ٹرین کسی بپھرے اژدھے کی مانند تیزی سے اس کی جانب بڑھ رہی تھی۔ افسوس کہ وہ بے شمار تماشائیوں کے دیکھتے ہی دیکھتے اگلے لمحے موت کے منہ میں جانے والا تھا۔دونوں ٹرینوں کے شور میں کسی شخص کی آواز اس تک کہاں پہنچ سکتی تھی۔ ٹرین کا بلند آواز ہارن کانوں کے پردوں کو چیر رہا تھا۔ہماری ٹرین جو صبح سات بجے راولپنڈی سے روانہ ہوئی تھی اب کچھ ہی دیر میں لاہور پہنچنے والی تھی۔ سبھی مسافر جو بائیں جانب والی کھڑکی میں بیٹھے تھے، یقینا” اس شخص کے انجام سے خوف زدہ ہو چکے تھے۔ مگر وہ شخص خود اپنے انجام سے بے خبر ریلوے لائن کے کنارے کنارے چلتا ہی چلا جارہا تھا، نہ جانے کوئی سائیں یا پھر حالات کا مارا اپنی فکروں و پریشانیوں میں کھویا ہوا عام سا شہری تھا۔اگرچہ یہ چند سیکنڈ کا منظر تھا مگر میری آنکھوں اور تخیل میں کچھ اس طرح قید ہوگیا کہ میں آج تک اس سے جان نہیں چھڑا پایا۔دو ٹرینیں بیک وقت چیختی چنگھاڑتی دھواں اڑاتی لاہور کی سمت رواں دواں تھیں۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ دونوں ٹرینوں کے درمیان مقابلہ چل رہا ہے کہ کون کس پر سبقت لے جاتی ہے۔
راولپنڈی سے لاہور بذریعہ ٹرین سفر کرتے ہوئے ایک ایسا مقام آتا ہے جہاں پر بائیں جانب کسی اور شہر سے ریلوے لائن اس مرکزی لائن کے ساتھ ملتی ہے۔ بیک وقت ٹرینیں آئیں تو لگتا ہے کہ آپس میں تصادم ہونے لگا ہے۔ شکر ہے کہ ہماری ٹرین کے ہارن نے اس شخص کی توجہ اپنی جانب مبذول کروالی۔ مگر یہ کیا! اس نے گردن کو ہلکا سا دائیں جانب گھما کر ہماری ٹرین کو دیکھا اور کچھ دیر دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔کیوں کہ ہماری ٹرین کے بعض مسافر اسے خبردار کررہے تھے کہ دوسری ٹرین تیرے سر پر آپہنچی ہے، پیچھے مڑ کر دیکھ! حسب روایت جو چند لوگ اس شخص کے ارد گرد تھے وہ اپنی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے۔
افسوس کہ اس شخص کو اندازہ ہی نہ ہوسکا۔ وہ ٹرین کے اس قدر شور اور بلند آواز ہارن کو ہماری ٹرین سے ہی منسوب کررہا تھا۔ اسی اثنا میں دوسری ٹرین تیز رفتاری کے ساتھ آتی ہوئی اس کے دائیں کندھے سے ٹکرائی۔ شکر ہے کہ وہ پٹڑی پر نہیں چل رہا تھا ورنہ اس وقت وہ یقینا”چل بستا۔میں نے اس کو اچھل کر پرے گرتے دیکھا اور پھر دوسری ٹرین اس کے اور میرے درمیان حائل ہوگئی۔
تب میں نے سوچا کہ ہماری زندگی میں بعض مصیبتیں اس دوسری ٹرین کی مانند ہوتی ہیں۔ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا اور وہ ہمیں اچانک سے آگھیرتی ہیں۔ مصیبتیں تو آنی ہی آنی ہیں۔ حضرت ایوب فرماتےہیں،
“انسان جو عورت سے پیدا ہوتا ہے تھوڑے دنوں کا ہے اور دکھ سے بھرا ہے۔”
مصیبتیں ناگزیر ہیں مگر ان سے بچنے کے لیے ہمیں ہر وقت ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔ زندگی کی رہگذر میں آپ بھی صرف دائیں یا بائیں ہی نہ دیکھا کریں، وقتا”فوقتا” پیچھے مڑ کر بھی دیکھ لیا کیجئے کہیں کوئی دوسری ٹرین تو نہیں آرہی!
*******


