ادب کی اُمید ادیب ہوتا ہے جو لکھنے کی جرات،گہرائی میں کُود جانے کا فن اور دلیل ہے۔ جہاں جسمانی نشوونما اور اہتزاز کا وقوع پذیر ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے تو وہیں باطنی،لسانی،ادبی اور فکری میلانات میں بھی قدم بڑھانا ضروری ہے۔نہیں تو معاشرہ انارکی،سماج پر ایک استفہامیہ اور قومیت گروہی تعصبات میں بٹ جاتی ہے۔ جب یہ تاثرات براہ راست ادب پر اپنے نقش چھاپ دیں تو مزاحتمی تفریق تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کر دیتی ہے۔جس سےعقائد کابےدریغ استعمال معاشرے کی دہلیز کوکھوکھلا کر دیتاہے۔اس کا نتیجہ سماج اور ادب کے مابین صداقت کا خاتمہ ہوجاتاہے۔ان تاثرات کاخاتمہ اور ادب کو فروغ دینے کے لیے اکادمی ادبیات پاکستان نے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبےکا آغاز کیا۔جس کی یہ دوسری سالانہ فکری نشست، جہاں ملک بھر سے نوجوان قلم کاروں کو مدعو کیاگیا۔اس کا آغاز 15جنوری2026ء سے ہوا اور24جنوری2026 تک رواں دواں رہا۔ قلم کاروں میں ملک بھر سے بیس افراد کا وفد شامل تھا۔جن کے ہاں تخلیقی اظہار، فن کی تکینک اور ادب کو ترویج دینا اہم فرض ،جو اس بین الصوبائی اقامتی منصوبے کا حصہ بنے۔
منتخب ادیبوں،شاعروں،محققین اور دانشوروں نے اس منصوبے کا حصہ بن کر اپنی تخلیقی سوچ،کاوش اور تاثرات کو عملی طور پر دکھایا۔ اس امر میں یہ بات عیاں کرنا لازم ہے کہ ان شرکا میں پاکستان کے مضافات علاقوں سے بھی آئے جن میں خواتین قلم کاروں کی نمائندگی قابل ذکر رہی۔ دس روزہ قیام کے دوران صرف قلم کاروں کو ایک جگہ مقید کرنا مقصود نہیں بلکہ ان کے اندر ایک نئی جہت،ہم آہنگی،قلم کا نقش،تخلیقی صلاحیت اور تنقیدی کاوش کو فروغ دیناہے۔جس کے لیے اکادمی ادیبات پاکستان کی چیئرپرسن ڈاکٹر نجیبہ عارف نے مختلف اداروں اور صاحب قلم کے ساتھ مکالمہ،علمی گفت گو اور تنقیدی بیٹھک کا اہتمام کیا۔جوان کے مختلف تجربات،مشاہدات،تجزیات اورتخلیق سے بخوبی آگاہ کروا سکیں۔مقصد پر نظر، لفظ کی گہرائی،خیال کا مجسم،مکالمہ کا رنگ اور پڑھتے وقت ہونٹوں پراثر جو باطن تک اپنا پیرائیہ چھوڑے وہ قلم کار ہی ہوتا ہے۔
یہ گروہ ایک جگہ قیام کرتا تو ادب و تخلیق کی آواز پر گرفت رکھتا ہوا پایا۔جس کو”مِنی پاکستان یا چھوٹا پاکستان” کہا گیا۔جو پاکستان میں بولی جانے والی زبانوں،علاقوں اور سب سے بڑھ کر پاکستانی ادب کی نمائندگی کہلائی۔اس فکری نشوونما میں مرکزی کردار اکادمی ادبیات کی چیئرپرسن کا جو دن رات قلم کاروں کی حوصلہ افزائی میں مصروف پائی گئیں۔ پاکستان بھر سے بیس افراد کا انتخاب میرٹ پر کیا گیا۔ جن میں اہل قلم جناب غلام مجتبیٰ لاڑک گھوٹکی سے،جناب روشن شیخ خیرپور سے،جناب محمدعیسیٰ میمن موہنجودوڑو سے،محترمہ شہزین فراز حیدرآبادسے،محترمہ بسمہ نذیر پشارو سے،جناب خرم شہزاد مانسہرہ سے،جناب محمد ارشد چارسدہ،جناب محمد عمر خاں مینگورہ سے،محترمہ لاریب اختشام کوئٹہ سے،محترمہ زنیرہ گل کوئٹہ سے،جناب نورالحق شاہ خاران بلوچستان سے، جناب سیف الرحمن خضدار بلوچستان سے،محترمہ نازوعروج جڑانوالہ سے،جناب محمد لقمان لیہ سے، جناب عرفان حیدر شاہ شاہ پور سے،جناب امیرحمزہ شاکر ساہیوال سے، جناب یوحناجان حافظ آباد سے،جناب منظور حسین سکردو سے،محترمہ آمینہ یونس گھانچے سے اور جناب محمد مشتاق حسین نے مظفر آباد سے شرکت کی۔
ادب اُمید پیدا کرتا ہے جہاں سے زبان،احترام،اعتراف اور گہرائی میں کود جانے کی دلیل ملتی ہے جو قلم کار کی بدولت ہی ممکن ہے۔اسی کی ایک دلیل یہ قلم کاروں کا پورے پاکستان سے یہاں اکٹھا ہونا،ادبی ادارے سے تعلق اور تخلیق کو فروغ دینا مقصود ہے۔یہ قومی فکری نشست محض وقت پاس کرنا نہیں بلکہ ادبی شعورکو وسیع تر شعور کے فکری تناظر کے ساتھ حقیقت کی گتھیوں کوقابل فہم اور عمدہ اسلوب سے پیش کرنا ہے۔ادبی سفر میں معروف دانش ور جناب افتحار عارف،محترمہ کشور ناہید ممتاز ادبی شعور،ادیب جناب اختر رضا سلیمی نے مزاحمتی ادب، جناب فرخ یار صاحب نے تاریخی اور سیاسی مغالطوں پر بات کی۔ جناب حمید شاہد نے فکشن کی جدید اصطلاحات،جناب محمد اظہار الحق نے ادب اور ادیب کی عزت نفس،محترمہ ثروت محی الدین نے تخلیقی جہات اور کثیر السانی ادب، محترمہ قیصرہ علوی نے تخلیقی قوت پر گفت گوکی نیز سلمان باسط صاحب کی نئی کتاب ابریشم کا تعارف دیا۔محترمہ نعیم فاطمہ علوی افسانہ نگاری اورگرلز گائید پر روشنی ڈالی۔ جناب رحمان فارس سے غیر رسمی گفت گو کے سلسلہ کے ساتھ دیگر قلم کاروں سے وابستی اور جدید دور میں ادب کی شناخت پر نشست کی۔ان کے ساتھ معروف ادبی شخصیت حسن عباس رضا بھی کہیں پیچھے نہ رہے، وہ بھی اپنی قلم اور تاریخ کے عکس کو نئے قلم کاروں سے متعارف کروانے آ موجود ہوئے۔
جہاں یہ ثابت ہوا کہ لوگ جتنا بھی دور چلے جائیں آپ کا قلم خود یہ بصیرت اور طاقت رکھتا ہے کہ وہ خودبخود نزدیک آئیں گے۔یہی صلاحیت خدا کی طرف سے لکھاری کے کھاتے میں آئی۔یہ سلسلہ صرف باتوں تک نہیں بلکہ ان قلم کاروں کے گھر کی دہلیز تک خوش آمدید کہنے کو بے قرار پایا گیا۔جہاں ادبی نشست کے ساتھ مہمان نوازی اور ادب کی فضا کو فروغ اول معانی دیتا ملا۔ اولاد اور والدین کا رشتہ تقویت کی کڑی کو چُھو رہا تھا۔یہی وجہ کہ ادیب اور مشہور لوگوں میں گراں قدر فرق ہوتا ہے۔ وہ فرق ان شخصیات سے باہم گفت گو، روابط کی تقویت اور لکھنے کہ جرات کے آثار پر قلم بند ملی۔ چائے باتیں اور کتابیں کے عنوان پر خصوصی نشست کااہتمام ہوا جہاں مختلف زبانوں کے قلم کاروں نے اپنے خیالات اور تجزیات کو پاکستانی زبانوں میں بیان کیا۔ ان میں پشتو،پنجابی،سندھی،بلتی،بلوچی،اُردو اور انگریزی قابل ذکر رہی۔ان کو پاکستانی لسانیات کا نام دیا گیا جو کسی بھی پاکستانی خطہ یاعلاقہ میں بولی جاتی یا سمجھی جاتی ہیں۔جس میں دیگر زبانوں کے ترجمہ اس کی اہمیت،تنقید،فلسفہ اور ادب کے مابین تعلق کو عیاں کیا۔ اس کا مقصد قومی اور بین الاقومی ادب کو فروغ اور قلم کاروں کے ادبی فن کو فروغ دینا ہے۔
اس قومی اور بین الاقومی فروغ کے لیے دیگر اداروں کے ساتھ باہمی ربط کا احسن قدم عملی طور پر اُس وقت رونما ہوا جب یہ نئے نوجوان لکھاریوں کو پاکستان کے مختلف اداروں میں متعارف کروانے لے گئے۔ وہاں ان کے ساتھ مکالمہ اور تخلیقی امور پر تفصیلی بات ہوئی۔ ان میں قابل ذکر نیشنل بُک فاونڈیشن،ادارہ فروغ قومی زبان،نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی،لوک ورثہ،ادارہ فروغ قومی زبان،نمل یونی ورسٹی،پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس اور دھرتی رائیٹر کلب راولپنڈی شامل ہیں۔ان تمام اداروں پر جانےسے قبل، اس کے دوران اور وہاں جا کر تمام فکری نشست اور مقررین سے نئے نوجوان قلم کاروں کو متعارف کروانے میں ڈاکٹر بی بی امینہ قابل ذکر رہی ہیں۔ جو اپنی محبت اور علمی گفت گو سے فروغ ادب،لسانیات کی مٹھاس اور اس کے ربط کے تاثرات کو دونوں طرف ایک ہی وقت میں تقسیم کرتی ملیں۔ یہی وہ گہرائی جوکُود کر اہل قلم کو سوچنے پر مجبور اور حوصلہ کی دلیل دیتی رہی ہے۔ زاہد بھائی کا ذکر نہ ہو تو وہ بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ بھی ادب اور عادات کے درمیان اہم کڑی رہے۔ جہاں جانا اور جب بھی جانا فکری اہتمام کا بندوبست ہوا۔ جناب میر نواز سولنگی صاحب بھی اسی بین الصوبائی اقامتی منصوبے کےاہم رُکن رہے۔ جو اپنی باتوں، اسلوب نگارش اور اسلوب فن سے حاضرین کو ثقافتی اور تہذیبی معلوماتی فراہم کرتے ملے۔
مجموعی تاثرات اور مقررین کی گفت وشنید سے شرکا اور ادب کے مابین دوری ختم ہونے اور ایک ہم آہنگی کو تقویت ملنے کے نقوش ملے۔جو ان بیس افراد پر ہی نہیں پورے پاکستان کے کونے کونے میں ادبی، لسانی،تہذیبی،ثقافتی اور مذہبی رواداری کو فروغ دینے کا دوسرا نام دیا جا سکتا۔
تقریب کے اختتام پر شرکا کو اسناد اور قیمتی کتابوں کے تحائف پیش کیے گئے۔جن میں احساس، جذبات، اُلفت بھری نگاہ اور دور اندیشی آنکھوں میں پانی کے بہاو کا منظر دے رہا تھا۔جو شاید بیان کرنا مشکل ہے۔ پہلے دن جب گئے تو یہ محسوس کرتا تھاکہ یہ دس دن کیسے گزریں گے مگر وہاں سے نکلتے وقت یہ اندر سے آواز آ رہی تھی کہ اب بقیہ ایام کیسے گزاریں گے؟صرف ایک وہی منظر رونما تھا جب میکے سے رُخصتی کے وقت سب کو لگتا ہے۔ ذاتی حیثیت میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ یہ ان مٹ نقوش خاموشی میں ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ان سے وابستہ لوگوں سے مکالمہ کیے جا رہے ہیں۔ جو ماں اور اولادکے مابین اس کی ممتا ہی محسوس کر سکتی ہے بیان نہیں۔
*******



