تمہیں حیرت ہوئی ہو گی یہ ممکن ہو گیا کیسے : سیمسن ثانؔی

Views: 270 تمہیں حیرت ہوئی ہو گی یہ ممکن ہو گیا کیسے دیے تھے رتجگے جس کو وہ آخر سو گیا کیسے لیے یہ داغ دامن کا پِھرا ہوں کُو بہ کُو یارو مری آنکھوں کا اِک ہی اشک اِس کو دھو گیا کیسے چھپایا تھا نہاں خانے میں جس کو عمر بھر میں نے…

مزید پڑھیے

کبھی عطا تو کبھی اِک بلا محبت ہے : وسیم جبران

Views: 363 کبھی عطا تو کبھی اِک بلا محبت ہے سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا محبت ہے عجیب درد ہے یہ میرا مسئلہ سن کر طبیب کہتا ہے اس کی دوا محبت ہے دوام کس کو ہے حاصل یہاں زمانے میں مِرے لیے تو یہ آب و ہوا محبت ہے کہا ہے تم…

مزید پڑھیے

کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا : جمشید پیٹر

Views: 272 کسی نے دُھوپ کو مٹھی میں بھر کے چھوڑ دیا تمام   شہر کو سائے  میں  دھر  کے  چھوڑ  دیا مَیں  ایک  برگ  تھا،  موسم  کے  ہاتھ  بیچ  دیا شجر نے مجھ  کو بھی آخر بکھر کے چھوڑ دیا وہ  ایک  شخص جو خوشبو کی طرح رہتا  تھا مِرے  وجود  کو رنگوں سے بھر…

مزید پڑھیے

نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا : جاوید ڈینی ایل

Views: 162 غزل نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن کسی سے بھی طبیعت کا کوئی…

مزید پڑھیے

کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے : جاوید ڈینی ایل

Views: 615 کوئی تقصیر ہوتی جا رہی ہے کہ وہ دِل گیر ہوتی جا رہی ہے مَیں حرفوں کو سمیٹے جا رہا ہوں تِری تصویر ہوتی جا رہی ہے کہانی اَن کہی تھی جو ہماری وہی تحریر ہوتی جا رہی ہے جو خوابوں میں رہی تصویر تیری وہی تعبیر ہوتی جا رہی ہے لبوں پر…

مزید پڑھیے

عجب تماشا سا چل رہا ہے : جاویدؔ ڈینی ایل

Views: 2,303 یہ غزل   تَحْتُ اللَّفْظ  سننے کے لئےسپیکر کے نشان پر کلک کیجئے شاعری: جاویدؔ ڈینی ایل    —-***—-تَحْتُ اللَّفْظ: ایوب جوزفؔ عجب تماشا سا چل رہا ہے غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے پنپ رہی ہے منافقت بھی عروج پستی میں ڈھل رہا ہے اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے حسد کی…

مزید پڑھیے

نظم؛ اَج آکھاں وارث شاہ نوں : امرتاؔ پریتم

Views: 2,498 اَج آکھاں وارث شاہ نوں کِتوں قبراں وچوں بول تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقا پھول اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لِکھ لِکھ مارے وين اج لکھاں دھي آں روندياں تينوں وارث شاہ نوں کیہن اٹھ دردمنداں دیا درديا اٹھ تک اپنا پنجاب اج بيلے لاشاں وِچھياں تے لہو…

مزید پڑھیے

سایہ دیں ہم یا ثمر کاٹ دیئے جاتے ہیں : ڈاکٹر عادلؔ امین

Views: 1,765 سایہ  دیں  ہم   یا  ثمر  کاٹ   دیئے  جاتے   ہیں ہم بھی  کیسے  ہیں شجر! کاٹ دیئے  جاتے  ہیں جب  فصاحت، نہ بصیرت، نہ بصارت ہے  یہاں اِس   لئے  اہلِ   نظر   کاٹ   دیئے   جاتے   ہیں ہم  برابر کے ہیں  شہری  تو  بتا  دے  کیوں  کر جان    کر   غیر    بشر    کاٹ   …

مزید پڑھیے

میرے مظلوم و غمزدہ لوگو : ساحل منیر

Views: 1,594   میرے مظلوم وغمزدہ لوگو میں ہوں اُس قوم کا نمائندہ جِس نے جبر و جفا کے سائے میں سالہا سال ظلم سہتے ہوئے زندگانی گزار ڈالی ہے پر کبھی آہ تک نہیں کی ہے لیکن اب ظلم کی سیاہ راتیں اپنے خونریز ہاتھ پھیلائے آخری حد کو چھونے والی ہیں محفلیں سُونی ہونے…

مزید پڑھیے