******

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Discover more from Tadeeb

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading